خلیل الرحمٰن قمر بے چارہ، بے گناہ درویش انسان


یہ کیا پورے کا پورا معاشرہ ایک معصوم بندے کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ جسے دیکھ لو چسکے لیتا پھر رہا ہے، جسے دیکھو موبائل اُٹھائے ہر وقت سرچ میں گھسا ہوا ہے۔ سوشل میڈیائی سائٹس پہ ٹاپ ٹرینڈ ہے دس دنوں سے۔ ایسا لگتا ہے کہ قوم کو اور کوئی کام ہی نہیں، سوائے خلیل کے۔ توبہ کرو توبہ۔ آخر کیا گناہ ہے اس کا ؟ بے چارہ، بے گناہ درویش انسان ہے۔

کیا ہوا جو اس نے چار پانچ عامیانہ سی کہانیوں پہ مبنی ڈرامے لکھ چھوڑے جن میں کہانی نام کو نہیں۔ ڈائیلاگ تو کمال کے تھے نا؟ بے تکی سی تاویلات اور بے تکے سے پلاٹ پہ اگر مشہور اداکار اداکاری کریں گے تو کام بن سکتا ہے۔ عوام کا کیا ہے وہ تو کسی کو بھی مشہور کر سکتے ہیں۔ جب اختر لاوے کا نام ہو سکتا ہے تو اس نے کم از کم کچھ کیا تو ہے۔ انہی ڈراموں میں وہ بے چارہ اگر کسی عورت کو ”دو ٹکے کی لڑکی“ کہہ دیتا ہے تو یہ سٹوری کی ڈیمانڈ تھی، برا منانے کی کیا بات تھی۔ یہ کسی دشمن نے اڑائی ہے کہ مشہور ترین ڈراموں میں کھودا پہاڑ نکلتا چوہا تک نہیں۔ ایک ہیرو خود کو خط لکھ کر عاشقی کرتا تھا اور ایک ہیرو سابقہ بیوی سے ملاقات میں وفات پا گیا۔ دنوں میں انسان کروڑ پتی ہو سکتا ہے، ڈراموں میں منطق کہاں سے آ گئی؟ ڈرامہ چھوڑو، ڈرامہ نگار کی بات کرو۔ وہ بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

ہاں زبان کا ذرا کڑوا ہے، چلو مان لیا، تھوڑا زیادہ ہے، اچھا اچھا مان لیا بدتمیزی کی حد تک ہے۔ پھر کیا ہوا؟ اب بندہ دو چار مشہور ڈرامے لکھ ڈالے تو اتنا بدتمیز تو ہو سکتا ہے نا؟ اس میں اس کا کیا قصور شہرت کے بعد اکثر لوگ ہو جاتے ہیں بدتمیز، یہ ہو گیا تو کیا بڑی بات ہو گئی۔ یہ کہنا کہاں کا انصاف ہے کہ اوقات سے باہر ہو گیا ہے۔ یہاں مولوی شہرت کے بعد آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، بہرکیف خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

کچھ کہتے ہیں کہ فرعونیت ہے اس کے لب و لہجے میں۔ کیا اول فول بکتے ہو دنیا والو! اب انٹرویو کرنے والے یا والیاں جب بار بار نازل ہوں گے تو ان کو ذرا اوقات میں رکھنے کے لیے کیمرے پہ جھاڑ دینا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ کیمرے پہ فرمودات بیان کرتے رعونت سے سگریٹ کا دھواں چھوڑنا تو فیشن ہے یار، سٹائل سمجھ لو۔ بھئی بڑے آدمی سے بات کرنے کی تہذیب ہوتی ہے۔ ماں بننے کی کوشش نہ کرے کوئی۔ یہ سب اینکرز کا قصور ہے جو غصہ دلاتے ہیں۔ خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

کئی بار خواتین کی تذلیل پہ اتر آنے والی بات بھی سن لو۔ بھئی ایسی کوئی بات نہیں، منہ سے نکل گیا ہو گا کہ کسی کے لیے کہ بکواس بند کرو، تمہارے جسم پہ کوئی تھوکتا بھی نہیں، یہ سب تو بندہ کہہ جاتا ہے لمحاتی طیش میں۔ اب اگر اتنے اعلیٰ رائٹر کو شو میں بلایا ہے تو ان خاتون کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ مدمقابل کون سی ہستی ہے۔ ان کو بولنے کی کیا ضرورت تھی جب دور حاضر کا عظیم دانشور بیٹھا تھا۔ ان کو اپنی رائے اپنے تک محدود رکھنی چاہیے تھی اور بس خلیل کی رائے کو مقدم رکھنا چاہیے تھا۔ سب شو والوں کا قصور ہے کہ مس میچ جاہل طاغوت سے لاعلم مہمان مدعو کیے۔ خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

اچھا بھلا خدائی فوجدار انسان ہے۔ وفا کی مورت ٹائپ، دین کی تبلیغ اور نیکی کا درس دینے والا۔ اسی درس میں وہ سوال کرنے والوں اور والیوں کو بکواس بند کرنے کا کہتا ہے کیونکہ جس بات کا جواب نہیں وہ بکواس ہی تو ہے۔ بکواس کسے برداشت ہے بھلا، سوائے پاکستانی قوم کے، جو بکواس کو مقبول کر دیتی ہے۔ خیر، پارسائی اور نیکی ایسی کہ دامن نچوڑیں، فرشتے وضو کریں۔ پارسائی کا درجہ ملاحظہ ہو کہ نجی ملاقاتیں بھی وقت فجر رکھی ہیں، عین جماعت کے وقت۔ وہ وقت بیت گیا جب دن کو کام کیا جاتا تھا اور رات کو آرام۔ اب تو نیک صفت لوگ بھی رات کو محافل سجا کر کام کرتے ہیں اور دن کو محو استراحت ہوتے ہیں۔ یہ کس ناہنجار نے اڑائی ہے کہ یہی کام کے اوقات بدنام بازار کے ہوا کرتے تھے۔ خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

پھر ہر انسان کی پسند ناپسند ہوتی ہے۔ اب اگر کسی کو صبا قمر پسند نہیں تو وہ برقعہ بھی پہن لے تو ناپسند ہی رہے گی۔ ایسے ہی کپڑے مہوش حیات پہن لے تو خیر ہے، اس پہ جچتے بھی تو ہیں۔ پھر رول کا تقاضا ہوتے ہیں ایسے لباس۔ صبا قمر کو ہر رول میں مشرقی اقدار کو ترک نہیں کرنا چاہیے اور ڈانس کا سین بھی مکمل حیا داری سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

نعمان اعجاز بھلے دنیا کو بھاتا ہو۔ خلیل کو نہیں پسند تو نفرت کا اظہار ٹی وی پر کرنے میں کیا حرج ہے۔ بھئی دل کا صاف ہے خلیل، چاہے دل میں گٹر ہو، انڈیل کر خالی کر دینا چاہیے۔ خالی ہو گا تو پھر سے بھرے گا۔ صاف دل لوگوں سے لوگ ویسے ہی بغض پال لیتے ہیں۔ خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

اب اس تازہ قضیے کو لے لیجیے۔ یار بندہ کہہ جاتا ہے دنیا کے سامنے کہ میں نیک، وفا دار، دین دار، شرع کا پابند اور ڈریکولا والی خصوصیات والا بندہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ میں دل پشوری نہ کیا کروں۔ کوئی لندن پلٹ لڑکی بلائے تو راتوں کو نہ جاؤں؟ کہاں لکھا ہے کہ بندہ جو کیمرے پر دکھائے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ ایک پرائیویٹ لائف ہے بھئی۔ کرنا پڑتا ہے ڈھکوسلہ دنیا کے سامنے نیک نامی کا ، کرنا پڑتا ہے دوسروں کو ذلیل خود نمائی کے واسطے، لینے پڑتے ہیں مشہور لوگوں کے نام اپنی مشہوری کی خاطر، تکبر دکھانا پڑتا ہے ورنہ لوگ عاجز بندے کو کھا جاتے ہیں، جانا پڑتا ہے راتوں کو نامحرم عورتوں سے ملنے، دینے پڑتے ہیں پیسے یار ایسے کام اگر عیاں ہو جائیں تو، جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اگر بات کھل جائے تو، کوئی پوچھ لے تو ’بہن پھڑی گئی جے‘ جیسی بکواس کرنی پڑتی ہے، ہو جایا کرتی ہے تنظیم سازی ڈرامہ سازی کے مترادف، بن جایا کرتی ہیں ویڈیوز، سمجھا کرو یار، تم لوگ مشہور نہیں ہو تم کو کیا معلوم، لائم لائٹ میں رہنے اور آنے کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ پی کر شراب، ثواب مانگنا پڑتا ہے بھائی، سمجھو، انسان بنو انسان، طاغوت مت بنو۔

اب یہ مت کہنا کہ خلیل دو ٹکے کا مرد ہو کر رہ گیا ہے۔ خلیل بے چارہ تو بے گناہ اور درویش انسان ہے۔

Facebook Comments HS