برطانوی انتخابات:نتائج،اسباب اور محرکات
حالیہ برطانوی انتخابات کئی حوالوں سے تاریخی ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اس میں پندرہ سال کے بعد پہلی دفعہ لیبر پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصلِ کی۔ پارٹی نے آخری بار دو ہزار پانچ کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ دو ہزار نو کے بعد سے کنزرویٹیو پارٹی مسلسل الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔ اس دوران پارٹی کے پانچ وزرائے اعظم تبدیل بھی ہوئے دو ہزار پانچ میں آخری دفعہ ٹونی بلئیر نے لیبر پارٹی کے سربراہ ہوتے ہوئے مسلسل تیسری دفعہ پارٹی کو کامیابی دلوائی تھی لیکن ان کی امریکہ پہ انتہائی منحصر ہونے اور عراق پہ جارج بش کی مارچ دو ہزار تین میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے انتہائی بھونڈے الزامات پہ حملے کی اس کی حمایت نے ان کو انتہائی غیر مقبول بنا دیا اور جس کا حتمی نتیجہ دو ہزار نو کے الیکشن میں بر آمد ہوا دو ہزار نو سے دو ہزار چوبیس کے کنزرویٹیو پارٹی کے تین ٹرم کے دوران پانچ وزرائے اعظم تبدیل ہوئے جن میں ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، بورس جانسن، لز ٹرس اور رشی سوناک وغیرہ شامل ہیں۔
ان میں سے صرف ڈیوڈ کیمرون نے ایک پورا ٹرم اور دوسرے ٹرم میں دو سال نکالے لیکن بریگزٹ (برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلاء) کے بعد وہ مستعفی ہو گئے اس کے بعد پچھلے آٹھ سالوں میں کنزرویٹیو کی حکومتیں مسلسل عدم استحکام کا شکار رہیں اور اس دوران چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے جس کا آخرکار نتیجہ لیبر پارٹی کی اقتدار میں پندرہ سال بعد تاریخی واپسی کی شکل میں سامنے آیا کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کی حریفانہ کشمکش پچھلی ایک صدی سے چل رہی ہے کنزرویٹیو پارٹی لبرل اکنامک پالیسیز کی حامی ہے جس میں فری مارکیٹ اکانومی اور پرائیوٹائزیشن شامل ہے۔
پارٹی یورپی یونین اور نیٹو الائنس میں رہنے کی حامی ہے۔ یہ متحدہ آئرلینڈ کے قیام، جبکہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی یوکے سے آزادی کی بھی مخالف ہے اس پارٹی کی زیادہ تر سپورٹ بزنس پیشہ، کسان، رئیل اسٹیٹ اونرز اور مڈل کلاس کے درمیان موجود ہے جن کی زیادہ تر آبادی دیہات اور مضافاتی علاقوں سے ہے یہ پارٹی اپنے ملک میں لیبر کی نسبت بادشاہت کی طرف نرم گوشہ رکھتی ہے۔ یہ روایت پسند جماعت ہے اور یہ برطانوی آئین میں کسی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کو مناسب نہیں سمجھتی کیونکہ پارٹی کے خیال میں برطانوی آئین ملک کی سالمیت کی ضامن ہے۔
اس پارٹی نے ڈیزرائلی، ونسٹن چرچل اور مارگریٹ تھیچر جیسے تاریخی قیادتیں دیکھی ہیں اس کے مقابلے میں لیبر پارٹی آئین میں بنیادی تبدیلیوں کی حامی ہے یہ سمجھتی ہے کہ بہت سی عالمگیر اور انسانی حقوق کو برطانوی آئین کا لازما حصہ ہونا چاہیے لیبر پارٹی بادشاہی نظام کے تسلسل کے حق میں ہے لیکن اس میں کچھ آئینی تبدیلیاں بھی چاہتی ہے اگرچہ یہ ماضی میں اس کی یکسر خاتمے کے حق میں تھی اور اس کو برٹش عوام پہ بوجھ سمجھتی تھی اور اب بھی اس کے اندر کچھ ایسے ریپبلکنز ہیں جو بادشاہت کا خاتمہ چاہتے ہیں مگر پارٹی میں ان کی آواز اتنی موثر نہیں ہے لیبر پارٹی شمالی آئرلینڈ کے متحدہ آئرلینڈ کا حصہ بننے، اسکاٹ لینڈ کی آزادی اور ویلز کی آزادی کی بھی مخالف ہے لیکن حیران کن طور پہ اس الیکشن میں اسکاٹ لینڈ کے عوام نے اپنی آزادی پسند جماعت اسکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی (SNP) کو لیبر پارٹی کے ہاتھوں بدترین شکست دلوائی ہے اور پچھلے الیکشن میں اسکاٹ لینڈ کی ستاون میں سے اڑتالیس نشستیں جیتنے والی SNP کو صرف نو نشستوں تک محدود کر دیا ہے اس کے محرکات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آیا اسکاٹ لینڈ کے عوام کے اندر آزادی کی تڑپ ختم ہو گئی ہے یا پھر اسکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی کی اسکاٹ لینڈ میں قائم پچھلی حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے لیبر پارٹی اگرچہ کنزرویٹیو کی طرح فلسطین کے مسئلے کا حل اسرائیل اور فلسطین کے لئے دو پہلو بہ پہلو ریاستوں کے قیام کی شکل میں سمجھتی ہے مگر ان کا بھی کنزرویٹیو کی طرح واضح جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہے خصوصاً پارٹی کے موجودہ سربراہ اور وزیر اعظم کیر سٹارمر حماس تنظیم کا بدترین ناقد اور بنیامین نیتن یاہو کی اسرائیل کی حکومت کے بھرپور حامی ہے البتہ ان سے پہلے پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن جو حقیقی سوشلسٹ تھے ان کا واضح جھکاؤ فلسطین کی طرف تھا اور وہ اسرائیل کو ایک فاشسٹ اور قابض ریاست سے تعبیر کرتے تھے اس لیے ان کے نظریات کی وجہ سے برطانوی عوام نے لیبر پارٹی کو ان کے دور میں کامیابی سے محروم رکھا۔
لیبر پارٹی نے پورے انیس سال بعد الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ بھی اتنی واضح اکثریت سے کہ پچھلے الیکشن میں لیبر کی نشستیں دو سو دو ( 202 ) تھیں لیکن اس دفعہ ان کی چار سو گیارہ ( 411 ) نشستیں ہیں یعنی پورے دو سو نو ( 209 ) نشستوں کا اضافہ ہوا ہے کنزرویٹیو کی پچھلے الیکشن میں تین سو پینسٹھ نشستیں ( 365 ) تھیں جو اب ایک سو اکیس ( 121 ) پہ آ کے ٹک گئی ہے یعنی پورے دو سو چوالیس ( 244 ) نشستوں کی کمی اس دفعہ لبرل ڈیموکریٹس نے بھی اپنی بہترین کارکردگی سے تجزیہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ان کی نشستیں گیارہ ( 11 ) سے بڑھ کے بہتر ( 72 ) ہو گئی ہے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ برطانوی عوام اب تیسری جماعت کے آپشن کو بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے اب آخر میں دیکھتے ہیں کہ کون سی ایسی وجوہات تھیں جو کنزرویٹیو کی اس طرح کی بدترین شکست کا باعث بنیں
1۔ بریگزٹ ( یورپی یونین سے انخلاء ) کنزرویٹیو کا ایک ایسا ورثہ ہے جس نے برطانوی عوام کی زندگیوں پہ بدترین اثرات مرتب کیے جن میں بڑھتی ہوئی ضروریات زندگی کی قیمتیں، سکڑتی ہوئی گھریلو معیشتیں اور رہائش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا دو بھر کر دیا۔ اگرچہ کنزرویٹیو پارٹی بریگزٹ کی مخالف تھی لیکن بریگزٹ کے مسئلے پہ ریفرنڈم اور اس کے نتیجے نے ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا
2۔ امیگریشن کا قضیہ: کنزرویٹیو پارٹی امیگریشن کے مسئلے سے مناسب طور پہ عہدہ برا نہ ہو سکی اور جس طرح کے غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں پارٹی کی پالیسی تھی اس کو پارٹی مناسب طور پہ ہینڈل نہ کر سکی جس نے ان کے ووٹرز میں فرسٹریشن اور غصے کو جنم دیا۔
3۔ کوڈ 19 :کوڈ 19 کے حوالے سے بورس جانسن حکومت کی ابتدائی herd immunity والی پالیسی کہ مرض کو خود ہی زیادہ سے زیادہ آبادی میں پھیلنے دیں تاکہ لوگوں کے اندر قوت مدافعت بڑھے مگر بڑھتی ہوئی اموات پھر تاخیر سے لاک ڈاؤن کے فیصلے سے بہت زیادہ اموات ہوئیں جس نے عوامی غم و غصہ کو پروان چڑھایا۔
4۔ نیشنل ہیلتھ سروس ( NHS) کی زبوں حالی: نیشنل ہیلتھ سروس کنزرویٹیو کے دور حکومت میں بہت زیادہ خراب رہی کوڈ 19 میں ہسپتالوں پہ دباؤ کی وجہ سے ایمرجنسی کی صورتحال رہی جس کی وجہ سے کینسر، شوگر، کڈنی اور امراض قلب کے مریضوں کا علاج رک سا گیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے مریضوں کو باہر علاج کروانا پڑا کیونکہ NHS کے ذریعے ان کو appointment نہیں مل رہی تھی۔
5۔ معاشی مسائل: ان کے پندرہ سالہ دور حکومت میں لوگوں کے معاشی مسائل بہت بڑھے جن کی وجہ سے لوگوں کے لئے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گھٹتی آمدنی میں اپنی معیار زندگی کو برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا تھا ان کی حکومت مخالفین سمجھتے تھے کہ یہ امیروں کی حکومت تھی اور ان کی پالیسیاں قطعاً عام آدمی کے لئے نہیں تھیں انھیں پالیسیوں کی وجہ سے تو وزیراعظم لز ٹرس کو متنازعہ فنانس بل لانے پہ صرف انچاس دن بعد مستعفی ہونا پڑا اگرچہ ان کی جگہ رشی سوناک نے اپنی تئیں بہت کوششیں کی اور وہ کسی حد تک اپنی کوششوں میں کامیاب بھی رہے لیکن ان پہ الزام تھا کہ ایک امیر گھرانے سے تعلق کی وجہ سے ان کو عام آدمی کے مسائل کا مناسب ادراک نہیں تھا۔
6۔ مسلمان۔ ووٹرز کی ناراضگی: کنزرویٹیو حکومتیں تو ایک طرف روس کے مقابلے پہ یوکرین کی اسلحہ اور گولہ بارود سے مدد کرتے رہے مگر فلسطین کے مسئلے پہ جہاں اڑتیس ہزار سے زیادہ فلسطینی اسرائیل کی بربریت کا شکار ہوئے مکمل خاموشی سادھی گئی جس نے سو حلقوں سے زیادہ پہ اثر انداز مسلم ووٹرز کے اندر غم و غصّے کو جنم دیا اور اس کا اظہار ووٹ کی صورت میں انھوں نے لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس کے حق میں کر دیا۔

