دو پاگلوں کی ملاقات


”Você e maluco, você e maluco,“
(تم پاگل ہو، تم پاگل ہو)

کوئی زور زور سے اپنی کشتی میں کھڑا چِلا رہا تھا اور بار بار یہ جملہ دُہرا رہا تھا۔ ووسے مالوکو۔ ووسے مالوکو! اس کے چہرے اور باڈی ایکشن سے ایک انجانی خوشی صاف چھلکتی دکھائی دے رہی تھی۔

اگرچہ وہ ایک چھوٹی کشتی میں کوئی ساٹھ فٹ نیچے تھا اور میں ”ایم وی المالک“ پر سٹار بورڈ سائیڈ پر کھڑا تھا۔ لیکن میں اتنی اونچائی سے اسے دیکھ اور پہچان سکتا تھا کہ وہ یہ جملہ بولتے ہوئے بار بار اپنی انگلی میری طرف اٹھا رہا تھا۔ ”ووسے مالوکو“ پرتگالی زبان کے ان مختلف تاثرات میں سے ایک تھا جو اس نے مجھے "ایم وی العلیم” پر ہمارے آٹھ ماہ کے ساتھ رہنے کے دوران سکھائے تھے۔

وہ تقریباً دس منٹ تک پرتگالی زبان میں میرے بارے میں نعرے لگاتا رہا یہاں تک کے ایک گینگ وے نیچے اتارا گیا اور اس کی کشتی گینگ وے کے ساتھ لگ گئی اور وہ تقریباً دوڑتا ہوا سیڑھیوں پر چڑھ گیا۔ وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش تھا۔ ہم تقریباً ایک سال بعد ایک دوسرے کو مل رہے تھے۔

ایم وی العلیم میرا پہلا جہاز تھا جسے میں نے 1984 ء میں ریوڈی جنیرو، برازیل کے قریب ایک بندرگاہ سے جوائن کیا تھا۔ درحقیقت، ہم نے اس بالکل نئے جہاز کی ڈیلیوری لی تھی۔ ایڈوارڈو اس جہاز میں ہمارے ساتھ ایک گارنٹی انجینئر کے طور پر آیا تھا۔

یہ ہم تینوں، یعنی ایڈورڈو، میرا اور یقیناً ہمارے جہاز کا پہلا سفر تھا۔ چاہے کام ہو، کھانا ہو یا شطرنج، ہم نے ایک ساتھ بہت مزے کا وقت گزارا۔ ہم نے مختلف ممالک میں خاص طور پر یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں بہت سی نئی بندرگاہوں کا دورہ کیا۔ جلد ہی، گارنٹی انجینئر کے طور پر ایڈوارڈو کا دور ختم ہو گیا اور میں نے بھی گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کیپ ٹاؤن سے برازیل واپس چلا گیا اور میں بھی ایک ماہ بعد ہانگ کانگ سے واپس پاکستان آ گیا۔

اُس دن یہاں ساحل سے میلوں دور سمندر کے وسط میں ہم دوبارہ مل رہے تھے۔ ”دیکھو، میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ ہم کم از کم ایک بار پھر ملیں گے،“ اس نے کہا۔ وہ کہتا تھا کہ اسے یقین تھا کہ ہم دوبارہ ملیں گے اور میں ہمیشہ اسے نفی میں جواب دیتا، ”کوئی چانس نہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟“ میں ہمیشہ اس سے بے اعتنائی میں بات کرتا تھا۔ ”تم ایک گارنٹی انجینئر ہو اور میں ایک سیلر ہوں اور مجھے ایسا کوئی موقع نظر نہیں آتا کہ میں کسی اور نئے جہاز کی ڈیلیوری حاصل کر سکوں اور وہاں تم سے مل سکوں۔“

اُس دن ہمارا جہاز المالک کراچی سے میلوں دور لنگر انداز تھا اور ایڈوارڈو کا جہاز بھی کہیں قریب ہی لنگر انداز تھا۔ وہ اس کشتی پر کراچی پورٹ جا رہا تھا کہ اس نے مجھے دور سے پہچان لیا۔ اس نے کشتی والوں سے کہا کہ وہ کشتی ہمارے جہاز کی طرف لے آئیں۔ ہم نے تقریباً دس منٹ تک بات کی اور پھر وہ واپس چلا گیا۔

چار دن بعد ، ہم نے المالک کو گڈانی میں گراؤنڈ کیا۔ میں نے اپنے پہلے جہاز کی ڈیلیوری لی تھی اور آخری جہاز کو گراؤنڈ کر دیا۔ دو انوکھے تجربات جو جہازوں پہ کام کرنے والے زیادہ تر لوگوں کو اپنی ساری زندگی جہازوں پر گزارنے کے باوجود حاصل نہیں ہوتے۔ یہ سمندر میں میرے کیریئر کا اختتام تھا۔ اس کے بعد میں لاہور واپس آ گیا۔ میں اپنی کمپنی کی طرف سے بار بار کال کرنے کے باوجود کبھی واپس نہیں گیا۔

Facebook Comments HS