شمالی علاقہ جات کی سیر ( 5 )

مری پاکستان کا خوبصورت سیاحتی مقام ہے، ہم کشمیر سے مری شام پانچ بجے پہنچے۔ آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، مری ٹھنڈا تھا، لیکن وادی سوات کے بحرین اور کالام جیسا ٹھنڈا نہ تھا، ٹھنڈی ہوا، گہرے بادل اور سر سبز پہاڑوں نے مری کو دلفریب بنایا ہوا تھا۔ مری میں قیام کے لیے بہت زیادہ ہوٹل ہیں، ہم جیسے ہی ہوٹلز کی لوکیشن پہ پہنچے تو پہلے سے کچھ لوگ کھڑے ہوئے تھے، وہ ہمیں ہوٹلز کی

Read more

شمالی علاقہ جات کی سیر۔( 2 )

شام کو کالام کے سیاحتی مقامات کی سیر کے بعد ہم نے بشام جانے کا ارادہ کیا جو کالام سے 137 کلو میٹر دور پڑتا ہے، وہاں جانے کا مقصد صرف قیام کرنا تھا تاکہ اگلے دن کاغان اور ناران کے لیے جلد نکلا جا سکے۔ رات ہم نے بشام میں گزاری۔ اگلی صبح گاڑی تھاہ کوٹ سے براستہ ہزارہ موٹر وے ناران کے لیے روانہ ہوئی۔ گاڑی بلند و بالا پہاڑوں کے حصار میں فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھ

Read more

شمالی علاقہ جات کی سیر (1)

  15 جولائی کو ہمارے سیاحتی سفر کا آغاز ہوا، نوجوانوں کا قافلہ صبح 9 بجے شہر ڈیرہ مراد سے روانہ ہوا، ہم (کشمور) قلندر کی دھرتی (سندھ ) کو خیر باد کہہ کر پنجاب میں داخل ہوئے۔ ہمارے پہلی منزل اولیاء کرام کی دھرتی ملتان تھی، رات کا قیام و طعام ملتان میں ہوا، یہاں کے مشہور مقامات کی سیر کے بعد ہمارے اگلی منزل کلر کہار تھی۔ ہم لوگ 15 جولائی صبح نو بجے شہر ڈیرہ مراد جمالی

Read more

حویلی کے راز- منیر مانک کا سندھی افسانہ

گزشتہ سے پیوستہ سندھی سے ترجمہ:احمد علی کورار واقعے کے بعد ، جنت بی بی کو دورے پڑنے لگے۔ لوگوں کا قیاس تھا کہ ایسا پاک کلام سے شادی کی وجہ سے ہوا ہے، ان کا خیال تھا کہ کوئی پاکیزہ روح اس کے جسم میں داخل ہوئی ہے۔ مگر گاؤں کی مسجد کے مولوی صاحب کا خیال تھا کہ اب کسی بھی پاکیزہ روح کا اس دنیا میں وجود نہیں، ممکن ہے بی بی کو کسی بڑے ”دیو جن“

Read more

حویلی کے راز: منیر مانک کا سندھی افسانہ – 2

گزشتہ سے پیوستہ میں مسلسل منمناتا رہا، پھر میں نے حکیم صاحب کو دیکھا کہ کہیں اس نے میری بات تو نہیں سن لی۔ خوش قسمتی سے حکیم صاحب ہاون دستے میں دوائی کوٹنے میں مشغول تھا، اپنے خیالات کی دنیا میں گم سم تھا اور میری کہی ہوئی غیر ارادی بات سے بالکل بے خبر تھا۔ اسی لمحے، میری تخیلاتی وادی میں بچپن کی یادوں کا سیلاب امڈ آیا، ایسے کارنامے جو لاشعوری طور پر مجھ سے سرزد ہوئے

Read more

حویلی کے راز: منیر مانک کا سندھی افسانہ

سندھی سے ترجمہ :احمد علی کورار دوپہر کا وقت تھا، میں حکیم خیر محمد کے ”حیدری شفا خانہ“ کی طرف گام فرسا تھا، میں نے دور سے دیکھا، حکیم صاحب ٹانگیں پھیلائے لکڑی کے بوسیدہ دیوان پر بیٹھے ہوئے ہاون دستے میں دوائی کے لیے اجزا کو ملا رہے تھے۔ حسب معمول، حکیم صاحب نے اپنے اوپری ہونٹ کو دانتوں کے زیر کیا ہوا تھا جبکہ اس کا پھولا ہوا نچلا ہونٹ لٹک رہا تھا، مجھے آتا ہوا دیکھ کر،

Read more

گاؤں سے عشق

شام تمام ہوئی پرندے گھروں کو لوٹ چکے۔ پارک تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ خاموش سماں تھا زمین پر بکھرے خشک پتوں کی سرسراہٹ کا تسلسل بندھا ہوا تھا۔ ہم دونوں نظریں جھکائے آدھے گھنٹے سے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ بالآخر اس نے سکوت توڑا اور مخمور نگاہ اٹھاتے ہوئے کہا کیا تم میرے لیے گاؤں نہیں چھوڑ سکتے؟ کھلیانوں میں اگتی فصلوں کی مہک صبح کے وقت چہکتے پرندے چوں چوں کرتی چڑیا کوکتی کوئل بارش کے وقت سوندھی

Read more

الہڑ جوان

بشیر احمد صاحب ہمارے محلے دار ہیں۔ 65 کے پیٹے میں ہیں۔ حرکتیں ابھی تک الہڑ جوان جیسی ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی اس کی موجودگی میں اس کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے اسے کاکا چاچا یا حاجی صاحب پکارے۔ وہ ان القابات سے اتنے چڑتے ہیں اور برسوں کی دشمنی مول لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسے بشیرا تک کہا جائے لیکن مذکورہ بالا القابات سے نوازنے سے گریز کیا جائے۔ ہماری کیا مجال کہ اسے

Read more

کیا پڑھیں؟ کس کو پڑھیں

جتنے بھی ارباب قلم جنھیں ہم مضمون نگار کالم نویس تجزیہ نگار یا سادہ زبان میں انھیں لکھاری کہہ لیں جو مختلف موضوعات کو مضمون یا کالم کی صورت میں بیان کرتے ہیں وہ کوئی ایک آدھ کتاب پڑھ کر یا رات بھر خواب خرگوش کے مزے لے کر صبح کو صفحہ قرطاس کو سیاہ نہیں کرتے۔ کوئی راتوں رات لکھاری نہیں بنتا اس میں جہد مسلسل کار فرما ہوتی ہے۔ یاد رکھیں لکھنے کے لیے پڑھنا شرط اول ہے

Read more

قلم کے دھنی

صاحبان قلم کا ایک اژدھام ہے اخبارات کے ادارتی صفحے بھرے پڑے ہیں مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی ہو رہی ہے ارباب قلم میں طبقہ اناث نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہوا اپنے استعداد کے مطابق لکھ رہی ہیں یہ ایک خوش آئند بات ہے ایک جمہوری ریاست میں ان کا بھی حق ہے وہ اپنا نکتہ نظر بیاں کر سکیں۔ بلاشبہ ہر ایک کا اپنا طرز تحریر ہے۔ جس طرح میں نے پہلے بھی کہا کہ لکھنے والوں کی کمی

Read more

اتنا سہل نہیں بھوک سے لڑنا!

کٹیا والوں کے نسخے کام نہیں آتے۔ حویلی کے حکیمانہ کشتے کام نہیں آتے، چھپر ہو یا قصر، پیرہو یا مرید، اہلِ تصرف بھی اس کے تصرف سے نہیں بچ سکتے۔ اس عام فرمانِ قضا میں کسی کو کچھ استثنا اور امتیاز نہیں۔ کم بخت 206 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ 60 ہزار جانیں نگل لیں۔ جن میں 35 ہزار کا تعلق یورپ سے ہے۔ ان گنت اموات کا ذکر اعصاب شل کر دیتا ہے۔ شاذ ہی

Read more

کرونا سے نبرد آزما قوم

چہار اطراف سے دن بھر کرونا کی خبروں سے خائف نا جانے گزشتہ شب کب آنکھ لگی۔ صبح آنکھ کھلی تو موبائل پہ کسی دوست کی طرف سے مو صول پیغا م پر نظر پڑی۔ پڑھ کر سکتے میں پڑ گیا کہ استاد محترم ہم میں نہیں رہے۔ چند روز پہلے ملاقات ہوئی لہجہ ابھی تک کانوں اور نقش ابھی تک ذہن میں مفقود ہے۔ اچانک فالج کا عارضہ لاحق ہوا اور استاد محترم جانبر نہ ہو سکے۔ ابتدائی جما

Read more

وفاق بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہے؟

اس وقت کرونا وائرس سے دنیا بھر میں پانچ لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ 27 ہزار کے لگ بھگ اموات ہوئی ہیں اور 95 ہزار متاثرین زیرِعلاج ہیں۔ شدید متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ سر فہرست ہے۔ اور ہلاکتوں کے اعتبار سے اٹلی سر فہرست ہے۔ اس وقت پوری دنیا کے حالات مخدوش ہیں۔ ڈاکٹرز اور ماہرین کے مطابق کرونا وبا سے محفوظ رہنے کے لیے سوشل ڈسٹینسنگ تدبیر بھی ہے اور علاج بھی۔ لیکن ہمارے ملک میں اجتماعات

Read more

کرونا اور ہماری ذمہ داریاں

کورونا وائرس کا پہلا کیس سال گزشتہ کے آخر میں چائنا کے شہر ووہان سے نمودار ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پھیلتی گئی اور اس نے نہ صرف چائنا بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا سے پوری دنیا کا نظام مفلوج ہو گیا اور لو گوں کو اس وبا نے گھروں تک محصور کر دیا۔ دنیا اس سے پہلے بھی ایسی وباوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔ 1918 میں جنگ عظیم اول کے دوران

Read more