فیصل عظیم کی شاعری: میری آنکھوں سے دیکھو


کوئی کرتب ہے گویا زندگی بھی
کہ رسی پر چلیں اور ڈگمگائیں!

سال رواں کے جون میں جب یہ مسافر ٹورنٹو کے دورے میں وہاں کی ادبی تنظیم فیملی آف دی ہارٹ کی ادبی فضا سے لُطف اندوز ہو رہا تھا ، احباب کی محبتیں سمیٹ رہا تھا اور وہاں کی تخلیقی فضا کے تازہ جھونکوں میں سانس لے رہا تھا تو اس کو بڑی چاہت سے چند ادبی تحائف بھی پیش کیے گئے ۔ان ادبی تحائف میں سے ایک تحفہ فیصل عظیم کی شاعری کا مجموعہ ’’میری آنکھوں سے دیکھو‘‘ بھی تھا۔ میں فیصل عظیم کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے اپنی شاعری کی اولین کتاب اپنے ہاتھوں سے عطا کی۔

اُبھرتے ہوئے جدید تخلیق کار فیصل عظیم اردو نظم کے اہم شاعر ہیں۔ یہ اندازہ مجھے ان کی عطا کی گئی شاعری کی کتاب ، ’’میری آنکھوں سے دیکھو‘‘ پڑھ کر ہوا۔ فیصل عظیم نے تخلیقی اظہار کے لیے غزل سے زیادہ نظم کو اپنا تحریری جوہر بنایا ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ غزل اپنے اندر ایک نغمیت ، رُومانس اور وسعت رکھتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے اندر متنوّع مضامین کی آزادی بھی رکھتی ہے۔ جب کہ نظم کی صورت میں اول تو موضوع یکتا ہوتا ہے دوسرے اس کی بنت غزل سے قدرے کٹھن بھی ہے ۔ فیصل عظیم کے موضوعات متنوع اور جدید ہیں ۔ ان میں تارکینِ وطن کے المیے، مغربی اور مشرقی معاشروں کا تقابل، اقدار کی شکست و ریخت کا احساس، عالمی سطح پر ہونے والی چیرہ دستیاں، معاشی نا انصافیاں اور کراچی جیسے اہم شہر کی داستاںِ خونچکاں ان کے صرف چند عنوانات ہیں۔ مگر اس مایوس کن صورتِ حال میں بھی وہ اپنے وطن کے لیے امیدِ صبح کی نوید رکھتے ہیں۔ فیصل نے تارکین وطن کے حوالے کو اپنی شاعری میں دلسوز انداز میں بیان کیا ہے ۔

یہ تو محض سفر کی بات تھی ۔ مگر ہجرت میں انسان سفر ختم کر کے اپنے وطن ، اپنے گھر اور اپنے پیاروں سے جُدا ہو کر ایک اجنبی دیس میں بسرام کر لیتا ہے۔ اس عمل میں اس پر کیا گزرتی ہے یہ صرف وہی بتا سکتا ہے دیکھنے والے صرف اندازہ لگا سکتے ہیں۔ فیصل عظیم نے ایک مختصر، سادہ، رواں اور موسیقیت آمیز نظم میں ہجرت کے ایک منظر کی تصویر کشی کچھ یوں کی ہے۔

گھر مشرق میں

ہم مغرب میں
جسم سائے جیسا ہے اب
دولت کیا گل کھلوائے گی!
ہم تو خیر سے بستر پر ہیں
لیکن روح ابھی تک گویا رستے میں ہے
اور انجانے سے ایک ہوائی اڈے پر
گم سم بیٹھی ہے
اور
اگلی پرواز کا اعلان
ابھی ہونا باقی ہے

نظم : کنیکٹنگ فلائٹ (Connecting Flight)

فیصل کی شاعری میں سادگی، روانی اور معنویت اس کو خوبصورت بناتی ہے۔ اگرچہ اس میں عشقِ بتاں ، محبت کی کسک اور رُومانس کی چاشنی ذرا کم کم ہے اور ان کا بیان اکثر معنی خیز اور سنجیدہ شاعری سے بھرپور ہے مگر کہیں پر جھول، بیزاری یا گرانی محسوس نہیں ہوتی ۔ انسانی ترقی اور ارتقا کی صورت میں پرانی روایات و اقدار کی پامالی کے حوالے سے ایک غزل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:

نہ پاسِ ابنِ آدم ہے نہ حرمت بنتِ حوا کی
نشانِ بے لباسی ہیں کہ آزادی کے پیکر ہیں؟
ہمیں تو پتھروں کا دور پھر محسوس ہوتا ہے
ترقی کے عنوانات اور پستی کے منظر ہیں

ہما را سب سے بڑے ساحلی اور تجارتی شہر کراچی ، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا گزشتہ کچھ دہائیوں سے نسلی و لسانی فسادات کے اندھیروں میں گم ہے۔ یہ عظیم شہر فیصل عظیم کی جنم بھومی بھی ہے۔ وہ دیارِ غیر میں رہ کر اپنے وطن اور بالخصوص کراچی کا درد شدت سے محسوس کرتے ہیں۔

خاک نشیں ہم پہلے بھی تھے
لیکن اب تو خاک ہوئے
پہلے بھی شکوے تھے ہم کو
پر اب تو نمناک ہوئے
پہلے خالی جیب کا ڈر تھا
آج گریباں چاک ہوئے
پہلے بات کیا کرتے تھے
آج تو ہم سفاک ہوئے

نظم : میرے شہر کے کچے ذہنو!

مگر اس عالم ِ یاسیت میں بھی شاعر امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا ۔ وہ اپنے پڑھنے اور سننے والوں کو امید کی کرن بھی ضرور دکھاتا ہے:

رنگت بدلے گی
شہرِ نا پُرساں کی بھی
قسمت بدلے گی
وہ دن آئیں گے
جو تیرے روٹھے موسم
واپس لائیں گے
بدلیں گے انداز
میرے شہر میں گونجے گی
خوشیوں کی آواز

(ہائیکو: کراچی

اب ایسا بھی نہیں کہ شاعر جمالیات سے بے بہرہ ہو کر شاعری کرے۔ فیصل عظیم کو بھی استثناء نہیں:

غزال آنکھیں، کمال چہرہ
دراز زلفیں، غضب کا سہرا
نگاہ اس کی حجاب میرا
سوال اس کا جواب میرا
نظر ملانے کے وہ بہانے
وہ زندگی کے سبق پرانے
وہ اس کا چلنا وہ اس کا مڑنا
وہ گویا میرا ہوا میں اڑُنا

(نظم : سیاہ لباس)

فیصل عظیم برصغیر کے معروف شاعر، ادیب اور سہ ماہی’’اقدار‘‘ کے مدیر شبنم رُومانی کے صاحبزادے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ شعر کہنا ان کے لاشعور کے کسی نہاں خانے میں بچپن سے موجود ہو مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ تعارف ان کی و جہِ شہرت نہیں بنا۔ انہوں شاعری میں مقام اپنی تخلیقی صلاحیت پر محنت کر کے بنایا ہے۔ وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تخلیق کار اور ہُنر دوست ہونے کے ناتے کینیڈا میں تخلیق کاروں کو مصروفِ عمل رکھنے میں بھی مصروف ہیں۔ اس ضمن میں فیصل عظیم ٹورانٹو کی ادبی تنظیم ’’اربابِ قلم کینیڈا‘‘ کے روحِ رواں ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ان کی پہلی شعری کاوش ہے۔

Facebook Comments HS