سوچ کو برہنہ کرنے والی ویڈیو


گزشتہ دنوں ایک نامور مصنف، ڈائریکٹر خلیل قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہوئی۔ ویسے تو نازیبا ویڈیوز کا لیک ہونا اب اچنبھے کی بات نہیں رہی۔ کہ آئے دن کسی نہ کسی کی ویڈیو لیک ہو ہی جاتی ہے۔ اس مصنف کی نازیبا ویڈیو لیک ہونے سے پہلے اس کے ویڈیو کلپ وائرل ہوتے تھے۔ جس میں وہ مختلف پروگراموں میں بیٹھ کر عورتوں کے خلاف بولتے تھے۔ جس کی وجہ سے ان پر تنقید بھی ہوتی تھی۔ لیکن وہ ناقدین کو جوتے کی نوک پر رکھتے اور عورتوں کے خلاف اپنی شعلہ بیانی جاری رکھتے۔ موصوف عورت کو دو ٹکے کی سمجھتے تھے۔ بلکہ اپنے تئیں یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کرتے کہ عورت کی وجہ سے ہی سب خرابی ہے۔ عورتوں کے خلاف بات کرتے ہوئے ان کا لہجہ تحقیر آمیز ہوتا۔ حالانکہ عورت کے خلاف بولنے سے پہلے اگر وہ ایک بار بھی سوچ لیتے کہ خراب عورت کے ساتھ صنف مخالف بھی برابر کا شریک ہوتا ہے تو شاید وہ اتنا بے تکان نہ بولتے۔ وہ اپنے تکبر اور رعونت کی وجہ سے برے پھنسے ہیں۔ لیکن یقین ہے کہ موصوف گالیاں اب بھی عورت ہی کو دیتے ہوں گے، کہ نہ یہ ہوتی اور نہ میں اس حال میں ہوتا۔ خود کو ذمہ دار کبھی نہیں ٹھہرائیں گے۔

پارسائی کا دعویٰ کرنے والوں کو اکثر تکبر لے ڈوبتا ہے یہ تو عام سے انسان ہے۔ ان کی ویڈیو جتنی وائرل ہے اس کے بعد مجھے خوف آنے لگا ہے کہ ہم کسی کی دشمنی یا انتقام میں کس حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس کے خاندان کا نہیں سوچتے کہ وہ کس کرب سے گزریں گے۔ یہ بھی نہیں سوچتے ایسی حرکت کرنے والے نے جو جرم کیا سو کیا۔ لیکن اس جرم میں ہم کتنے حصہ دار ہیں۔ نازیبا حرکات کرنے کا تو ایک شخص مجرم ہے لیکن اس کی ویڈیو بنا کر لیک کرنا اور پھر اس کو فارورڈ کرنے کے کتنے لوگ مجرم ہیں اس کی گنتی تو کسی کے پاس نہیں ہوگی۔

کوئی عمر رسیدہ ہے یا نوجوان، اگر وہ کسی سے زور زبردستی کرتا ہے تو اس پر گرفت کرنا قانون کا کام ہے، میرا آپ کا نہیں۔ اور اگر کوئی راضی بہ رضا ہے تو بھی یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ میں آپ کیوں اتنا اچھل رہے، چسکے لے رہے۔ کسی کو بھی ایک منٹ والی ویڈیو سے تسلی نہیں اسے تو ڈیرہ گھنٹے والی ویڈیو چاہیے۔ لوگ خدا بنے بیٹھے ہیں۔ سمجھتے ہیں گناہ ثواب، جزا سزا کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی بنا ثبوت توہین مذہب کا الزام لگا کر کسی کو جان سے مار دے۔ کوئی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ننگا ہوا ہے تو اس کو مزید بے پردہ نہ کریں۔ کسی کی عزت اچھالنے میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ بہت آسان ہے کسی کی ذلت پہ خوش ہونا۔ موصوف اگر غلط تھے تو ہم کون سا ٹھیک کر رہے ہیں۔ آپ ہی بتائیے کسی کی غیر اخلاقی ویڈیو بنانا یا شیئر کرنا درست ہے۔ سب اس متعصب شدت پسند سوچ کے حامل مرد کا مذاق تو اڑا رہے ہیں۔ لیکن کسی نے ایک بار بھی سوچا کہ یہ غیر اخلاقی ویڈیو شیئر کر کے ہم اپنی کس حس کی تسکین کر رہے ہیں؟ ایسی ویڈیوز کسی دوسرے کو ننگا نہیں دکھاتیں، بلکہ ایسی ویڈیوز ہماری اپنی سوچ کو بھی برہنہ کرتی ہیں۔

غرور لے ڈوبتا ہے جس طرح موصوف کو لے ڈوبا۔ کہیں آپ کو بھی نہ لے ڈوبے۔ کسی کا تماشا لگانے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیئے۔ مجھے ان صاحب سے ہمدردی ہے نا انس۔ کہ جو کچھ بھی ہے وہ ان کا ذاتی یا پھر قانونی معاملہ ہے۔ گناہ ثواب رب اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔ ہاں دکھ ضرور ہے خدا ایسا دن کسی کو نہ دکھائے، سب کے پردے رکھے۔ ایسے بہت سے خلیل قمر ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ جن کے قول و فعل میں اتنا ہی تضاد ہو گا جتنا ان صاحب کے۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے یہاں کتنے ہیں جو پارسا ہوں گے۔ پارسا وہی ہے جس کو موقع نہیں ملا۔ زیادہ تر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر آپ واقعی گناہ سے نفرت کرتے ہیں تو کسی کی بھی ایسی غیر اخلاقی ویڈیوز یا تصویریں فارورڈ نہ کریں۔

Facebook Comments HS