پیرس اولمپکس: شوٹنگ مقابلوں میں تمغہ جتینے والی انڈین کھلاڑی منوبھاکر جنھیں پستول حاصل کرنے لیے جدوجہد کرنا پڑی


Mannu Bhakar
پیرس میں جاری اولمپکس کے جس شوٹنگ کے مقابلے میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس میں انڈیا نے اپنا پہلا تمغہ جیت لیا ہے۔ اولمپکس کے شوٹنگ کے مقابلے میں پاکستان کی کشمالہ طلعت نے 31 ویں جبکہ انڈیا کی منوبھاکر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

منو بھاکر نے اتوار کو پیرس اولمپکس میں خواتین کے 10 میٹر ’ایئر پسٹل شوٹنگ‘ کے فائنل میں کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ یہ ابھی تک پیرس اولمپکس میں انڈیا کے لیے پہلا تمغہ بھی ہے۔

منوبھاکر نے میچ میں 221.7 پوائنٹس حاصل کیے۔ اس مقابلے میں جنوبی کوریا کے کھلاڑیوں نے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے سے قبل بھی توقع یہی کی جا رہی تھی کہ منوبھاکر انڈیا کے لیے پیرس اولمپکس کا پہلا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گی اور انھوں نے یہ تاریخی کارنامہ انجام بھی دے دیا۔

یوں منوبھاکر اولمپک گیمز میں تمغہ جیتنے والی پہلی انڈین خاتون شوٹر بن گئی ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2021 میں انھوں نے بی بی سی ایمرجنگ انڈین سپورٹس وومن آف دی ایئر 2020 کا ایوارڈ بھی جیتا تھا۔

پیرس

’ایک ناقابل یقین کامیابی!‘

منو بھاکر کی جیت کے بعد ہریانہ کے جھجر ضلع کے گوریا گاؤں میں ان کے گھر پر جشن کا سا ماحول ہے۔

منو بھاکر کی والدہ سومیدھا بھاکر نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ’میں نے منو سے کبھی کوئی امید نہیں رکھی تھی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میری بیٹی جہاں بھی جائے، وہ خوش ہو کر واپس آئے اور اس کا دل نہ ٹوٹے۔‘

ان کے والد رام کشن بھاکر نے میڈیا کو بتایا کہ ’یہاں میرے پڑوسی مجھ سے زیادہ خوش ہیں۔ منو نے پیرس اولمپکس میں تمغہ جیتا ہے جس پر پورا ملک خوش ہے۔ میں اس کے لیے تمام ہم وطنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو وزارت کھیل اور فیڈریشن سمیت ہر طرف سے مدد ملی ہے، جس سے ان کے حوصلے میں اضافہ ہوا۔

منو بھاکر کے والد رام کشن نے مزید بتایا کہ ’منو سنہ 2016 میں جب 10ویں کلاس میں تھیں تب سے شوٹنگ کی مشق کر رہی تھیں۔‘ ان کے مطابق اس دوران ایسا وقت بھی آیا کہ منو نے اس کھیل سے ہٹ کر کچھ اور کرنے کا سوچنا شروع کیا۔‘

رام کشن کے مطابق یہ منو کی پرانی عادت ہے اور اسے ہم نے اس معاملے کو معمول کے مطابق لیا۔

ماضی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ منو نے دسویں تک بہت سارے کھیلوں میں قسمت آزمائی کی ہے۔ انھوں نے کراٹے میں قومی سطح پر چاندی کا تمغہ جیتا۔ اس کے علاوہ منو نے سکیٹنگ اور باکسنگ میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔

رام کشن کے مطابق ’منو بھاکر کے ابھی دو ایونٹ باقی ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ اچھی کارکردگی دکھائے گی۔‘

India

انڈیا کی صدر دروپدی مرمو نے منو بھاکر کو تمغہ جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’وہ شوٹنگ مقابلے میں اولمپک میڈل جیتنے والی پہلی انڈین خاتون ہیں۔ انڈیا کو منو بھاکر پر فخر ہے۔‘

منو بھاکر کی اس کامیابی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک تاریخی تمغہ! پیرس اولمپکس میں انڈیا کو پہلا تمغہ جیتانے پر شاباش منو بھاکر۔‘

وزیر اعظم مودی نے مزید لکھا کہ ’کانسی کے تمغے پر مبارکباد۔ یہ کامیابی اور بھی خاص ہے کیونکہ وہ انڈیا کے لیے شوٹنگ میں تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ ایک ناقابل یقین کامیابی!‘

وزیر کھیل منسکھ منڈاویہ نے منو بھاکر کے کانسی کا تمغہ جیتنے کو ایک قابل فخر لمحہ قرار دیا۔

انھوں نے لکھا کہ ’مبارک ہو منو، آپ نے اپنی مہارت اور لگن کا مظاہرہ کیا، آپ انڈیا کے لیے اولمپک میڈل جیتنے والی پہلی خاتون شوٹر بن گئی ہیں۔‘

کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے لکھا کہ ’آپ کی کامیابی آپ کی غیر معمولی مہارت اور استقامت کا ثبوت ہے۔ ہمیں آپ پر بے حد فخر ہے! یہ اہم موقع لاتعداد نوجوان کھلاڑیوں کو بہترین کارکردگی کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دے گا۔‘

منو بھاکر نے ہفتہ کو اولمپکس کے کوالیفکیشن راؤنڈ میں 580 پوائنٹس کے ساتھ تیسرا مقام حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

وہ ٹیٹو جو منو بھاکر کو پیرس اولمپکس میں تمغے تک لے گیا

منو بھاکر نے ٹوکیو اولمپکس 2020 میں اسی ایونٹ میں 12 واں مقام حاصل کیا تھا۔ ٹوکیو 2020 کے دوران منو بھاکر کی پستول میں خرابی کی وجہ سے ان کے چھ منٹ ضائع ہو گئے تھے اور یوں وہ دو نمبرز کم ہونے کی وجہ سے فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہیں۔

ٹوکیو اولمپکس 2020 کے دوران خراب کارکردگی کے بعد منو بھاکر نے خود کو متحرک رکھنے کے لیے اپنی گردن کے پچھلے حصے پر ’سٹل آئی رائز‘ کا ٹیٹو بنوایا اور سنہ 2024 میں انھوں نے پیرس اولمپکس میں تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون شوٹر بن کر تاریخ رقم کی۔

منوبھاکرنے کہا کہ ’سٹل آئی رائز‘ کے الفاظ میرے شوٹنگ کیریئر کا دل بھی ہے۔ یہ میرے لیے متاثر کن الفاظ تھے، اس لیے میں نے اسے ٹیٹو کروانے کا فیصلہ کیا۔‘

منو بھاکر نے کہا کہ میں کچھ عرصے سے اس کو ٹیٹو کروانے کا سوچ رہی تھی لیکن یہ ایک مستقل ٹیٹو ہے اس لیے مجھے کئی بار سوچنا پڑا کہ میں اسے کہاں کرواؤں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے جسم کے کسی ایسے حصے پر ٹیٹو نہیں بنوانا چاہتی تھی جہاں وہ نظر آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، میں اسے مسلسل دیکھنے سے بور ہو سکتی تھی، اس لیے میں نے اسے اپنی گردن کے پچھلے حصے پر کروانے کا سوچا۔‘

منوبھاکر نے کہا تھا کہ ’ٹوکیو میرے لیے ماضی ہے اور میں اب بھی آگے بڑھ رہی ہوں۔‘

16 سال کی عمر میں دو گولڈ میڈل جیتے

Mannu Bhakar

منو ہریانہ کے جھجر ضلع کے گوریا گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ ان کی والدہ سکول میں پڑھاتی ہیں جبکہ ان کے والد میرین انجینیئر ہیں۔

سنہ 2018 میں منو بھاکر نے میکسیکو میں انٹرنیشنل شوٹنگ سپورٹس فیڈریشن (آئی ایس ایس ایف) میں انڈیا کے لیے دو سونے کے تمغے جیتے تھے۔

منو نے 10 میٹر ایئر پسٹل (خواتین) کی کیٹگری میں پہلا طلائی اور دوسرا طلائی 10 میٹر ایئر پسٹل (مکسڈ ایونٹ) میں جیتا تھا۔ 16 سالہ منو نے ایک ہی دن میں شوٹنگ میں دو گولڈ میڈل جیت کر نیا ریکارڈ بنایا تھا۔ وہ ایسا کرنے والی سب سے کم عمر خاتون کھلاڑی تھیں۔

اس تقریب کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار سروج سنگھ نے منو بھاکر کے والد رام کشن بھاکر سے بات کی۔

بات چیت کے دوران رام کشن بھاکر نے بتایا تھا کہ وہ میرین انجینیئر تھے اور انھوں نے اپنی بیٹی کی خاطر نوکری چھوڑ دی تھی۔ ان کے مطابق کئی کھیلوں کو آزمانے کے بعد منو نے سنہ 2016 میں شوٹنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

’منو کے شوق پر نوکری قربان کر دی‘

منو بھاکر کے والد رام کشن بھاکر نے بتایا کہ جب منو نے پہلی بار سکول میں کسی تقریب میں شرکت کی تو اس نے اتنی درستگی سے نشانہ لگایا کہ سکول کے اساتذہ دنگ رہ گئے۔

پھر کچھ مشق اور تربیت کے بعد مختلف مقامات پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ منو لائسنس یافتہ پستول کے ساتھ پبلک بسوں میں سفر نہیں کر سکتی تھیں اور چونکہ وہ بالغ نہیں تھیں اس لیے وہ شوٹنگ ایونٹ میں شرکت کے لیے خود گاڑی نہیں چلا سکتی تھیں۔

اس لیے رام کشن نے اپنی بیٹی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے نوکری چھوڑ دی۔ نوکری چھوڑنے کے بعد وہ اپنی بیٹی کے ساتھ شوٹنگ ایونٹس میں جایا کرتے تھے۔

رام کشن بھاکر نے بتایا تھا کہ ’شوٹنگ ایک بہت مہنگا کھیل ہے۔ ہر پستول کی قیمت دو لاکھ ہے۔ اب تک ہم نے منو کے لیے تین پستول خریدے ہیں۔ ہم ایک سال میں تقریباً 10 لاکھ روپے صرف منو کے کھیل پر خرچ کرتے ہیں۔‘

Mannu

پستول کے لائسنس کے لیے جدوجہد

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ منو کو اس پستول کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے ڈھائی ماہ انتظار کرنا پڑا جس سے انھوں نے ہندوستان کے لیے دو گولڈ میڈل جیتے تھے۔ عام طور پر کھلاڑیوں کو یہ لائسنس ایک ہفتے کے اندر مل جاتا ہے۔

اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے رام کشن بھاکر کہتے ہیں، ’مئی 2017 میں، میں نے بیرون ملک سے پستول لینے کے لیے درخواست دی تھی، لیکن میری درخواست جھجر کی ضلعی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھی۔‘

پھر یہ معاملہ میڈیا میں آیا اور اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لائسنس کے لیے درخواست دیتے وقت اس کی وجہ ’سیلف ڈیفنس‘ لکھا گیا تھا۔

اس کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی فوری تحقیقات کی گئی جس کے بعد سات دن کے اندر لائسنس جاری کر دیا گیا۔

منو کو اس کے ہم جماعت سکول میں ’آل راؤنڈر‘ کہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منو نے باکسنگ، ایتھلیٹکس، سکیٹنگ اور جوڈو کراٹے جیسے کئی کھیلوں میں اپنی قسمت آزمائی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp