سلسلہ ٹھرکیہ کے سرخیل کی نازیبا ویڈیو وائرل

کہیں پڑھا تھا کہ خاتون اپنی پاک دامنی و عصمت کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مقدس روپ نہیں دھار سکتی جبکہ مرد کے پاس داڑھی، تسبیح اور الحاج کہلوانے کے علاوہ درجنوں آپشن موجود ہوتے ہیں۔
یہاں مقدس استعاروں یا داڑھی کا مذاق اڑانا قطعاً پیش نظر نہیں ہے بلکہ منافقت، دوغلا پن، کردار میں کھوٹ اور اخلاقی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرنا ہے۔ ہماری نظر میں استحصالی اور مفاد پرست عناصر مذہب کو ایک ایسی آڑ، پناہ گاہ یا سہارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کے پیچھے بڑے بڑے عیب بڑی آسانی سے چھپ جاتے ہیں اور اپنے کردار کو ایک ہی جھٹکے میں بلیک سے وائٹ کر لیتے ہیں، اس قسم کے منافقین کو مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا اور نا ہی انہیں اس بات کی کوئی فکر یا پرواہ ہوتی ہے کہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے مذہب ایسا خوبصورت نظام بدنام ہو رہا ہے۔ ان کا مقصد تو صرف اپنی گردن بچانا اور اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
یہ بات ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لی گئی ہے کہ "خاتون مجسمہ برائی اور ہر لحاظ سے مرد کو لبھانے اور برائی کی طرف مائل کرنے والی ہوتی ہے اور اس کا ہر روپ شہوت انگیز اور دعوت گناہ سے لبریز ہوتا ہے“
مذہبی مارکیٹنگ کے اس دور میں ”رانگ نمبرز“ ہر وہ روپ اختیار کر لیتے ہیں جس سے ان کی دنیا و آخرت پر کوئی حرف نہ آئے اور اگر کبھی نفسانی خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہک جائیں یا کہیں خفیہ کیمرے کی آنکھ میں ان کے کچھ رنگین مناظر محفوظ ہو جائیں تو "ہم روپ“ فوری طور پر دفاع کے لیے میدان میں اتر آئیں اور کردار کی گواہی دینے کے لیے گھر تک پہنچ جائیں۔
ایک منافق سماج کی، خواتین کے متعلق یہی اٹل ذہنیت ہوتی ہے کہ "مرد کو بہکانے میں زیادہ قصوروار خاتون ہوتی ہے مرد تو بہت محتاط ہوتا ہے“۔ کہیں یہ خام خیالی، وہم یا زعم تو نہیں؟
ایک نازیبا ویڈیو کے منظر عام پر آ نے کے بعد یہ تک کہا گیا کہ زبردستی رومانس کروایا گیا تاکہ بدنامی کا پورا بندوبست کیا جا سکے۔ زبردستی کا رومانس کیا ہوتا ہے؟ موصوف کی سادگی و معصومیت پر کوئی فدا ہو جائے۔
حیرت تو اس وقت ہوئی جب اہل جبہ و دستار نے ببانگ دہل یہ کہتے ہوئے گواہی تک دے ڈالی کہ موصوف کی میز پر سب سے اوپر سیرت کی کتاب موجود رہتی ہے اور ان کے نزدیک موصوف کی یہی ادا معتبر و مستند ٹھہری۔ اگر کسی کے معتبر اور بلند کردار ہونے کا یہی پیمانہ یا کسوٹی ایک حتمی اصول کے طور پر تسلیم کر لی جائے کہ کسی شخص کے بھی مطالعہ کی میز پر ”سیرت“ کی کتاب موجود ہو تو اس پر کسی قسم کی دشنام طرازی نہیں کی جا سکتی پھر تو سارا معاملہ ہی ختم سمجھیں جناب۔
حال ہی میں خلیل الرحمٰن قمر کی ایک نازیبا ویڈیو منظر عام پر آئی تو ہمارے معزز و محترم علمائے کرام نے یہی دلیل پیش کی اور کہا کہ قمر بھائی تو کردار کے غازی ہیں اور وہ ایسی قبیح حرکات نہیں کر سکتے، جس بندے کی میز پر سیرت کی کتاب موجود رہتی ہو وہ ایسے کردار کا مالک نہیں ہو سکتا۔ یہ سب لبرلز کا کیا دھرا ہے جنہوں نے انہیں بدنام کرنے کے لیے ایک منصوبہ بندی کی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف انتہائی ڈھٹائی سے ان کے ساتھ ہم آ واز ہے اور سنجیدگی کی پوری ایکٹنگ کر رہا ہے۔ شوبز اور مارکیٹنگ کا آ دمی ہے، بخوبی جانتا ہے کہ اس سماج میں کیا بکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے کن کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ موصوف نے بڑی مکاری و عیاری سے وہ سارا بندوبست کر لیا جس کی وقت کی مناسبت سے اسے ضرورت تھی۔
کیمرے کی آنکھ کسی کا لحاظ نہیں کرتی، یہ بڑے بڑے پاک بازوں کے چہروں سے نقاب اتار پھینکتی ہے۔ لمحہ موجود ایسے برائے نام قسم کی مقدس و محترم ہستیوں پر بہت بھاری ثابت ہو رہا ہے جو مذہب و روحانیت کی آڑ میں اپنے تقدسی چہرے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
کیمرے کی آنکھ نے بڑے بڑے پارسائی کے برج الٹا کے رکھ دیے ہیں ورنہ قمر جی کی منافقت، قول و فعل کے واضح تضادات اور اس کے پیچھے چھپے اس کے حامیوں کا سماج کو کیسے پتا چلتا؟ اب وقت اور کیمرے کی آنکھ سے چھپنا آسان نہیں رہا، یہ ڈیجیٹل آ نکھ ہر اس منافق کو ادھیڑ کے رکھ دیتی ہے جو موقع پرست ہوتا ہے اور ہجوم کے حساب سے اپنے پرسونا ماسک تبدیل کرتا رہتا ہے۔
باقی کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا یا بیڈ روم میں گھسنا کوئی مناسب رویہ نہیں ہوتا بلکہ بیمار ذہنیت کی غمازی کرتا ہے، کوئی اپنی زندگی میں کیا کرتا ہے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں مسئلہ منافقت اور دوغلے پن سے ہے، جب آپ خود کو اخلاقیات کے اعلیٰ معیار پر رکھتے ہوئے دوسروں کے کردار کے فیصلے کرنے لگیں اور خواتین کے لباس و جسم پر تاک جھانک کرتے ہوئے انہیں بدکردار ثابت کرنے لگیں گے تو انگلیاں آپ پر بھی اٹھیں گی اور آپ کو بھی جواب دہ ہونا پڑے گا

