شمالی علاقہ جات کی سیر۔( 2 )

شام کو کالام کے سیاحتی مقامات کی سیر کے بعد ہم نے بشام جانے کا ارادہ کیا جو کالام سے 137 کلو میٹر دور پڑتا ہے، وہاں جانے کا مقصد صرف قیام کرنا تھا تاکہ اگلے دن کاغان اور ناران کے لیے جلد نکلا جا سکے۔ رات ہم نے بشام میں گزاری۔
اگلی صبح گاڑی تھاہ کوٹ سے براستہ ہزارہ موٹر وے ناران کے لیے روانہ ہوئی۔ گاڑی بلند و بالا پہاڑوں کے حصار میں فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔
ہزارہ موٹر وے M۔ 15 تین فیزز میں مکمل ہوا، پہلا فیز 2017، دوسرا 2019 اور تیسرا 2020 میں مکمل ہوا۔ ہزارہ موٹر وے میں چھ سرنگیں ہیں۔ میں نے موٹر ویز کے علاوہ، کے پی کے میں اکثر سڑکیں مڑی ہوئی اور گولائی والی دیکھیں، کہیں کہیں تو سڑکیں خطرناک حد تک مڑی ہوئی تھیں۔ ڈرائیور حضرات بڑی مہارت سے گاڑیوں کو ایسی سڑکوں سے گزارتے ہیں۔
جب ہم کے پی کے کے مختلف شہروں سے گزر رہے تھے، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم خاموش دنیا میں آئے ہوئے ہیں، یہاں لوگوں میں بہت سنجیدگی پائی جاتی ہے، یہاں کے پٹھانوں کا مزاج کوئٹہ کے پٹھانوں سے قدرے مختلف ہے۔ یہ مزاجاً اتنے غصیلے نہیں ہیں، بلکہ احترام سے ملنے والے لوگ ہیں، ممکن ہے سر سبز پہاڑوں نے ان کے مزاج کو متوازن رکھا ہوا ہے۔ یہاں بھیک مانگنے والے بھی بہت کم نظر آئے البتہ چندہ مانگنے والے زیادہ تھے۔
ہم 11 بجے بالا کوٹ پہنچے، بالاکوٹ بھی بہت خوبصورت شہر ہے، یہ ضلع مانسہرہ کا اہم شہر ہے اور ایک بڑی تحصیل بھی۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم یہاں سستائے، آگے کسی پوائنٹ پرکھانا تیار کیا، اس وقت بوندا باندی چل رہی تھی، وقفے وقفے سے یہ سلسلہ جاری رہا، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کاغان ناران کے لیے رواں دواں تھی، کچھ لوگ ہم سے پہلے اس مقام پر کھانا کھانے میں مشغول تھے، بعد میں اسی جگہ دو گاڑیوں پہ سندھی نوجوان آئے، وہاں چائے تیار کی، وہ بڑے زندہ دل لوگ تھے، تھوڑی دیر کے لیے وہاں چائے کے لیے ٹھہرے، لیکن اتنے وقت میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہے، ہمارے ساتھ بھی ملے، ان کی منزل بھی ناران تھی۔
وادی کاغان میں دریائے کنہار پر دو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پہ چائنیز کام کر رہے تھے، وہاں ان کی چائنیز طرز کی قیام گاہیں تھیں، حیران کن بات کہ ان میں بھی اے سی لگے ہوئے تھے۔ پہاڑوں میں گھر اس طرح نظر آرہے تھے، جیسے پہاڑوں پہ ڈبے رکھے ہوئے ہیں، یہاں پہاڑوں پہ درخت بڑی تعداد میں ہیں، شاید وادی سوات کے پہاڑوں سے بھی زیادہ، راستے میں کاغان پہلے آتا ہے اور ناران بعد میں۔ کاغان سے ناران کا فاصلہ 23 کلو میٹر ہے، شام کو ہم ناران پہنچ گئے۔
ناران کا موسم کافی سرد تھا، ہم نے ہوٹل میں قیام کیا، تھوڑی دیر آرام کیا، کھانا کھانے کے بعد بازار گھومنے گئے، بازار میں بڑی چہل پہل اور رونق تھی، ویک اینڈ تھا، بہت لوگ آئے ہوئے تھے، خنکی محسوس ہو رہی تھی، میں نے کوٹ پہن لیا، ہم دیر تک بازار گھومتے رہے، تھکاوٹ نے ہمارا برا حال کر دیا تھا، کمرے میں پہنچتے ہی ہمیں نیند نے آ لیا۔ اگلی صبح ہم ناشتہ کر کے جھیل سیف الملوک کے لیے روانہ ہوئے، ہم جیپ میں سوار ہوئے، جیپ بے ہنگم، کھردرے اور غیر ہموار پہاڑی راستے سے فراٹے بھرتی آگے بڑھ رہی تھی۔ کوئی ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم جھیل سیف الملوک پہنچے، موسم خوشگوار تھا، لیکن وادی کالام کی جھیل مہوڈنڈ سے زیادہ سرد نہ تھا۔
جھیل سیف الملوک میں پاکستان کے مختلف حصوں سے لوگ آئے ہوئے تھے، کوئی بہتے ٹھنڈے پانی میں تصاویر لینے میں مصروف تھا، کوئی گھڑ سواری سے لطف اندوز ہو رہا تھا، کوئی کشتی رانی سے محظوظ ہو رہا تھا، گویا ہر کوئی اپنی اپنی دنیا میں گم تھا۔ ہم اگلے دن ناشتہ کر کے ناران سے کشمیر کے لئے روانہ ہوئے، اترائی کی وجہ سے واپسی پر گاڑی نے اتنا زیادہ وقت نہیں لیا، ہم شام کو مظفر آباد پہنچے، وہاں بلیو اسکائی نامی ہوٹل میں قیام کیا۔ کشمیر میں موسم بالکل نارمل تھا، جیسے کوئٹہ کا موسم!
صبح ناشتہ کر کے کشمیر کے کچھ مقامات گھومنے گئے، ابتدا میں ہم مظفر آباد میں واقع مزار سائیں سہیلی سرکار گئے، یہاں سے ہم شہر میں واقع تاریخی لال قلعہ گئے۔ کشمیر تاریخی ورثے کا حامل ہے، اسٹریٹجک بنیادوں پر مختلف حکمرانوں نے قلعے تعمیر کروائے، جن میں سے ایک آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا تاریخی لال قلعہ بھی ہے۔ اسے مظفر آباد قلعہ اور رتہ قلعہ بھی کہا جاتا ہے۔ مظفر آباد میں دریائے نیلم (کشن گنگا) کے کنارے کشمیر کے چک حکمرانوں نے 1549 ء میں اس قلعے کی بنیاد رکھی۔ مغل اور چک حکمرانوں کے مابین ریاست کشمیر کی سرحدوں پر فوجی شورشیں معمول کی بات تھی۔
اس کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چک حکمرانوں نے سرحدوں اور عوام کی حفاظت کی غرض سے دفاعی حصار کی تعمیر کا فیصلہ کیا تاکہ حملہ آوروں سے شہر کو محفوظ رکھا جا سکے۔ تین اطراف سے دریائے کشن گنگا (نیلم) کی قدرتی حدود اور ایک جانب سے خشکی کا راستہ ہونے کی بنا پر سولہویں صدی میں اس جگہ کو قلعے کی تعمیر کے لیے موزوں ترین قرار دیا گیا اور اس کی موزونیت بعد از تکمیل شہر پر ہونے والے حملوں کے جواب میں دفاع کی صورت میں درست ثابت بھی ہوئی۔ اس کا تین اطراف سے دریائے کشن گنگا (نیلم) میں گھرا ہونا دفاعی لحاظ سے انتہائی کارآمد رہا۔
مظفر آباد میں ہمیں دن کو گرمی محسوس ہو رہی تھی لال قلعے کی سیر کے بعد ہم نے کشمیر آبشار کا رخ کیا، وہاں موسم زبردست تھا، لوگ آبشار کے نیچے نہا رہے تھے، اوپر سے پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا، بہت خوبصورت پوائنٹ ہے، کشمیر آبشار قدرت کی طرف سے تحفہ ہے جو سیاحوں کے لیے جنت کا درجہ رکھتی ہے، کشمیر میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں، لیکن وقت کی کمی کے باعث ہم وہاں نہیں جا سکے، باقی مقامات کی سیر پھر کبھی۔
اس وقت ہم مری میں ہیں، موسم کافی خوشگوار ہے، وقفے وقفے سے بارش جاری ہے، یہاں کی دنیا اور ہے، مری اچھا ہے، لیکن یہاں کے لوگ خاص طور پر دکاندار، جنہوں نے گاہکوں کو لوٹنے کے نت نئے طریقے بنا رکھے ہیں۔

