خوشی کے تعاقب کا وبائی مرض ( 4 )

اپنی کیمیائی بناوٹ کی وجہ سے خوشی کی تحریک بہت حد تک ایڈیکٹو ہے۔ نا ختم ہونے والی خوشیاں اپنی کیمیائی ساخت میں دوسری ایڈیکشن جیسے منشیات وغیرہ جیسی ہی ہیں۔ ان سے تھوڑی سی دوری بھی ودڈرال کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ بچوں میں اس عمل کا بہت آسانی سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ایک ویڈیو گیم کھیلنے والے بچے کو کچھ دیر تک گیمز سے دور رہنا پڑے تو ان میں بے صبری، اکتاہٹ و بیزاری اور فرسٹریشن وغیرہ بتدریج بڑھ جاتی ہیں۔ باقاعدگی سے ٹی وی سیریل دیکھنے والے کسی وقفے کی صورت میں اپنے معمولات میں ایک شدید کمی، بوریت اور خالی پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف درد سے دور بھاگنے سے ہم میں نفسیاتی مدافعت کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور گر کر دوبارہ اٹھنے کی توانائی کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فلموں اور ویب پر دکھائی دینے والے توانا و تونگر چہرے، رنگین کھانوں سے بھرے میز اور وسیع و پرشکوہ مکان ہر ایک کے دل میں یہ سب حاصل کرنے کی خواہش جگاتے ہیں۔ آئیڈیل کا حصول ویسے بھی راستے میں حارج رکاوٹوں، مطلوبہ وقت اور محنت کی وجہ سے مشکل ہوتا ہے لیکن ڈیجیٹل ائر برش کے بعد تو بالکل ہی ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس سے ہماری حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ہم مضطرب اور مضمحل ہو جاتے ہیں۔ پھر بددل، ناکام و ناخوش۔ بے وقعت، شکست خوردہ۔
خوشی کا کیمیائی تجزیہ، ہمارا کسی شے سے خوش ہونے کی اصل مقدار کا جائزہ نہیں لے سکتا۔ صرف ایک انسان خود ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے خوشی کے سروے ہی اس کو ماپنے کا پیمانہ ہیں۔ یعنی ہم کتنے پرسکون اور مطمئن وغیرہ ہیں۔ ایک ڈیٹا کے مطابق امریکہ میں سال میں چالیس ہزار اور دنیا میں دس لاکھ تک خودکشی کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔ دوسری طرف کئی ممالک میں خوشی کے گراف بھی نیچے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس دماغی صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ان ہی اعداد و شمار میں ایک مختلف ٹرینڈ بھی سامنے آیا ہے۔ زیادہ فی کس انکم اور زیادہ خوش لوگوں والے ممالک میں کئی مرتبہ خودکشیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس ممالک جن میں لوگ اپنی زندگیوں سے زیادہ مطمئن ہیں نہ ہی خاص خوش، وہاں یہ نمبرز کم ہیں۔ جس کے دو نتائج نکالے جا سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ زیادہ خوش ممالک میں تھوڑی سی کمی بھی ایسی ناکامی تصور کی جا سکتی ہے کہ زندگی بے کا ر لگے۔ اور دوسرا ایک کامیاب اور خوشیوں بھری مطمئن زندگی کے علاوہ بھی کچھ ہے جو ہمیں جینے پر آمادہ رکھ سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ خوشیوں کے عالمی تعاقب کے مثبت نتائج معاشرے میں خوشی کے انڈیکس کو ایک خاص حد سے اوپر کیوں نہیں لے جا پا رہے؟ اور کیا خوشیوں کو ایسے انڈیکس کرنا خلاف منطق نہیں ہے؟ ابھی تک دنیا کے تمام معاشروں میں معاشی اور طبقاتی فرق موجود ہے۔ تو کیا ہر غریب آدمی خوشی کی دوڑ میں ہمیشہ ہارا رہے گا اور کبھی خوش تصور نہیں کیا جائے گا؟ اور کیا ہر کامیاب شخص خوشی کی حتمی تصویر ہو گا اور کبھی ڈپریشن کا شکار ہو کر اپنی زندگی پر سوال نہیں اٹھائے گا؟
یا پھر غریب آدمی کی زندگی میں کچھ ایسی خوشیاں ہو سکتی ہیں جس کا ذکر انڈیکس میں نہیں تھا۔ یا یہ کہ ڈپریشن تو شاید شروع ہی امیروں کے گھر سے ہوا تھا۔ لیکن نہیں۔ آج ہم میں سے شاید ہی کوئی اس سچ سے ہوری طرح اتفاق کرے گا۔ ہماری آئیڈیل خوشیوں کی وائرل ویڈیوز ثبوت ہیں کہ ہم دنیا میں صرف مادیت زدہ خوشیوں کا انبار ہی چاہتے ہیں جس میں ہم ہمیشہ ہمیشہ رہیں۔
جب سے ہم خوشی کو ایک انفرادی فعل سمجھنے لگے ہیں، باہمی مسابقت اور مقابلہ بازی کی بنا پر ہمیں نہ صرف دوسروں سے زیادہ اور بہتر خوشی کی تلاش ہوتی ہے بلکہ اپنے خوش ہونے کے بعد عموماً ہمیں اس بات کی پرواہ بھی نہیں ہوتی کہ دوسرے لوگ کس حال میں ہیں۔ ہمارے ایونٹ کو سب سے بڑا اور شاندار ہونے کے پس منظر میں ہمارے اردگرد کے لوگوں کی بھوک اور لاچاری نظر انداز ہو جاتی ہے۔ ہماری اعلی تعلیم ڈگری یا نوکری کے سامنے ہمارے احباب کی بیروزگاری یا ناکامی غیر اہم دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے گھر کی رونق کی تصاویر ہمارے دوستوں کے گھر پھیلی بیماری یا بیکسی کو ماسک کر لیتی ہیں۔
اور یہ ایسے معاشرے میں ٹھیک ہے جہاں ہم اس اصول کو مان کر چلیں کہ زندگی میں ہر شخص کے لیے ایک سے آئیڈیلز کا حصول لازم اور ممکن ہے۔ لیکن وہ معاشرہ جو روز جزا کو مانتا ہے۔ جو مانتا ہے کہ دنیا دارالعمل ہے اور یہاں مادی وسائل کی متنوع تقسیم ہماری انسانیت ماپنے کا پیمانہ و بہانہ ہے۔ ہم امارت خوشحالی و کامیابی اور صحت و توانائی سے اسی طرح آزمائے جاتے ہیں جیسے غربت نقصان بیماری اور موت سے۔ یہاں مشکل اور آسانی باہم گندھی ہے۔ ابھی ہم ناکام ہیں نہ کامیاب۔ کہ ہر شے ایک مسلسل امتحان ہے۔ کہ ہر مقام پر غلطی کا امکان برابر موجود ہے۔ آخری لمحے تک کا سارا وقت سعی کے لیے مختص ہے۔ پھر ہم کس جواز کے تحت اس دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا تعین کرتے رہتے ہیں؟
کووڈ 19 کی وبا کے دنوں میں اور اس کے بعد دماغی صحت کے مسائل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لوگوں کی ایک دوسرے سے دوری نے سماجی میل جول اور سانجھ کے مطالعے میں نئے (وہی پرانے ) رجحانات کا جائزہ لیا ہے کہ انسان ایک دوسرے سے دور رہ کر خوش اور مطمئن نہیں رہ سکتا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی سے جن سماجی تبادلوں میں کمی آ گئی تھی وبا کے دنوں نے ان کی اہمیت کو اجاگر تو کیا ہے لیکن اس بات کو مکمل طور پر دوبارہ رائج کرنے میں کچھ وقت لگے گا کہ خوشی کو قومیانے، براہ راست مقصدِ زیست بنانے یا ہر وقت اس کی مقدار آنکنے سے خوشی حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ بہتر انسانی روابط دیرپا خوشی اور وسیع تر اطمینان کی اساس ہیں اور خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ اور تھوڑے بہت غم اور درد کی آمیزش سے خالص خوشی کا ذائقہ بہتر ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ زندگی کی معانی خیزی انسانی اطمینان کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ یہی حقوق العباد کی بنیادی کنجی ہے۔ اپنی اپنی خوشی کا چرخہ کاتنے سے زیادہ دوسروں کے درد دور کرنے میں ہم خود کو کارآمد محسوس کرتے ہیں اور زیادہ دیر تک خوش اور پرسکون رہتے ہیں۔ اس حقیقی یا دیرپا خوشی کا ہمارے مادی وجود کے علاوہ ہماری ذات کے غیر مرئی پہلوؤں سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ اس خوشی کے پنپنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ہماری ذات سے باہر کوئی معانی، مقصد یا مصرف ہو جو ہمیں انفرادی دائرے میں صرف اپنی ذاتی اور جذباتی تفریحات کے علاوہ ذہنی اور روحانی طور پر ایک بڑے سماجی دائرے سے مربوط رکھے۔ جونہی ہم حقیقی خوشی اور وقتی تفریح کی قیمت کے فرق کو سمجھیں گے ہماری بے سود دوڑ ختم ہو جائے گی۔ (ختم شد)

