بنگلہ دیش کے ہنگامے


بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ پر محیط کیریئر میں سیاسی حریفوں کی جانب سے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا مگر حالیہ احتجاج نے ان کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ حالیہ مظاہروں میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ مظاہرین نے ڈھاکہ میں سرکاری ٹی وی کی عمارت کو نذرِ آتش کرتے ہوئے عمارت کے کئی حصوں کو تہس نہس کر دیا۔ تباہ حال سرکاری ٹی وی کی عمارت کے فرش پر جا بجا بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کے ہیرو اور وزیراعظم حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمن کی مسخ شدہ تصویریں بکھری ہوئی تھیں۔ ان ہنگاموں کا پس منظر یہ ہے کہ 5 جون 2024 ء کو بنگلہ ہائی کورٹ نے 2018 ء میں ختم کیا گیا کوٹہ سسٹم بحال کر دیا۔ عدالتی فیصلہ کے بعد طلبہ کے احتجاج کو پوری دنیا نے پُرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی اور عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم ’چھاترا لیگ‘ نے بھی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ مکمل بند اور کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ 21 جولائی کو سپریم کورٹ نے طلبہ کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے 30 فیصد کوٹہ کم کر کے 5 فیصد کوٹہ برقرار رکھا۔ ایک فیصد مخنث جبکہ ایک فیصد معذوروں کے لیے مختص کیا البتہ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت اس تناسب کو تبدیل کر سکتی ہے۔ وہ کوٹہ سسٹم کیا ہے، جس کے خلاف احتجاج ہوا۔

• 1971 ء میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا اس دوران پاکستان سے آزادی کی جنگ لڑنے والے بنگلہ دیش کے ہیرو کہلائے۔

• ان جنگی ہیروز کے خاندانوں کو سرکاری نوکریوں بالخصوص سول سروسز میں مخصوص کوٹہ سے کئی دہائیوں تک نوازا جاتا رہا۔

• 2018 ء میں طلبہ کے پُرزور احتجاج پر کوٹہ تو ختم کر دیا گیا مگر صرف فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ملازمتوں میں نہ کہ مکمل طور پر ۔

•بنگلہ عدالت نے دائر درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص کوٹہ بحال کر دیا۔

• 6 جون کو طلبہ نے ڈھاکا یونیورسٹی میں احتجاجی ریلی نکالی۔

•پُرامن احتجاج میں 15 جولائی تک طلبہ کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ حکومت آئینی ترمیم کے ذریعے اس قانون کو منسوخ کرے تاکہ تمام لوگوں کو ان کی محنت کے مطابق سرکاری نوکریاں ملیں۔

• 16 جولائی کو شیخ حسینہ کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان جس میں مظاہرین کے کوٹہ سسٹم کے مکمل خاتمے کے نعروں کا مذاق اڑاتے ہوئے 1971 ء میں پاکستانی فوج کے مدد گار گروہ یعنی ’رضاکار‘ سے تشبیہ دی جس کا مطلب تھا احتجاج کرنے والے طلبہ پاکستانی فوج کے ساتھی ہیں۔ اس بیان نے طلبہ اور بنگلہ دیش کے نوجوانوں کو سیخ پا کر دیا۔ وہ شدید مشتعل ہو گئے۔ چند ہی گھنٹوں میں احتجاج نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ لے لیا۔ یہاں تک کہ حکومت کو ملک میں کرفیو لگا کر ’سرکاری چھٹی‘ کا اعلان کرنا پڑا۔ سرکاری ٹی وی اور انٹرنیٹ بھی بند کرنا پڑا۔

• شیخ حسینہ کے طنز کے جواب میں طلبہ نے بھی یہ نعرے بلند کیے کہ ’تم کون؟ میں کون؟ رضاکار رضاکار‘ ، ’ہم نے مانگا تھا اپنا اودیکار (حق) مگر ہمیں بنا دیا گیا رضاکار‘ ۔

•بنگلہ دیش میں اس وقت ایک کروڑ 80 لاکھ نوجوان ہیں۔ الجزیرہ کی 2018 ء کی رپورٹ کے مطابق 44 فیصد نوکریاں میرٹ، 30 فیصد پر مراعات یافتہ طبقے، 10 فیصد خواتین اور دیہی علاقوں کے شہریوں، جبکہ 5 فیصد کوٹہ اقلیتی گروہ اور ایک فیصد کوٹہ معذوروں کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ اس صورت حال میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ 30 فیصد کوٹے سے صرف عوامی لیگ کے ووٹرز ہی مستفید ہوتے ہیں۔

•یہ ہنگامے یک دم نہیں پھوٹ پڑے بلکہ لاوا کئی سالوں سے پک رہا تھا۔ عوامی لیگ حکومت کی بنیادی سوچ یہ ہے کہ ہر مخالف آواز کو دبا دیا جائے۔ اس سوچ کی وجہ سے لوگوں نے کوٹہ سسٹم کے مکمل خاتمے کی تائید کی۔

•بنگلہ دیش میں ڈھاکا یونیورسٹی اور طلبہ یونین کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ قیام بنگلہ دیش سے پہلے اور بعد میں بھی بنگالی طلبہ اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ اردو زبان کا مسئلہ ہو 1960 ء یا 1970 ء کی دہائی کے مسائل۔

•شیخ حسینہ نے مخالفین کے لیے ایک خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے اور اپنے خلاف اٹھنے والی تمام آوازوں کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ لوگوں کے اغوا اور ہلاکتوں کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں۔ حکومت پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے سابق اردلی کے اکاؤنٹ میں 400 کروڑ کی موجودگی بھی خوب خبروں میں رہی۔

•حکومت کو اگر وقتی کامیابی مل بھی جائے تو مخالفت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام پھر سڑکوں پر آ جائیں گے۔ مخالفت تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اس مخالفت کو آگے بڑھانے کے لیے فی الحال کوئی رہنما نہیں۔

طلبہ کی طرف سے اس وقت 9 مطالبات ہیں۔

•وزیراعظم فسادات کی ذمہ داری قبول کریں اور ہلاک طلبہ کے خاندانوں سے معافی مانگیں۔ •وزیرداخلہ اور وزیر ٹرانسپورٹ وزارتوں سے مستعفی ہوں •اموات والے مقامات پر تعینات پولیس اہلکاروں سے استعفیٰ لیا جائے۔ •ڈھاکا، جہانگیر نگر اور راج شاہی یونیورسٹیز کے وائس چانسلر استعفا دیں۔ •طلبہ پر حملہ کرنے والے غنڈوں کو گرفتار کیا جائے۔ •زخمی اور مرنے والوں کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ •عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم ”بنگلہ چھاترا لیگ“ پر پابندی لگائی جائے۔ •تعلیمی ادارے، طلبہ ہوسٹل اور ہال کھولے جائیں۔ •طلبہ کو انتقامی کارروائیاں نہ کرنے کی ضمانت دی جائے •تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال کی جائیں۔

حسینہ واجد نے ملک کو صرف اپنی پارٹی کے سیاسی فلسفے اور سوچ کے سانچے میں ڈھالنے پر توجہ دی جس کا خمیازہ وہ آگے بھی بھگتیں گی۔ شیخ حسینہ واجد نے عدلیہ اور انتظامیہ میں چن چن کر عوامی لیگ کے ہمدرد بھر دیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کو جنگ آزادی میں ”دشمن“ کا ساتھ دینے کے الزام میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے اگر چہ مظاہروں کا سلسلہ تھم گیا ہے مگر ان مظاہروں میں وسیع پیمانے پر جانی اور مالی نقصان سے نہ صرف بنگلہ دیش کی معیشت بلکہ حکومت کی بقا پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں اقتصادی صورتحال پچھلے کئی سالوں سے بگڑ رہی ہے، بالخصوص درمیانے اور نچلے طبقات کا مہنگائی، اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے روزگاری جیسے مسائل نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ایسے میں سرکاری ملازمتوں کی کشش بلا جواز نہیں۔ گزشتہ سال 3 ہزار اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لیے 340,000 سے زائد اْمیدواروں نے اپلائی کیا۔

دور کے ڈھول سہانے کے مصداق ہمارے ہاں بنگلہ دیش کی اقتصادی ترقی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش ماڈل کی بات بھی چلتی رہتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ پاکستانی سرمایہ کار بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے گنے چنے جو سرمایہ کار بنگلہ دیش گئے، بیشتر کا تجربہ ناخوشگوار رہا۔ حسینہ واجد حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزے کا اجراء تقریباً ناممکن بنا دیا۔

گزشتہ دو سالوں میں اقتصادی ترقی کا بیانیہ یوں ایکسپوز ہوا کہ بنگلہ دیش کو آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑا جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث گزشتہ سال تین مرتبہ کرنسی کی قیمت کم کی گئی۔ اسی طرح عدم برداشت کے کلچر سے سیاسی عدم استحکام خوفناک صورت اختیار کر رہا ہے۔ ان مظاہروں کی تہہ میں عمومی معاشی مسائل سیاسی گھٹن اور مایوسی کی چنگاریاں صاف دکھائی دیں۔ پاکستانی اشرافیہ کو بنگلہ دیش اور کینیا کے مظاہروں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ خلق خدا مایوس ہو جائے تو امن و سکون چند مظاہروں کی مار ہوتا ہے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS