صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 15 : بلیو ڈینیوب
”اور یوں ہوا کہ جب وہ واپس آ رہے تھے، جب داؤد فلستی کو مار کر لوٹ رہا تھا، تو اسرائیل کی عورتیں سب شہروں سے گاتے اور ناچتے ہوئے، دف اور خوشی کے گیتوں کے ساتھ، بربط بجا کر ساؤل بادشاہ کے استقبال کے لئے نکلیں۔“ سموئیل اول 18 : 6
چرچ خالی ہو چکا تھا۔ مریم ہال کے وسط میں ایک نشست پر جاکر بیٹھ گئی۔ دانی ایل نے دیوار پر لگے ہوئے روشنی کو کم کرنے والے سوئچ کو بائیں جانب گھمایا تو ہال کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں یہاں تک کہ جُھٹ پُٹے کا ماحول بن گیا۔ پھر اس نے پیانو پر بلیو ڈینیوب کی دھن چھیڑ دی۔
ڈیڑھ سو سال پرانی والٹز کی یہ دھن جو دانی ایل کو بے حد پسند تھی آسٹریا کے موسیقار یوہان اشٹراؤس نے لکھی تھی۔ یہ دھن ویانا سے گزرنے والے دریائے ڈینیوب کے پُر سکون بہاؤ اور ہولے ہولے اٹھتی بیٹھتی لہروں کو موسیقی کے سروں میں بیان کرتی ہے۔ موسیقی کا آغاز ایک نرم، مدھم اور پرسکون دھن سے ہوتا ہے، جیسے دریائے ڈینیوب کی سطح پر ہلکی ہلکی لہریں پھیل رہی ہوں۔ یہ ابتدائی حصہ دریا کی پرسکون اور دلکش فضا کو پیش کرتا ہے جیسے ایک شاعر اپنے محبوب کی خوبصورتی کو بیان کر رہا ہو۔
جیسے جیسے موسیقی آگے بڑھتی ہے، دھن میں تیزی اور جوش پیدا ہوتا ہے، جو دریائے ڈینیوب کے تیز بہاؤ اور اس کے کنارے پر ہونے والی سرگرمیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ حصہ ویانا کے شہر کی متحرک زندگی، اس کے رقص کرتے ہوئے جوڑوں اور بال رومز کی رونق کو پیش کرتا ہے، جو دریا کے کنارے موجود ہیں۔ یہ رقص اپنے مختلف حصوں میں دریا کے مختلف مناظر کو پیش کرتا ہے۔ کبھی پرسکون اور مدھم، کبھی تیز اور پرجوش۔ ”بلیو ڈینیوب“ ایک رومانوی سفر ہے، جو دریا کے بہاؤ، اس کے کنارے کے مناظر، اور اس کے ساتھ جڑے ویانا کے شہر کی خوبصورتی کو مجسم کرتا ہے۔ یہ موسیقی دریا کی لہروں کی طرح دلوں کو چھو جاتی ہے، اور سننے والے کو ایک خوابناک سفر پر لے جاتی ہے، جہاں وہ دریا کی خوبصورتی اور اس کی داستانوں میں کھو جاتا ہے۔
جوں ہی دانی ایل نے پیانو کے کی بورڈ کو چھوا اس نے محسوس کیا کہ اس کی انگلیوں نے خود مدھم سُروں کا روپ دھار لیا ہے۔ ابتدائی حصے میں یہ دھن دھیرے دھیرے سننے والوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ پیانو سرگوشی کر رہا ہے جسے صرف وہ دانی ایل خود سُن سکتا تھا مگر آہستہ آہستہ وہ سرگوشی بلند ہوتے ہوتے مریم تک پہنچنے لگی۔ مدھم، نرم اور دلکش آواز میں ایک جادوئی اثر تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور محسوس کیا کہ وہ فضا میں ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر موسیقی کے سُروں پر ڈول رہی ہے۔
جیسے ہی دھن کا ابتدائی حصہ ختم ہوا موسیقی میں بلندی آتی گئی اور والٹز کے روایتی تین سُروں کی تال واضح ہونے لگی۔ دانی ایل کی آنکھوں کے سامنے ایک منظر ابھرا جس میں وہ روشنیوں میں نہائے ہوئے ایک وسیع و عریض ہال میں تھا جس کی دیواروں پر سجے ہوئے آئینے روشنی کو منعکس کر رہے تھے۔ ہال کے وسط میں ایک بڑا سا کرسٹل کا فانوس لٹک رہا تھا جس سے روشنی کی کرنیں پھوٹ کر دیواروں میں لگے ہوئے آئینوں سے خارج ہو رہی تھیں۔
ہال میں تازہ پھولوں کی مہک بسی ہوئی تھی۔ لکڑی کے چمک دار فرش پر جوڑوں کی قطاریں آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ مردوں نے سیاہ ٹکسیڈو پہن رکھے تھے اور خواتین سفید گاؤن میں ملبوس تھیں۔ جوں ہی موسیقی شروع ہوئی مردوں کی قطار آگے بڑھی اور ہر ایک نے اپنا دایاں بازو اپنے سامنے کھڑی خاتون کی کمر کے گرد حمائل کر دیا اور بائیں ہاتھ سے اس کا دایاں ہاتھ تھام لیا۔ خاتون نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور رقص شروع کر دیا۔
ہر جوڑا ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھویا ہوا تھا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ ان کے قدم موسیقی کی دھن پر اٹھ رہے تھے : ون، ٹو، تھری۔ ون، ٹو، تھری۔ ون، ٹو، تھری۔ موسیقی کی لہریں فضا میں تحلیل ہو رہی تھیں اور معلوم ہوتا تھا، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ روشنی، موسیقی اور محبت سے بھرا یہ والٹز کا ناچ ہر دل کو چھو رہا تھا۔
دانی ایل کی آنکھیں بند تھیں اور اس کو کچھ کچھ احساس تھا کہ اس کی انگلیاں پیانو کے کی بورڈ پر ناچ رہی ہیں جب کہ وہ ان سینکڑوں جوڑوں میں شامل تھا جو ہال کے چوبی فرش پر رقص کر رہے تھے۔ اس نے اپنا بازو مریم کی کمر کے گرد لپیٹ کر ہتھیلی سے اس کی پشت کو دباکر خود سے چمٹا لیا تھا اور دوسرا ہاتھ مریم کے ہاتھ میں تھا۔ وہ دائرے میں گھومتے، قدموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر آگے بڑھتے رہے۔
کہتے ہیں کہ بھونرا پھولوں کا عاشق ہوتا ہے۔ وہ باغ میں ایک پھول سے دوسرے پھول تک جاتا ہے اور ہر پھول پر چند لمحوں کے لیے منڈلاتا ہے۔ والٹز بھی بھونرے کے رقص کی طرح ہوتا ہے جس میں رقاص جوڑے بھونرے کی طرح ایک پھول پر منڈلا کر دوسرے پھول پر جاتے ہیں۔ دانی ایل کے جذبات میں طوفان بپا تھا۔ اس نے مریم کی کمر کے گرد اپنے بازو کا دباؤ بڑھادیا اور اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ بلیو ڈینیوب کی دھن ہمیشہ اس کے اندر کے تمام احساسات کو جگا دیتی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر مریم کے چہرے پر نظر ڈالی تو اس کی آنکھیں بھی بند تھیں اور وہ موسیقی میں کھوئی ہوئی تھی۔ مریم نے بھی اپنے آپ کو اس دھن کے ساتھ بہنے دیا اور ہر سُر اس کی روح میں ایک نیا احساس جگا رہا تھا۔
جب دانی ایل اختتام پر پہنچا تو اس نے آنکھیں کھولیں اور اس کے کانوں تک مریم کی تالی کی آواز پہنچی۔ وہ کھڑے ہو کر ہال کی جانب منہ کر کے جھکا اور سیڑھیوں سے اتر کر مریم تک پہنچا۔
”کہیے، آپ کو یہ دھن پسند آئی؟“ دانی ایل نے پوچھاْ۔
”جب میں اس کے سحر سے نکلوں گی تو بتاؤں گی۔“
” شکریہ، یہ دھن صرف آپ کے لیے تھی،“ دانی ایل نے جھجکتے ہوئے کہا۔ وہ اور بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اس کے گلے میں ایک گولا سا پھنس گیا تھا اور اسے تھوک نگلنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔
”یہ میری خوش قسمتی ہے۔ میں آپ کے اس تحفے کو یاد رکھوں گی۔“
دانی ایل نے بڑی کوشش کی کہ صرف تین الفاظ اس کے منہ سے نکل جائیں، ”آئی۔ لو۔ یو“ مگر برا ہو اس گولے کا جو اس کے حلق میں پھنسا رہا۔
”خوش قسمتی تو میری ہے،“ اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
”چلیں؟“ مریم نے سرگوشی میں کہا۔
”آپ گھر کیسے جائیں گی؟“
”میں سامنے سڑک پر سے رکشہ لے لوں گی، ویسے پیدل بھی پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔“
”آپ سمجھتی ہیں کہ میں آپ کو اکیلا جانے دوں گا؟“ دانی ایل نے کہا، ”میرے پاس اسکوٹر ہے۔ میں آپ کو گھر چھوڑ دوں گا۔“
”شکریہ۔“
دانی ایل دروازہ کھول کر ایک طرف کھڑا ہو گیا اور مریم کے باہر نکلنے کے بعد دروازہ بھیڑ دیا۔
”آپ اسے تالا نہیں لگائیں گے؟“ مریم نے دروازے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
”نہیں، یہ چرچ چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے تاکہ اگر کوئی ضرورت مند رات کے کسی پہر دعا مانگنے یا پناہ لینے کے لیے آئے تو اسے دروازہ کھلا ملے۔“
دروازے کے سامنے سیڑھیوں سے اتر کر ایک ویسپا اسکوٹر کھڑا تھا۔ دانی ایل نے اسے اسٹارٹ کر کے موڑا اور پشت پر مریم کے بیٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔
”مجھے کل ہی اس اسکوٹر کی ڈیلیوری ملی ہے اور اس پر آپ میری پہلی ہم سفر ہیں۔“
”او، ہاؤ رومینٹک!“ مریم نے بیٹھتے ہوئے قہقہہ لگایا، ”ہم سفر کے انتخاب پر آپ کا شکریہ۔“
جوں ہی دانی ایل نے آہستہ آہستہ تھروٹل کو گھمایا، اسکوٹر آگے بڑھنے لگی۔ مریم نے توازن قائم رکھنے کے لیے اپنا ہاتھ دانی ایل کے کندھے پر رکھا تو دانی ایل کے سانس گہرے ہو گئے۔ چوں کہ مریم اس کی پشت پر بیٹھی تھی لہٰذا وہ اس کی مسکراہٹ نہیں دیکھ سکی۔ وہ اچانک ساتویں آسمان پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے دماغ میں چکّی سی چلنا شروع ہو گئی اور وہ اس مکالمے کو ترتیب دینے لگا جو اس کے اور مریم کے درمیان تنہائی میں ہوں گے جب وہ دونوں دریا کے کنارے ایک پارک کی بینچ پر اکٹھے بیٹھے ہوں گے اور کوئی تیسرا آس پاس نہیں ہو گا۔ وہ اسے حمایت علی شاعر کی وہ نظم سنائے گا جو وہ ہمیشہ گنگناتا تھا۔
تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش
میری تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
تیری زلفیں تری آنکھیں ترے عارض ترے ہونٹ
کیسی ان جانی سی معصوم خطا کرتے ہیں۔
اچانک اسے ایک جھٹکا سا لگا۔ وہ مریم کی گلی کے موڑ پر تھا جہاں سڑک پر ایک چھوٹا سے گڑھا تھا۔ اس نے اسکوٹر گلی میں موڑا اور تیسرے مکان کے سامنے روک دیا جس کے کھلے ہوئے دروازے پر سبز پینٹ تھا اور اس کے پیچھے سندھی رلّی کا پردہ لٹک رہا تھا۔
”بہت بہت شکریہ، دانی ایل،“ مریم نے اسکوٹر سے اتر کر کہا۔
”شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہیے کہ آپ نے مجھے اس رفاقت کا موقع دیا،“ دانی ایل نے مسکرا کر کہا۔
”آپ چائے تو پیتے جائیں۔“
”نہیں، میں آپ پر ادھار چھوڑ دوں گا تاکہ دوبارہ ملاقات ہو سکے،“ دانی ایل نے اپنی اسکوٹر موڑتے ہوئے کہا۔
”خدا حافظ،“ مریم نے ہاتھ اٹھا کر کہا اور پردے کا ایک سرا اٹھا کر گھر میں داخل ہو گئی۔
واپسی میں دانی ایل کو جلدی نہیں تھی لہٰذا اس کی اسکوٹر سڑک پر رینگ رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور اسے حیرت تھی کہ اس نے مریم سے بلا جھجھک اتنی باتیں کیسے کر لیں اور بڑے بڑے الفاظ بھی استعمال کر لیے۔ اس نے سوچا کہ جب وہ گھر پہنچ کر اسکوٹر سے اترے گا تو سب سے پہلے اپنا کندھا تھپتھپا کر خود کو شاباش دے گا۔
بلیوڈینیوب کا ایک کنسرٹ اس لنک پر سُن سکتے ہیں :

