پک می گرلز، فیمنزم اور چیمنڈا انگوزی ادچی!


پدرسری نظام کے خلاف بات کی جائے تو بہت سے خواتین و حضرات جھنجھلا کر پوچھتے ہیں کہ ہم مرد حضرات کی مخالفت کا بیڑہ کیوں اٹھائے ہوئے ہیں؟

جبکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہمارا فیمنزم کسی بھی صنف کی مخالفت کی بجائے ان رویوں کو مٹانے میں دلچسپی رکھتا ہے جس کی آڑ لے کر پدرسری نظام کا طاقتور مہرہ کمزور کا استحصال کرتا ہے۔

یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ چونکہ اس نظام سے بائی ڈیفالٹ فائدہ اٹھانے والے طبقے میں مرد حضرات ہی ہیں سو ظاہر ہے کہ ان ہی کے متعلق بات کی جائے گی۔

لیکن کیا کہئے پدرسری نظام کو جس کی بندشوں میں جکڑے ہوئے ہمارے کہے اور لکھے پہ آتش فشاں تو بنتے ہی ہیں مگر سنگ باری میں ان عورتوں کی تعداد بھی کم نہیں جو پدرسری نظام سے آشیر باد لے کر حاکم کے زیر سایہ طفیلیوں کا کردار اور شاباش وصول کرتے ہوئے سب اچھا کا نعرہ لگاتی ہیں۔

یہ عورتیں اس کیمپ کے ہراول دستے میں اسی لیے شامل کی جاتی ہیں تاکہ دیکھنے سننے والوں بتایا جائے کہ دیکھیے یہ بھی تو ہیں نا جنہیں کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ کیسی اچھی خواتین ہیں یہ۔ اصلی اور نسلی!

ان خواتین کو باقاعدہ ایک نام دیا گیا ہے اور وہ ہے پک می گرلز۔ یعنی فیمنسٹ عورتوں کی بری بھلی اور کڑوی کسیلی سے کیوں دل برا کرتے ہیں بھائی جان؟ ہم ہیں نا!

ویسے تو پک می گرلز کو نہایت آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے لیکن آپ کی آسانی کے لیے کچھ نشانیاں بیان کیے دیتے ہیں ہم۔

فیمنزم ؛

زیادہ تر خواتین یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ فیمنزم کس لیے؟ عورت کے حقوق کی بات کیوں؟ سب انسانوں کے حقوق کی بات کرو نا بھئی۔

اگر آپ کو یاد ہو تو یہی سوال ہم سے بھی پوچھا ایک ایسی خاتون نے جو شاعری میں فیمنسٹ ہونے کا دعوی کرتی ہیں مگر مصر ہیں کہ عورت کے حقوق کی بجائے انسانی حقوق کی بات کیوں نہ کی جائے یعنی۔ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔

معروف افریقی امریکی فیمنسٹ چیمنڈا انگوزی ادچی کہتی ہیں ؛

” کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اس لفظ فیمنسٹ کے لیے اتنا اصرار کیوں؟ یہ کیوں نہیں کہتیں کہ تم انسانی حقوق کی علمبردار ہو؟ میں اس لیے ایسا نہیں کر پاتی کہ یہ سراسر بے ایمانی ہو گی۔ وسیع تر نقطہ نظر سے دیکھیں تو حقوق نسواں انسانی حقوق کے اندر شامل ہے لیکن انسانی حقوق جیسی مبہم اصطلاح کے انتخاب کا مطلب یہ ہو گا کہ صنفی فرق کے یک دم واضح اور مرکزی موضوع سے آنکھیں چرانا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سینکڑوں برسوں سے خواتین کو سماج کے مرکز سے کاٹ کر محروم رکھا گیا اور اس بات سے انکار خواتین کے انسان ہونے کے حق کو چھیننا ہے۔ صدیوں تک انسانی سماج کو کو دو حصوں میں بانٹا جار رہا ہے اور دھیرے دھیرے یہ رجحان ایک طبقے کے تسلط اور جبر میں تبدیل ہو گیا۔ اس مسئلے کو جب تک قبول نہیں کیا جاتا تب تک انصاف نہیں کیا جا سکتا“

دیکھیے یہ ہے اختلاف کی جڑ، جس کے بارے میں لوگ کنفیوز ہو کر کہتے ہیں کہ ہم عورت کے حقوق پر تو یقین رکھتے ہیں مگر ہم فیمنسٹ نہیں ہیں۔

تب ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ آپ کے نزدیک فیمنزم ہے کیا؟

پک می گرلز فیمنزم اور انسانی حقوق کے درمیان ایسے ہی کنفیوزڈ نظر آتی ہیں وہ فیمنسٹ ہونا بھی چاہتی ہیں مگر بدنام زمانہ فیمنسٹ نہیں بلکہ اچھی والی، تمیز دار فیمنسٹ جن سے بھائی لوگ بدکتے نظر نہ آئیں۔ گویا صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ رہے۔

عورت کی غلطی؛

پک می گرلز کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ جب بھی ان کے سامنے عورتوں پہ ہونے والے تشدد یا ریپ کے واقعات کا ذکر کیا جائے وہ فوراً کہانی کا دوسرا رخ جاننے کی کوشش کریں گی۔

عورت اس وقت وہاں کیوں تھی؟ کیا کر رہی تھی؟ کیا پہن رکھا تھا؟
نور مقدم کے قتل کے بعد بے شمار پک می گرلز نے کہا کہ آخر نور مقدم ظاہر جعفر کے گھر گئی کیوں؟
یہ وہی رویہ ہے جو ہمیں اچھرہ بازار میں دیکھنے کو ملا کہ خاتون وہ قمیض پہن کر بازار گئی کیوں؟

اس انداز کی وکٹم بلیمنگ ہمیں پک می گرلز کے ہاں ملتی ہے جو خود کو اچھی اور نیک عورتیں ثابت کرنے کے لیے عورت پہ ہوئے تشدد کو جھٹلاتی یا اس کی عذر خواہی کرتی نظر آتی ہیں۔

بے چارہ مرد ؛

پک می گرل خود کو اچھی عورت ثابت کرنے کے لیے ان عورتوں کے خلاف بات کرتی ہیں جو عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ آخر مرد کے ساتھ بھی تو زیادتی ہوتی ہے۔ کہہ کر خود کو فیمنسٹ گروپ سے علیحدہ کرنا پک می گرل کی نشانی ہے۔

چیمنڈا کہتی ہیں ”کچھ ایسے بھی ہوں گے جو کہیں گے کہ مرد کو بھی بھاری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحیح ہے، کرنا پڑتا ہے لیکن مرد کو بھلے اقتصادی عیش و آرام نصیب نہ ہو، مرد ہونے کی عیاشی ان کے پاس ہوتی ہے اور رہے گی“

سو پچاس برس پہلے ہمارے خطے میں کسی کو بھی لفظ فیمنزم سے آگہی نہیں تھی اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تصور مغربی تہذیب نے دیا ہے۔ یہ خیال اس لیے غلط ہے کہ تاریخ میں ایسی عورتوں کی کمی نہیں رہی جنہوں نے عورت پہ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ گو کہ ان کا لفظ فیمنسٹ سے دور دور تک تعلق نہیں تھا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ فیمنسٹ نہیں تھیں۔

چیمنڈا کہتی ہیں ؛

” آج ہمیں اس لفظ اور احساسات کی تشریح کرنی چاہیے۔ فیمنسٹ کی تعریف میں وہ مرد اور عورت شامل ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ آج کے حالات میں صنفی فرق ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہے۔ ہمیں ایک بہتر سماج بنانا ہے“

Facebook Comments HS