سردار کمال، ایک افسر اور تین رنگیلے (پہلا حصہ)


مزاحیہ فن کار سردار کمال دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ یہ پڑھ کر میں ایک شاک میں چلا گیا۔ اور پھر تیس سال پرانے خوش گوار واقعات ایک فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔

یہ سن 1993 کے آخری دنوں کی بات ہے جب میں فیصل آباد میں واقع پاک فضائیہ کے بیس رسالے والا پر جنگی مشق ہائی مارک کے لئے تعینات تھا۔ اسی ائر بیس کا رن وے فیصل آباد ائر پورٹ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ میرا کام ایک جدید کمپیوٹر کی تنصیب اور اس کی کارکردگی کا حالت جنگ کے دوران جائزہ لینا تھا۔

مختلف شہروں سے آئے ائر فورس کے افسران سے یہاں ملاقات ہوئی تو بہت سارے نئے دوست بھی بنے۔ ان میں ایک نام قابل ذکر تھا۔ ہر وقت مسکراتا، ”انجینئر اختر نوابی“ ۔ نوابی اور میرا قیام ایک زمینی بنکر کے ہال میں تھا۔ نوابی، رسالے والا پر موجود اسلحے اور جہازوں میں لگے کیمروں یعنی آرمامینٹ کا انچارج تھا۔ میرا ٹھکانہ بیس کمانڈر کا دفتر تھا دن میں ہماری شاذونادر ہی ملاقات ہوتی تھی لیکن ہر رات برج کھیلنا ہو، رات کا کھانا یا شہر میں آوارہ گردی، ہم ساتھ ساتھ پائے جاتے تھے۔

ہمارے گروپ میں ایک افسر ایسا بھی تھا جس کا کوئی جاننے والا آرٹس کونسل فیصل آباد میں متعین تھا اور چند دن پہلے اسے اور اس کے دوستوں، گھر والوں کو بیس پر بلا کر قریب سے جہاز دکھانے کے علاوہ، جنگی مشق کے دوران بہت کچھ خصوصی تماشے دکھائے تھے۔

ایک رات ہم سب آوارہ گردی کرنے شہر کو نکلے تو رات کے کھانے کے بعد ان ہی صاحب سے ملنے آرٹس کونسل فیصل آباد پہنچ گئے۔ وہ بھی احسان کا بدلہ احسان سے چکانے کے قائل تھے۔ پتہ چلا، آرٹس کونسل کے تھیٹر میں ایک مشہور ڈرامہ، ”تین رنگیلے“ چل رہا ہے۔ ڈرامے کی ہیروئن اس وقت کی مشہور ٹی وی سیریل ”نورینہ“ کا مرکزی کردار اداکارہ ”رینا صدیقی“ تھی۔

ہم دوستوں کو پروٹوکول دیتے ہوئے پہلی صف میں صوفوں پر بٹھا دیا گیا۔ اور اس رات مجھے پتہ چلا کہ وہاں بیٹھنا کسی کے لئے جنت، تو کسی کے لئے جہنم سے کم نہیں ہوتا۔

ڈرامہ کیا تھا۔ ایک طوائف کا کوٹھا تھا جہاں مختلف طرح کے تماش بین آتے تھے۔ کبھی کوئی نواب تو کبھی کرکٹ کے کھلاڑی تو کبھی کوئی سیاستدان اور اس آڑ میں دنیا بھر کی پھبتیاں، مجرے اور پیسہ وصول حرکات دیکھنے کو ملیں۔ منیر راج کا لکھا اور طارق جاوید کا ڈائریکٹ کیا ڈرامہ، ہم چھڑوں کے لئے واقعی پیسہ وصول تھا۔ مقامی اداکاروں طارق جاوید، نسیم وکی، سردار کمال اور سخاوت ناز کا نام میں نے پہلی بار سنا اور دیکھا۔ ڈرامے کے کئی ڈائیلاگ انتہائی برجستہ تھے، یوں مجھے یاد بھی رہ گئے۔

جنگی مشق کے اختتامی دن چل رہے تھے۔ اتنے میں ایک دن ائر ہیڈکوارٹرز سے پیغام ملا کہ مشق کے اختتام پر فائنل بریفنگ کی تقریب چند دن بعد سرگودھا بیس پر منعقد ہونے والی ہے۔ جس میں شرکت کے لئے رسالے والا سے سارے پائلٹ حضرات کو مدعو کیا گیا تھا۔ جہاں بریفنگ کے اختتام پر ایک طویل انٹرٹینمنٹ کی تقریب بھی متوقع تھی۔

اگلے دن بیس پر موجود زمینی عملے کے افسران (یعنی پائلٹ کے علاوہ) نے دوپہر کے کھانے پر بیس کمانڈر سے شکوہ کیا کہ ہمارے لئے بھی کچھ انٹرٹینمنٹ کا بندوبست کیا جائے۔ سب سے مشورہ لیا گیا تو طے یہ پایا کہ پیچھے رہ جانے والے پندرہ بیس افسران اور سینکڑوں ائر مینوں کے لئے خصوصی ڈنر (بڑا کھانا یا دربار سمجھ لیں) منعقد کیا جائے گا۔ جس کے بعد فیصل آباد کے مقامی فنکاروں کی مدد سے ایک انٹرٹینمنٹ کی تقریب منعقد کی جائے گی۔ میرے ذہن میں ”آرٹس کونسل کے صاحب“ موجود تھے۔ سو یہ انتظام میرے ذمے ٹھہرا۔ انٹرٹینمنٹ کی رات، فن کاروں کو لانے لے جانے اور ان کے انتظامی امور بھی میں نے ہی سنبھالنے تھے۔ پانچ چھ گھنٹوں کی اس ملاقات کے دوران، میں نے عرصے بعد جی بھر کر جگتیں اور پھبتیاں کسیں بلکہ متعدد نئے ڈائیلاگ ان لوگوں کو دیے۔ اس دوران میری تین لوگوں سے گہری دوستی ہو گئی۔ سردار کمال، نسیم وکی اور خالد سلیم موٹا۔

خالد صاحب میری فلم اور ٹی وی پر معلومات سے بے حد متاثر ہوئے بالخصوص ان کے 70 کے عشرے میں چلنے والے ایک ڈرامے میں تکیہ کلام، ”پپو بیٹے“ سے۔ سردا ر کمال اور نسیم وکی اس وقت تک ٹی وی یا فلم میں نہیں آئے تھے اور اخبارات کے مطابق بھی ان کو فیصل آباد کے مقامی لوگوں کے علاوہ شاید ہی کوئی جانتا تھا۔ اس رات میں نے دونوں کے ہاتھ اور محنت دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ آپ دونوں بہت آگے جاؤ گے۔ نسیم وکی تو خیر چند سال بعد ہی، فیملی فرنٹ کے ذریعہ دنیا بھر میں مشہور ہو گیا جب کہ سردار کمال نے پہلے لاہور کے اسٹیج ڈراموں اور پھر چند فلموں سے شہرت پکڑنی شروع کردی۔

ان تمام فن کاروں کو واپسی پر بھی چھوڑ کر آنے کا فریضہ میں نے ہی انجام دیا۔

رات بھر کے ہلے گلے کے بعد اگلا دن انتہائی تھکا دینے والا تھا۔ جس کے بعد اگلے دن بیس کے پائلٹوں نے سرگودھا کا سفر کرنا تھا۔ اگلی رات زمینی رہائش گاہ میں پہنچے تو اختر نوابی کا منہ اترا ہوا تھا۔ بہت کریدنے کے بعد ، ہنستا مسکراتا شخص لگ بھگ گالیاں بک رہا تھا۔ پتہ چلا کہ رسالے والا پر ایک کیریکٹر، اسکواڈرن لیڈر نزاکت بھی تھے۔ جو سپلائی کے انچارج تھے اور پیچھے سے ”بی ایل پی سی“ افسر ۔ یہ وہ کمیشنڈ افسران ہوتے ہیں جو بنیادی طور پر ائر مین ہوتے ہیں مگر دوران نوکری انتہائی بہترین کارکردگی دکھانے کی وجہ سے ریٹائرمنٹ سے چند سال پہلے کمیشنڈ افسر بنا دیے جاتے ہیں یعنی پولیس کا سنتری جو ڈی ایس پی بن جائے یا خاکی وردی پہننے والا سپاہی، کپتان بن جائے۔ ان لوگوں کو نوکری اور جی حضوری کرنے کا شان دار تجربہ ہوتا ہے اور کمیشن افسر بننے کا خواب دیکھنا ان لوگوں کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی لیفٹین، کاکول سے ہی آرمی چیف بننے کا خواب دیکھے۔ ایسے لوگوں کو ”رینکر“ بھی کہا جاتا ہے۔

”رینکر“ ، لوگوں کی خواہشات بھی بڑی معصوم ہوتی ہیں۔ ساری زندگی افسران بالا کو سلیوٹ کرنے والے خود افسر بن کر سارے کام کاج بھول کر ہر وقت اسی تاک میں رہتے ہیں کہ کب کوئی جونیئر ان کے سامنے سے گزرے جو انہیں سلیوٹ نہ کرے اور یہ اس کی جی بھر کر بے عزتی کریں اور اگر داؤ لگے تو معاملہ کورٹ مارشل تک بھی پہنچا دیں۔

نوابی اور میں اس وقت فلائٹ لیفٹننٹ تھے (یعنی کپتان) جب کہ نزاکت صاحب، اسکواڈرن لیڈر تھے (مگر سابقہ سپاہی)۔ ہم دونوں ہی ان سے ایک رینک جونیئر تھے۔ اور عمر میں شاید نزاکت صاحب کے بچوں کے برابر۔ ریگولر برانچ کے افسران بھی عموماً اس معاملے سے آگاہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات سلیوٹ یا عزت دینے میں ڈنڈی بھی مار جاتے ہیں۔ یا دن میں ایک بار سلام کر لیا تو بار بار سلام یا سلیوٹ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ جب کہ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس کا نزاکت صاحب جیسے لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ یعنی وہ جلی بھنی ساس، جو اپنی بہو کی طرف سے کسی غلطی کے ہونے کا انتظار کر رہی ہوتی ہے اور پھر اللہ دے اور بندہ لے۔

نزاکت صاحب اور میں اتفاق سے چک لالہ میں ہی تعینات تھے۔ وہ ایک سپلائی کے ڈپو میں تھے اور میں ائر ہیڈکوارٹرز میں۔ بدقسمتی سے میں بھی ایک مرتبہ نزاکت صاحب کے سلیوٹ کی زد میں آ چکا تھا۔ میری خوش قسمتی کہ میں ان کے افسر اعلیٰ کا خصوصی مہمان تھا اور اسی زعم میں ان کے دفتر کے باہر کھڑا تھا کہ دوسری طرف سے آتے چاچا نزاکت کو دیکھ نہ سکا اور بروقت سلیوٹ نہ کرنے پر ان کی لائن آف فائر میں آ گیا۔ یہ اور بات کہ میں اس معاملے میں ان سے دو ہاتھ آگے تھا اور میں نے اپنا بیانیہ اس طرح پیش کیا کہ الٹا انہیں بجائے لینے کے دینے پڑ گئے۔

نوابی نے اسلحہ اور کچھ اہم سامان جنگ رسالے والا سے قریبی بیس بھجوانا تھا۔ جس کے لئے سپلائی ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں سے وہ دو دن سے مدد طلب کر رہا تھا۔ اس نے سپلائی انچارج کو فون کیا تو نزاکت صاحب سے پالا پڑ گیا۔

نوابی رات بھر کی تھکن اور بوجوہ کام کی زیادتی کسی اور پینک میں تھا۔ اس نے نزاکت صاحب کو فون پر سپلائی کے عملے کی ناقص کارکردگی کا رونا روتے ہوئے کچا چٹھا کھولا اور مزید صاف الفاظ میں کہا کہ آپ لوگ دو دن سے معاملے کو ٹرخا رہے ہیں اور اگر ایک آدھ گھنٹے میں یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ بیس کمانڈر کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کردے گا۔

بے شک نوابی اپنے سیکشن کا انچارج تھا اور نزاکت صاحب اپنے سیکشن کے یعنی دونوں اپنی ٹیموں کے کپتان تھے مگر رینک میں ظاہر ہے نزاکت صاحب بڑے تھے اور اوپر سے ”رینکر“ بھی یعنی کریلا اور نیم چڑھا۔

نزاکت صاحب نے کمال مہارت سے معاملے کو سائیڈ پر کیا اور نوابی کو آڑے ہاتھوں لیا کہ اس نے فون پر انہیں سلام کیوں نہیں کیا۔ بیس منٹ بعد اب ظاہر ہے کون سا سلام ہو سکتا تھا۔ نوابی نے غصہ ضبط کرتے آئیں بائیں شائیں کی تو انہوں نے پہلے جرم کے ساتھ جرائم کی فہرست میں ایک اور جرم کا اضافہ کر دیا کہ تم نے دوران گفتگو جانتے بوجھتے کہ دوسری طرف تم سے سینئر فون پر موجود ہے۔ جملے کے شروع میں ”سر“ نہیں کہا۔ اس نے دانت کچکچاتے ”سر“ کو سنبھالا تو انہوں نے تیسرا جرم گنوا دیا کہ نوابی کا لہجہ بدتمیز اور افسروں کے شایان شان نہیں۔ وہ نوابی جو کسی کو پکڑائی نہیں دیتا تھا، نزاکت صاحب کی سنیارٹی کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا تھا اور ادھورا سرکاری کام اب کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ 50 سالہ نزاکت صاحب نے بلا مبالغہ جونہی نوابی کے خلاف ممکنہ کورٹ مارشل کے لئے پانچواں ”چارج یعنی جرم“ گنوایا تو 27 سالہ نوابی نے ایک جھرجھری لی اور بات بغیر آگے بڑھائے صریحاً بدتمیزی یا بدتہذیبی سے فون بند کر دیا، ڈرائیور کو آواز دی اور میڈیکل سینٹر کی طرف دوڑ لگا دی جہاں ہمارا ایک اور ڈاکٹر دوست مدد کے لئے موجود تھا۔

نزاکت صاحب کی لغت میں ”فون“ ان کے منہ پر بند کر دینا۔ جب کہ وہ جونیئر کو ڈانٹ رہے تھے، ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا ان کی دانست میں سزائے موت سے کم نہیں تھی۔ وہ غصے میں نوابی کے دفتر پہنچے تو وہاں شرارتی نوابی کے ماتحتوں نے انہیں بتایا کہ صاحب بیس کے آخری کونے پر موجود ”آرمری“ میں ہونے والے کسی ممکنہ حادثے سے بچاؤ کے لئے گئے ہیں اور پیغام چھوڑا ہے کہ آپ یا کسی اور نے اگر ملنا ہو تو وہاں آ جائیں کیونکہ وہاں وہ کئی گھنٹے رہیں گے۔ یہ ”شرلی“ ، نوابی نے اس لئے چھوڑی تھی کیوں کہ وہاں کوئی فون نہیں تھا اور اگر نزاکت صاحب وہاں کا قصد کرتے تو آدھا گھنٹہ جانے اور آدھا گھنٹہ آنے میں لگ جاتا۔ جب کہ نوابی نے وہاں ہونا ہی نہیں تھا کیوں کہ وہ تو اس وقت میڈیکل سینٹر میں ای سی جی کروا رہا تھا۔ نزاکت صاحب بہرکیف نوابی کے جھانسے میں آ گئے اور رن وے کے دوسری طرف موجود اس جگہ کی طرف چل پڑے جہاں نہ بندہ تھا اور نہ بندے کی ذات۔ بظاہر یہ تھا نوابی کا جوابی وار، مگر نزاکت صاحب نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔

(اگلی قسط میں کیسے مرحوم سردار کمال نے اس معاملے میں ہماری مدد کی)۔

Facebook Comments HS

One thought on “سردار کمال، ایک افسر اور تین رنگیلے (پہلا حصہ)

Comments are closed.