شاہنامہ اسلام اور حفیظ جالندھری
ایک زمانہ تھا جب علماء و خطباء ہر جمعہ کے خطبہ کو شروع کرنے سے قبل مسدس حالی کے اشعار یا شاہ نامہِ اسلام میں سے چند اشعار لازمی پڑھتے تھے جن کا تعلق، توحید، رسالت، عقیدہ آخرت یا اسلام کی اشاعت و ترویج سے ہوتا تھا۔ متواتر پڑھنے سے وہ اشعار نمازیوں اور بالخصوص نوجوانوں کو زبانی یاد ہو جاتے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے ہمارے گاؤں کے حافظ امیر سلطان صاحب مرحوم (جن کو امیر شریعت حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ) کے ساتھ نشست و برخاست کا شرف حاصل تھا) ہر جمعہ کے اردو خطبہ سے قبل ترنم اور سوز کے ساتھ یہ اشعار پڑھتے تھے۔
کرے غیر بُت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بحرِ سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نظریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
اس طرح کے مسدس کے سینکڑوں اشعار ان کو ازبر تھے مگر آج شاید کچھ واعظین کو سِرے سے مسدس مدوجزر اسلام کا پتا ہی نا ہو۔
یہی معاملہ شاہ نامہ اسلام کا ہے۔ جس کے شاعر حفیظ جالندھری ہیں جو قومی ترانے کے بھی خالق ہیں۔ سیرت و تاریخ اسلام پر مشتمل یہ کتاب شاہ نامہ اسلام چار جلدوں پر مشتمل ہے۔
حفیظ جالندھری نے فارسی میں بھی شاعری کی اور آپ فارسی سخنوری میں مولانا گرامی کے شاگرد تھے آپ نے گیت، مثنوی، غزل، نظم اور رزمیہ شاعری کہی، آپ کے افسانوں کے مجموعے بھی منظر عام پر آئے۔ منظومات کے مجموعے ”نغمہ زار“ اور ”سوز و ساز“ آپ کی بہترین سخن سازی کا منہ بولتا ثبوت ہیں
مدینے کے مسافر، شہسوار کربلا، راوی میں کشتی، کرشن بنسری، عید میلاد النبی، رقاصہ وغیرہ وہ نظمیں ہیں جو سوز و ساز میں حفیظ کی شاعری کے کامیاب ترین نمونے ہیں۔
شاہ نامہ اسلام کی چار جلدیں ہیں اور قریباً دس ہزار اشعار ان میں موجود ہیں۔ شروع شروع میں کتاب کے نام پر بھی اعتراض اٹھائے گئے کہ جی شاہ نامہ تو بادشاہوں کا لکھا جاتا تھا جیسے فردوسی نے غزنوی کے لیے ”شاہ نامہ“ لکھا تھا۔
مگر میرے تئیں اس مثنوی کا نام شاہ نامہ اسلام کیوں نہ ہوتا کہ شاہِ دو جہاں ﷺ کی بات ہو رہی ہے اور اگر وہ شاہوں کے شاہ نہیں ہیں تو کون کائنات کی شاہی کے لیے ملقب ہو سکتا ہے۔
شیخ عبدالقادر شاہ نامہ اسلام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے مثنوی کے یہ اشعار سب سے زیادہ پسند ہیں۔
تمنا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کام کر جاؤں
اگر کچھ ہو سکے تو خدمتِ اسلام کر جاؤں
حضور پر نور کے میلاد مبارک ﷺ کے متعلق کیا محبت و اشتیاق سے بھرپور اشعار ہیں۔
معین وقت آیا زور باطل گھٹ گیا آخر
اندھیرا مٹ گیا ظلمت کا بادل چھٹ گیا آخر
مبارک ہو کہ دور راحت و آرام آ پہنچا
نجات دائمی کی شکل میں اسلام آ پہنچا
مبارک ہو کہ ختم المرسلیں تشریف لے آئے
جناب رحمۃ العالمیں تشریف لے آئے
خبر جا کر سنا دو شش جہت کے زیر دستوں کو
زبردستی کی جرات اب نہ ہوگی خود پرستوں کو
ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارک ہو
یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو
جس روانی، جذبات کی چاشنی اور معانی کی فراوانی سے بھرپور یہ اشعار ہیں کم ازکم 1930 سے لے کر آج تک اردو شاعری کے نصیب میں کم کم ایسی رواں نظمیں ظاہر ہوئی ہیں۔ اگر صرف پہلی جلد کی بات کی جائے تو سات ابواب پر مشتمل حضور ﷺ کی آمد سے قبل کے عرب کے حالات سے لے کر غزوہِ بدر تک یہ جلد ہے۔ دوسری جلد میں اسلام کے اولین معرکہ کارزار کی کارروائی کو شاعر اسلام نے ہزار اشعار میں بیان کیا ہے۔ اور یہ کتاب غزوہ احد کے واقعات تک محدود ہے یہ جلد 1933 میں منظر عام پر آئی۔ تیسری جلد 1939 میں وجود میں آئی اس میں بھی غزوہ احد کے واقعات کا تذکرہ ہے۔ چوتھی جلد 1946 میں شائع ہوئی جس میں غزوہ احزاب تک کے واقعات ہیں۔
شاہنامہ اسلام کا دوسرا نام ”یاد ایام“ بھی ہے اور ہر جلد کے سرورق پر شاہنامہ اسلام کے نیچے یہ الفاظ درج ہیں۔
”اردو نظم میں تاریخ اسلام کے واقعات رزم و بزم“
فراق گورکھپوری کی ایک تقریر کے ان الفاظ کے ساتھ تمت بالخیر کہ :
” جہاں تک شاہنامہ اسلام کا تعلق ہے مجھے اور شاید بہتوں کو حفیظ کی شاعری کے اس خاص رنگ اور خاص انداز سے شاہنامہ اسلام بالکل بے تعلق معلوم ہوتا ہے کوئی اسے بے اختیار ہو کر سراہنے پر تلا ہوا ہو تو وہ اسے جھوم جھوم کر پڑھ سکتا ہے“


