گندے انڈے: استعمال اور نقصانات

انڈوں پر مخصوص دن گزر جائیں یا ان کو برداشت سے زیادہ گرمائش مل جائے تو خراب ہو جاتے ہیں اور ایسے انڈوں کو گندے انڈے کہا جاتا ہے۔
اب تو خیر سے مصنوعی انڈے بھی بننے لگے ہیں۔ جو اب پاکستان میں بھی دستیاب ہیں۔ اگر چہ ایسے انڈوں کو نباتاتی انڈے بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ بقول بنانے والوں کے یہ کچھ پودوں سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے یا جھوٹ، ابھی تک کوئی خاص معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ اس میں مختلف کیمیکل کا استعمال بلا شک و شبہ کیا جاتا ہے۔ غذائی اور طبی ماہرین کے مطابق یہ مصنوعی انڈے استعمال کرنے سے کئی قسم کی بیماریاں انسان کو لاحق ہوتی ہیں۔ جس میں بلڈ پریشر کا بڑھنا، دل کی بیماریاں، متلی، ہیضہ اور دیگر کئی بیماریاں شامل ہیں۔ یہ انڈے بنانے والے اگرچہ اس کے کچھ فوائد بھی گنواتے ہیں۔ مگر ’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘۔ قدرتی انڈوں کے یہ عشر عشیر بھی نہیں ہوتے۔ اور اگر یہ واقعی فائدہ مند ہوتے تو جعلی طور پر دھوکے سے اصلی کہہ کر فروخت کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
گندے انڈوں کے بھی بہت سے نقصانات ہیں۔ مگر اس سے جو کراہت محسوس ہوتی ہے۔ کوئی بھی بندہ اس کے دیدہ دانستہ استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاہم ایک استعمال بہت ہی عام ہے جو ساری دنیا میں نفرت اور غصے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ یعنی کسی کو گندے انڈے مارنا۔
لیکن اب خیر سے گندے انڈے کھانا (لاعلمی میں) اور کھلانا (مجرمانہ طور پر) بہت ہی عام ہو چکا ہے جس سے معدے کا درد اور دیگر بیماریاں، سردرد، متلی، بخار، ہیضہ اور سب سے بڑھ کے فوڈ پوائزنگ جیسے بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ اب ایسے کون لوگ ہیں جو یہ گندے انڈے کھاتے ہیں۔ تو جناب وہ ہیں ہم یعنی میں اور آپ۔ بالکل ہم روزانہ جو بیکری اور فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں آدھے سے زیادہ گندے انڈوں کا استعمال ہوتا ہے۔
بڑی بڑی چکن ہیچریز میں جہاں انڈوں سے چوزے نکالے جاتے ہیں وہاں پر بہت سے انڈے خراب ہو کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اکثر ایسی ہیچریوں کے مالکان ان کو ضائع کرنے کی بجائے بے ضمیر اور انسانوں کے جامہ میں حیوانوں کے ساتھ مل کے ان کو کم داموں میں فروخت کر دیتے ہیں اور وہ لوگ بعد میں یہ گندے انڈے بیکری اور فاسٹ فوڈ والوں کو جو اپنے آئٹموں میں انڈوں کا استعمال کرتے ہی ان پر سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔ جو اس کو صحیح انڈوں کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور گاہکوں کو فروخت کرتے اور کھلاتے ہیں۔ اور ہم سب پیسے دے کے زہر خریدتے اور کھاتے ہیں۔
ان سب ضمیر فروشوں اور بد دیانت لوگوں کا تو کہنا ہی کیا۔ حکومت اور تمام کے تمام متعلقہ ادارے اس سے سو فیصد آگاہ ہیں۔ لیکن نہ تو اس کا کوئی تدارک کیا جا رہا ہے اور نہ کوئی قانونی کارروائی۔ اس طرح یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاروبار دوسرے اسی طرح کے غیر قانونی کاروباروں کی نسبت بہت ہی آسانی کے ساتھ اور بغیر کسی خوف و خطر کے جاری ہے۔ جس میں ذمہ دار اداروں کی کوتاہی کم اور بد دیانتی اور لالچ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے کب تک خاموش تماشائی بن کے قوم کو بیماروں میں مبتلا کرنے میں معاونت کرتے رہیں گے۔

