بڑے لاٹ صاحب: قابلیت کا رائیگاں سفر

سرسبز قرینہ اور تدفینی سلیقہ دارالحکومتی قبرستانوں کا حسن ہے۔ جدید سہولیات مہیا اور سرکاری خرچ پر بہم ہوں تو جنازہ وی آئی پی، موت کا منظر دلکش اور سوگ پرکشش ہو جاتا ہے۔ گلابی جاڑے میں سرمئی بادلوں والے ایک روز نئی چمکتی میت گاڑی سے تابوت اتارا گیا۔ پیچھے پیچھے پانچ سات چمچہ نما افراد بھی چمچماتی گاڑیوں میں آئے تھے۔ ان میں چھاتہ تھامے دو ڈھائی عورتیں وغیرہ سی بھی تھیں اور متبسم چہرہ سیاہ خضابی مہنگے

Read more

کوتوال: امی کا خاکہ

پیار پیار یا پھر چھیڑ چھاڑ میں بہن بھائیوں اور دیگر خاندان والوں کی طرف سے عطا کیے گئے عرفی نام عموماً معنی خیز اور شخصی غماز ہوتے ہیں۔ عرفیت برجستہ اور با ربط ہو تو تمام عمر ساتھ جیتی ہے۔ کوتوال ایک عمدہ لفظی ترکیب تھی جو بڑے بہن بھائیوں یا شاید کسی خاندانی بزرگ کی طرف سے ودیعت ہوئی۔ برطانوی راج میں ذیلدار، تحصیلدار اور مختارِکار کو کوتوال پکارا جاتا تھا۔ کوٹ یعنی قلعہ اور وال کا مطلب

Read more

ہوادان سے : اُس شہر ِخوباں سے گزر گیا

ہر شہر منفرد پہچان رکھتا ہے۔ پرانا ہو تو بلند دروازے، پکے قلعے، اونچے برج، مقدس معبد، میناروں اور گھنٹہ گھروں کے علاوہ مخصوص اطوار اور چال چلن والے جان دار کردار بھی شہر کی پہچان بن جاتے ہیں۔ بات اندرون شہر کردار سازی، بلکہ کردار سوزی کی ہوتو جہاں دلی و لاہور کے رنگ باز، احمد آباد اور لکھنؤ کے پتنگ باز اور قاہرہ و لندن کے نوسرباز مشہور ہیں وہیں فیصل آباد کے جگت باز، پیرس کے شوباز،

Read more

ہوادان سے: جہان فانی سے گذر گیا

انتہائی افسوس کے ساتھ خبر دی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا کے بطل جلیل، دار ارقم ٹک ٹاک سے سند یافتہ شہر کے نامور فیس بُکیے، ایکس والے مجاہد اور واٹسیپ گروپس کے جری سپاہی ای (الیکٹرانی) وفات پا گئے۔ اس اچانک موت کا سبب فائر وال میں الجھ کر جھلسنا تھا۔ مرحوم کو فوری طور پر بین الاقوامی گیٹ وے لے جایا گیا جہاں انہیں وی پی این ٹریٹمنٹ دی گئی مگر زخم کاری ہونے کے باعث وہ جانبر

Read more

حیدر آباد: ہوا دانوں سے، لا مکاں سے گذر گیا

حیدرآباد ہواؤں کا شہر ہے اور گنجان آباد بھی۔ وسائل میں گنجا اور مسائل آباد۔ ہم تو اسے دل کی آنکھ سے دیکھتے اور ہر لمحہ لطف اٹھاتے ہیں۔ شہر سے تعلق اور وابستگی رکھنے والا ہر بڑا نام اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اور تو اور شہر کی پہچان ”ہوا دان“ ختم ہو گئے اور بلند و بالا تعمیرات کی وجہ سے ہوائیں بھی روٹھ رہی ہیں۔ باقی رہ گیا ہے کچرا۔ اس شہر کا ہر دستور نرالا

Read more

کردار کشتی: بڑے ڈاکٹر صاحب

علاقے میں پنسار کی طرح عوامی دلچسپی کا سامان لئے ایک اور دکان بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ ڈاکٹر کی دکان کہلاتی ہے۔ دکان دار ڈاکٹر اسے کلینک کہلوانے پر مصر ہوتا ہے۔ نامعلوم اسے علاج کی دکان کیوں نہیں کہتے۔ برابر میں موجود جنرل اسٹور کو پرچون کی دکان ’کلاتھ ہاؤس کو کپڑے کی دکان‘ الیکٹرک اسٹور کو بجلی کے سامان کی دکان میڈیکل اسٹور کو دواؤں کی دکان حتیٰ کہ ریڈیالوجی سنٹر کو ایکسرے والی دکان کہہ دیجیئے

Read more

کردار کشتی: بڑے ابا

مشترکہ خاندانی نظام یعنی جوائنٹ فیملی سسٹم میں ”بڑے ابا“ کا کلیدی کردار ہے۔ متعدد بھائی اور ان کی اولاد در اولاد ایک چھت تلے بظاہر خوش و خرم اور آسان زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ دیکھنے والے بھی اس اتحاد بین الفیملین پر ”واہ واہ“ کے ڈونگرے برساتے اور ”عش عش“ کرتے ہیں۔ کامن کمرے اور کمبائن باتھ رومز گھر کا اثاثہ جب کہ مشترک تولیے اور لحاف گدے اس طرز زندگی کا خاصہ قرار پاتے ہیں۔ زندگی پھولوں

Read more

کردار کشتی: ہیڈ ماسٹر صاحب

آدم کے برتھ ڈے پر فرشتوں نے حجت کی کہ انسان زمین پر اودھم کرے گا ’فساد مچے گا اور خون ریزیاں ہوا کریں گی۔ اسے دل لگی کے واسطے حوا بھی چاہیے ہوگی۔ خداوند کا جواب بھی اٹل تھا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ ابلیس استاد پھر بھی نہ مانے اور طویل مہلت طلب کی۔ ایسا لگتا ہے کہ رد دلیل کے واسطے اور شیطان کو تھکانے کے لئے ہیڈماسٹر صاحب کی ویکینسی نکالی گئی؛ انسانیت

Read more

کردار کشتی: قبلہ بڑے حکیم صاحب

شہر میں روز بروز تیزی سے معدوم ہوتے کرداروں میں ایک ”بڑے حکیم صاحب“ بھی ہیں۔ ایک وقت تھا جب علاقے کی ممتاز شخصیات کی فہرست میں بڑے حکیم صاحب نمایاں ہوا کرتے تھے۔ اب تو ”قبلہ بڑے حکیم صاحب“ ایک اشتہاری کردار بن کر رہ گیا ہے جو پوشیدہ امراض کا علاج سرعام جلی حروف میں اور نوشتۂ دیوار کرنے کے دعویدار ہیں۔ شہر کا شہر بیمار بنا پھرتا ہے اور یہاں لاحق بیماریاں ہرگز پوشیدہ نہ رہی ہیں۔

Read more

بڑے حاجی صاحب

وطن عزیز طرح طرح کے قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ زمین میں چھپی معدنیات، اس کے اوپر اگنے والی فصلوں اور نباتات کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی بشریات اہم خزانہ ہیں۔ ہماری کثیر آبادی طرح طرح کے انوکھے کرداروں پر مشتمل ہے جو پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ خود کفالت کی اس دوڑ میں ہر طبقہ شامل ہے۔ استاد، حکیم، طیب، مستری اور کاریگر حضرات تو مسلسل دیگر ممالک کو برآمد بھی کیے جاتے اور زر مبادلہ

Read more