حیدر آباد: ہوا دانوں سے، لا مکاں سے گذر گیا
حیدرآباد ہواؤں کا شہر ہے اور گنجان آباد بھی۔ وسائل میں گنجا اور مسائل آباد۔ ہم تو اسے دل کی آنکھ سے دیکھتے اور ہر لمحہ لطف اٹھاتے ہیں۔ شہر سے تعلق اور وابستگی رکھنے والا ہر بڑا نام اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اور تو اور شہر کی پہچان ”ہوا دان“ ختم ہو گئے اور بلند و بالا تعمیرات کی وجہ سے ہوائیں بھی روٹھ رہی ہیں۔ باقی رہ گیا ہے کچرا۔ اس شہر کا ہر دستور نرالا ہے۔ کھوج لگانے والے خود کھو گئے۔ لیکن کیا کیجئے کہ اس پورے عالم ناپائیدار میں ہمارا دل کہیں لگتا ہے تو صرف اسی اجڑے دیار میں۔ آئیے مل کر اندھیروں میں ٹمٹماتے کچھ جگنو تلاش کریں مگر اس کے لئے ایک شرط ہے۔ آپ کو بولی ووڈ کی شاہکار فلم شعلے کا وہ سین تو یاد ہو گا جس میں ویرو اپنے دوست جے کا رشتہ مانگنے بسنتی کی ماسی کے پاس جاتا ہے۔ مقدمہ سن کر ماسی کہتی ہے کہ ایک بات تو ماننی ہوگی تمہارے دوست میں لاکھ برائیاں صحیح مگر تمہارے منہ سے اس کے لئے تعریف ہی نکلتی ہے۔ آپ کو بھی اپنے اپنے شہروں سے محبت ہے اور وہاں کم و بیش یہی مسائل درپیش ہوں گے۔ شرط یہی ہے کہ بسنتی کی خالہ بنیے اور کچرا کنڈی سے پھول جھڑتے دیکھیے۔ جگنو چنتے جائیے۔ امید ہے حیدرآباد کا یہ تعارفی سلسلہ برقرار رہے گا۔ آج ہم سڑکوں پر مٹر گشت کریں گے اور ٹریفک کے ساتھ جام ہوں گے، حیدرآبادی بولی میں ”صفا جام“ ۔
حیدر آباد شہر کی تنگ گلیوں، پُر ہجوم راستوں اور بے ہنگم بازاروں میں ٹریفک کے ساتھ عقل کا پہیہ بھی جام رہتا ہے۔ اس شہر میں ٹریفک سگنل یا اشارے کبھی مستقل نصب نہیں رہے۔ پہلا قابل ذکر سگنل جمخانہ کے پاس پاکستان چوک پر تھا۔ کچھ عرصہ قبل ایک اور سگنل قاسم چوک پر بھی لگایا گیا۔ عقل کہتی ہے کہ گاڑیوں کی بے ترتیب آنیاں جانیاں اور جلد بازیاں حادثات کا باعث ہوتی ہیں جنہیں سگنلز یا اشارے نصب کر کے قابو کیا جاسکتا ہے۔ عقل گئی بھینس چرانے کالی موری؛ سب سے زیادہ ٹریفک حادثات اسی قاسم چوک پر ہوتے ہیں جہاں اشارے لوڈ شیڈنگ میں بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔
دراصل یہاں کے سادہ لوح گاڑی بانوں کو سگنلز کی عادت ہی نہیں۔ اور پھر وہ جنڑے ہیں، گھر والی کے علاوہ باہر کسی کے اشارے پر کیوں چلیں؟ اس جواز کو تسلیم کرنے کے لئے سوچ کو تیز اور غصے کو ٹھنڈا رکھنا ہو گا۔ یہاں کی مین پوری اور رنگین پیکنگ والے گٹکے سوچ کو تیز اور غصہ قابو رکھنے میں امرت دھارا ہیں بلکہ منہ بند رکھنے کا بھی ہو الشافی انتظام ہیں۔ دیکھیے طرح طرح کے ناموں والے گٹکوں کے خالی ریپرز سے سڑکیں سج رہی ہیں اور پچکاریوں سے رستے رنگین ہیں۔ آئیے! آگے چلتے ہیں اور ہم شہر کے داخلی و بغلی رستوں پر بغلول صفت بپا سیل رواں اور ہیجان مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ لیکن پہلے ہر قسم کی فکر کو خود سے آزاد کر دیں، دلیل کو چھٹی پر بھیج دیں۔
شاہراہیں تو دور، سڑکوں کے نام پر یہاں جو تنگ سی من موہنی گلیاں ہیں، اچھے وقتوں میں ٹریفک کا بہاؤ بحال رکھنے کے لیے ان متوازی راستوں کو ون وے یعنی صرف آنے اور صرف جانے کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ کچھ گلیوں کو احتراماً روڈ کہہ کر بھی پکارا گیا۔ جیسے دو متوازی گلیوں پر مشتمل جیل روڈ۔ بات میں وزن تو ہے ؛ ”ایک رستے پر چل کر جو جیل جائے گا وہ واپس دوسرے رستے ہی تو آئے گا“ ۔ اسی طرح فوجداری اور رسالہ روڈ، آنے کا اور، جانے کا اور۔ لیکن حرام ہے جو کبھی اس پر عمل ہوا ہو۔ یہاں کی ٹریفک بادِ مخالف میں تُن دیے جانے کی عادی ہو چکی ہے۔
یہ شہر مزاجاً حزب اختلاف کی سواری ہے۔ موٹر سائیکلوں کا اژدہام سامنے سے اُمڈا پڑتا ہو، آنکھ بند کر کے سمجھ لیجیے کہ سامنے رستہ آنے کے لئے نہیں بلکہ جانے والا ہے۔ قدرت و فطرت کی آنکھ نے اس عمل کو قانون شکنی گردانا مگر اس جرم پر بھی جے کے دوست ویرو کی طرح ہماری محبت نے فوراً انگڑائی لی اور ایک قانون گو آسان حل پیش کر دیا کہ ہر آنے والے راستے پر ”آنا منع ہے“ اور جانے والے راستے پر ”یہاں سے جانا منع ہے“ لکھوا دیا جائے۔ جمہور کا مزاج ہے کہ جہاں جو کرنے سے منع لکھا ہو وہاں وہ ضرور کرتے ہیں ؛ چھوٹا تو گاتے گاتے لازم، گاہے بڑا بھی کر آتے ہیں۔ لہذا آنے والے رستے پر ممنوع کا بورڈ دیکھ کر لوگ ادبدا کر آئیں گے۔ یوں ٹریفک رواں ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ نظر انداز رہے اس شہر کے گھٹے گھٹے جذبات کو بھی تسکین ملے گی۔
موٹرسائیکل ہمارے شہر کی پسندیدہ سواری ہے جسے سوار اپنی گاڑی کہہ کر پکارتا ہے۔ اگر آپ کار میں ہوں تو ہوں، ”گاڑی“ موٹر سائیکل والا چلا رہا ہے اور آپ کے بائیں جانب سے اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو سمجھ لیجیے گا اسے نزدیکی کٹ سے دائیں طرف نکلنا ہے۔ وہ الٹے ہاتھ پر آ کر آپ کے بونٹ کے بالکل سامنے سے اپنا رخ دائیں کو موڑے گا۔ اپنی کار اور اس شاہ سوار کی حفاظت اب آپ کا ذمہ ہے۔
ہر دو اطراف نقصان کی صورت میں جمع ہونے والی بھِیڑ غریب موٹر سائیکل والے کو ہرگز ذمہ دار نہ ٹھہرائے گی۔ سڑک پر فوری احتساب آپ کا ہو گا۔ اسی طرح مخالف سمت سے آپ کی جانب انتہائی تیز رفتار بائیک آنے کا مطلب ہے کہ اس سُورما سوار کو ہرگز کوئی اہم کام درپیش نہیں اور اگر ہارن بھی مسلسل بجا رہا ہے تو سمجھ لیں مہاشے گھر سے بھی بالکل فالتو اور فارغ ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ اپنی رفتار دھیمی کر کے اس کو احتراماً رستہ دیں۔
شہید ملت پارک کے سامنے آٹو بھان پر ماہرین نے یو ٹرن فراہم کیا مگر یاروں نے ٹریفک انجینئرنگ فیل کر کے اپنے قابل ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کیا ہے۔ کار رکشہ بائیک حتیٰ کہ گدھا گاڑی، سب جیالے الٹی طرف سے سیدھے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ دِکھنے میں سیدھے سادھے رفیق راہ راست یعنی سیدھی راہ پر چلنے کے کی کوشش میں رہتے ہیں اس لئے یہاں اکثر ٹریفک کا سیدھے ہاتھ پر چلنے کا چلن ہے۔ اب اس صراط مستقیم پر کسی کو جلن ہو تو ہو۔ انصاف تو یہ ہے کہ حق پرستی کے علاوہ یہ ترقی پسندی کی بھی یہاں واحد علامت ہے کہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سیدھے ہاتھ چلتے ہیں۔
اس شہر عطرت و فطرت میں جابجا ایک ایسی عجیب الخلقت سواری رینگتی نظر آتی ہے جس کی مثال روئے ارض پر نہیں۔ تین پہیوں پر سسکتی دم توڑتی اس سواری کی ساخت الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی البتہ ایک کرخت سی آواز نکال کر انداز دیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر ڈَھلا اس کا بونٹ جیومیٹری کی پانچوں اقسام کو مات دیتا ہے؛ بالخصوص اینالیٹکل جیومیٹری کو کہ اس سواری کا اگلا حصہ نہ گول ہے نہ بیضوی، نہ زاویہ رکھتا ہے اور نہ نظریہ۔ اسے احتراماً فور سیٹر کہا جاتا ہے جس میں خواتین سمیت دس افراد ٹھونسے گئے ہوتے ہیں۔ پیار میں یہ مُنی ٹیکسی کہلاتی ہے۔
بعینٖہ جب ایل پی جی سلنڈر لٹکتے رکشے سے مڈبھیڑ ہو جس کے پیچھے ”سازگار“ بھی لکھا ہو تو سمجھ لیجیے ناسازگار حالات ہیں۔ تین پہیوں والا ہینڈسم رکشہ اپنی کلنگ مسکراہٹ لیے مشکل رستوں پر ابلتے گٹر کے باعث بنی تنگ آبناؤں سے یوں فراٹے بھرتے نکلے گا کہ عقل دنگ رہ جائے۔ جام بلکہ صفا جام پھنسے ٹریفک کے درمیان جہاں کوئی معقول نوجوان پیدل بھی نہ گزر سکے، یہ بازی گر اگلا پہیہ گھسیڑ کر اپنا رستہ تخلیق کرتا ہے پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر وہ سوزوکی کیری بھی دستیاب ہے جس نے ٹوٹی کھچاڑا باڈی اور مردار پہیوں پر پوری سڑک ہنس کے گزار لی۔ یہاں کی ٹریفک کی روانی دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ گاڑیاں بھی پٹرول ڈیزل کی بجائے مین پوری گٹکے پر رواں دواں ہیں۔


