خلیل کے پیروکاروں سے چند سوال
خلیل میاں کی ننگ دھڑنگ ویڈیو کیا سامنے آئی خواتین کے خلاف خلیل کی فوج میں شامل لوگ دم کٹی چھپکلی کی طرح بلبلا اٹھے۔ کوئی اس کی میز پر سیرت کی کتاب رکھا ہونے پر اس کے گناہ عظیم کو دھو رہا ہے تو کوئی یہ کہہ کر خلیل کو بینیفٹ آف ڈاؤٹ دے رہا ہے کہ کیا پتا وہ ٹھیک کہہ رہا ہو۔ خلیل کے پیروکار ابھی بھی اس کے کارناموں پر بات کرنے کے بجائے ساتھ موجود لڑکی کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اب اس کی وجہ عورت دشمنی کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے؟
اب یہ اقرار تو خلیل خود کر چکا ہے کہ اس کی نازیبا ویڈیوز نقلی نہیں بلکہ اصلی ہیں اور بندوق کے زور پر بنوائی گئی ہیں۔ عاشقان خلیل اس بات کو من و عن تسلیم کر لیں لیکن انتہائی سیدھا سوال یہ ہے کہ کیا بندوق کے زور پر ویڈیو بنانے والوں کو کیمرہ چھپانے کی ضرورت تھی؟
مزید یہ کہ جس انداز میں خلیل گفت و شنید میں مصروف ہے اور ہاتھ میں سگریٹ سلگائی ہوئی ہے اسے دیکھ کر تو کوئی دیوانہ ہی اس بات پر یقین کر سکتا ہے کہ وہاں جو کچھ بھی ہوا وہ بندوق کی زور پر ہوا۔
خلیل کے پاس جا کر اسے تسلیاں دینے اور حق اور سچ کا علم بردار قرار دینے والی دینی شخصیات سے کوئی سوال کرے کہ کیا خلیل کسی مسجد کا امام ہے؟ اس قسم کی ویڈیوز سامنے آنے پر تو مغرب کے حکمران بھی اپنی کرسی چھوڑ دیتے ہیں جبکہ خلیل رومانوی ڈرامہ نگار ہے جس کی فلموں میں آئٹم سونگ بھی رکھے جاتے ہیں۔ اپنی نازیبا ویڈیو کو وہ خود حقیقی قرار دے چکا تو آخر اس جیسے شخص کو کس لئے دین سے جڑے لوگوں کی حمایت مل رہی ہے؟
اس معاملے میں خلیل کی طرفداری کرنے والے لڑکی کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، بالکل ٹھیک، لیکن کیا وہ لڑکی بھی ٹی وی پر لوگوں کو اخلاقیات پر بھاشن دیا کرتی تھی؟ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو لڑکی اور واقعے سے جڑے تمام افراد کو سزا ملے گی لیکن کیا خلیل جیسے منافقین پر سب کچھ کر کے بھی کوئی احساس شرمندگی یا ندامت پیدا ہو گا؟
قصہ مختصر کسی بھی شخص کی نجی تصاویر اور ویڈیوز سامنے لانا انتہائی سنگین جرم ہے اس عمل کی جتنی مذمت کی جائے اتنا کم ہے۔ ایسے مجرموں کو جلد سے جلد قانونی کٹہرے میں لانا ضروری ہے لیکن خلیل جیسے لوگ جو خود ٹی وی شوز میں بیٹھ کر خواتین کے لباس اور ان کی ذاتی زندگی کی تضحیک کرتے ہیں اور کیریکٹر سرٹیفیکیٹ بانٹتے ہیں، کسی رعایت کے مستحق ہیں؟
لیکن گزشتہ چند برسوں سے معاشرے میں جس طرح عورتوں کے خلاف نفرت کی فضا قائم کی گئی ہے اس میں یہ بات دعوے سے کہی جا سکتی ہے کہ چند ہی دن میں خلیل پہلے سے زیادہ ڈھٹائی اور بدزبانی کے ساتھ ٹی وی پر بیٹھا نظر آئے گا کیونکہ المیہ ہے عورت کے خلاف جتنا زیادہ بولو گے اور مذہب کے نام پر جتنی دھول جھونکو گے عوام اتنی ہی طرف داری کریں گے۔ لوگوں کو اگر ثبوت سے فرق پڑتا تو یہی بات ہنسنے کے لئے کافی تھی کہ ڈاکٹر نے خلیل کو دن میں نکلنے سے منع کیا ہے، خلیل نہ ہوا اسٹار پلس کا ڈرامہ ہو گیا تمام نوٹنکی کے بعد بھی لوگ کوئی نہ کوئی لاجک نکال لیتے ہیں۔
خیر ہم صرف دلیلیں دے سکتے تھے لیکن یہ دلیلیں کس کام کی جب آپ کو فیصلہ عقل سے نہیں بلکہ محض عورت دشمنی کو برقرار رکھنے کے لیے کرنا ہے۔ شاعر یوں ہی تو نہیں کہہ گیا:
ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں


