شیخ حسینہ واجد ایک بے رحم ڈکٹیٹر کے روپ میں


بنگلہ دیش کافی عرصہ سے پرسکون اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ملک لگ رہا تھا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا، لیکن پچھلے دنوں اچانک سیاسی ماحول ایک دم گرم ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے گرما گرمی اور سیاسی حدت بڑھنے لگی۔ ناراض بنگلہ دیشی طالب علم سڑکوں پر آ گئے۔ احتجاج توقعات سے بڑھ کر پرتشدد اور خونریز ثابت ہوا۔

کئی دنوں سے جاری اس پرتشدد تحریک میں اب تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں، تشدد نے دردناک صورتحال اختیار کی۔ حکومت نے انٹرنیٹ اور فون سروس معطل کر دی۔

یہ سارا مسئلہ سرکاری نوکریوں کے لیے ایک خاص طریقہ کار اور کوٹا سسٹم کو لے کر پیش آیا۔ سوال یہ ہے کہ خاص کوٹا سسٹم کیوں اس قدر تشدد کی بنیاد بنا، حالانکہ یہ تو لوگوں کو ان کا حق دینے کے لیے بنا ہے۔

تو ٹھہریے ایسا نہیں ہے۔

بنگلہ دیش میں آزادی کے بعد حکومت نے ایک خاص کوٹا سسٹم متعارف کرایا، جس کے مطابق تیس فیصد نوکریاں بنگلہ دیش کی آزادی میں حصہ لینے والے حریت پسندوں اور ان کے وارثوں کے لیے مختص کر دی گئیں، اور کوٹا سسٹم کا یہی تیس فیصد حصہ وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔

شیخ حسینہ سرکار اس پر بھی اکتفاء نہیں کرتی۔ بلکہ خاص کوٹا سسٹم میں مجاہدین آزادی کی اگلی نسلوں کو بھی حصہ دینا چاہتی ہیں۔ اس طرح نصف فیصد سے بھی کم حصہ اوپن میرٹ پر کامیاب ہونے والوں کے لیے بچتا ہے، جو کہ انتہائی کم ہے۔

اس بات کو لے کر بنگلہ دیش میں مختلف پارٹیاں، اسٹوڈنٹس اور عوام سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ اسی مایوسی کے عالم میں وہ سڑکوں پر نکل آئے، اور اوپن میرٹ کوٹا سسٹم کی فیصدی بڑھانے کے لیے احتجاج کرنے لگے۔

حیرت کی بات یہ ہے، کہ شیخ حسینہ حکومت نے پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف بہت ظالمانہ ایکشن لیا۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ حکومت مخالف احتجاج اور مظاہرین کو کچلنے اور دبانے کی بہت کوشش کی گئی۔ دوسری جانب اس بات کو لے کر بھی بنگلہ دیش میں حکومت کے خلاف غم و غصہ ہے، کہ شیخ حسنہ کو ذرا بھی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس نہیں ہے۔ بلکہ پرتشدد کارروائیوں کے دوران اس نے نہایت توہین آمیز رویہ روا رکھا اور احتجاج کرنے والوں کو ٹی وی پر آ کر خطاب کرتے ہوئے طعنہ دیا کہ آخر وہ بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے والوں سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم کی پوسٹ پر ہونے کی وجہ سے ان کو ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ یوں کہا جائے تو مناسب ہو گا کہ ایسا رویہ ان کے منصب کے شایان شان نہیں ہے۔

شیخ حسینہ نے احتجاج کرنے والے مظاہرین سے ایسی سختی سے نمٹا ہے، جیسے یہ لوگ غدار ہوں اور ان کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہو، کہ ان کو سڑکوں پر گھسیٹو، مارو، پیٹو، جیلوں میں بھر دو اور غائب کر دو۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت سیکڑوں لوگ غائب ہیں۔

شیخ حسینہ واجد گزشتہ پندرہ سال سے اقتدار میں ہیں۔ اس وقت موصوفہ طاقت کے نشے میں بھول گئی ہیں کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ حقیقی محب وطن عوام ہوتے ہیں، اور یہ عوامی طاقت حکومت کے بے لگام گھوڑے کو نکیل ڈالتی ہے۔

بے شک حکومتی رہنما اور سیاست دان طاقت کے نشے میں اپنی ذمہ داریاں بھول جائیں۔ لیکن وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں، کہ اقتدار کی میوزیکل چیئر کے مزے بھی محدود وقت کے لیے ہوتے ہیں۔ بالآخر اقتدار پر براجمان سیاسی رہنماؤں کو ایک بار پھر عوام کی عدالت میں رجوع کرنا پڑتا ہے، اور اگلی دفعہ اقتدار میں آنے کے لیے عوام کی آشیرباد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ان حاکموں کو عوام سے ووٹ کی بھیک ملتی ہے، تو وہ دوبارہ اقتدار میں آ جاتے ہیں۔

اگر احتجاج کی یہ لہر کسی مہذب ملک میں اٹھ گئی ہوتی، تو کب کا وہاں کی سرکار گر چکی ہوتی۔ کیونکہ مہذب ممالک میں عوامی طاقت کے آگے کوئی بھی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ لیکن تیسری دنیا کے ممالک کی طرح بنگلہ دیش میں جمہوریت کی جڑیں ابھی مضبوط نہیں ہوئی ہیں۔

اس وقت بنگلہ دیش کے تعلیم یافتہ نوجوان اپنے ملک کی حکومت کے نشانے پر ہیں۔ حکومت ان سے انتہائی بے دردی سے پیش آ رہی ہے۔ مظاہرین پر تشدد کرنے کے لیے پولیس کو کافی نہیں سمجھا گیا، بلکہ فوج بھی میدان میں اتاری گئی۔ اس وقت میڈیا پر جو دلخراش مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، ان کو دیکھ کر لوگوں کے دل دہل گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے عوام کے خلاف ہو رہے تشدد کو روکنے کی مانگ کردی۔

اس طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ تشدد کو روکا جائے، اور گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔

بدترین کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز کے دندناتے رائفل برداروں نے بلاشبہ بنگلہ دیش میں پوری طرح خوف اور دہشت کی فضا قائم کر دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو فوٹیجز وہاں سے لیک ہو رہی ہیں، وہ اصل واقعات کا بہت چھوٹا حصہ ہیں۔ ابھی تک وہاں کے بدترین حالات کی پوری جانکاری نہیں ہے۔ کیونکہ وہاں انفارمیشن بلیک اؤٹ ہے اور اصل تباہی کا تو حالت امن میں پتہ چلے گا۔

اس وقت بنگلہ دیش میں شیخ حسنہ واجد کو ایک ڈکٹیٹر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جس نے بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کر دیا ہے، اور یہی بات اس کے سیاسی کریئر کی موت ثابت ہو سکتی ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے، کہ بنگلہ دیشی حکومت فوراً پرتشدد کارروائیوں سے دستبردار ہو جائے، اور خاص کوٹا پر اعلیٰ عدالت کے حالیہ فیصلے کا احترام کرے، عوامی امنگوں کے مطابق اوپن میرٹ سسٹم کو بڑھائے، گرفتار طالب علموں کو بلا شرط و قید رہا کرے، ان کے خلاف مقدمات واپس لے۔ جو لوگ مسنگ ہیں ان کو بلا تاخیر بازیاب کرے۔ فوج واپس بلائے اور احتجاج کے دوران جن لوگوں کی املاک کا نقصان ہوا ہے فوری طور پر ان کا ازالہ کرنے کے اقدامات کرے، جو لوگ مارے گئے ہیں، ان کے لواحقین کو انصاف فراہم کرے، تاکہ ملک ایک بار پھر حالت امن کی طرف لوٹ جائے۔

تیس فیصد کوٹا سسٹم کے بارے میں شیخ حسینہ سرکار کا موقف یہ ہے، کہ اس کوٹا سسٹم کے تحت بنگلہ دیش کے ان حریت پسندوں کو نوکریاں دی جاتی ہیں، جو ملک کی جنگ آزادی میں لڑے تھے اور ملک کے لیے ان کی بڑی قربانیاں ہیں۔ جبکہ اسٹوڈنٹس کا موقف ہے، کہ جنگ آزادی کے حریت پسندوں کا ہم بھی احترام کرتے ہیں، لیکن یہ کوٹا سسٹم شیخ حسینہ واجد سرکار کے منظور نظر لوگوں کو نوازنے کا ایک منظم طریقہ ہے۔

اسٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ آزادی کے لیے تو سارا ملک لڑا تھا، پھر چند لوگ ہی کیوں اس میں خاص ہیں۔ ان کے بقول حکومت کے پاس ایسا کیا طریقہ کار ہے، جس میں وہ یہ پتہ چلا لیتی ہے، کہ فلاں شخص آزادی کا ہیرو ہے، اور فلاں نہیں۔ کیونکہ ملکی آزادی کی جنگ میں تو سب لوگ شامل تھے۔

آخر میں اسٹوڈنٹس الزام لگاتے ہیں، کہ اصل میں اس تیس فیصد کی آڑ میں شیخ حسینہ سرکار اپنے ہمدردوں اور اپنی پارٹی کے لوگوں کو نوازنا چاہتی ہے۔ تاکہ ایک ایسا کیڈر وجود میں آ جائے جو شیخ حسینہ سرکار کا طرف دار ہو، اور اس طرح موصوفہ اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے۔

آخری خبریں آنے تک سیاسی منظر نامہ کچھ یوں بنا ہے، کہ بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے احتجاج کی سونامی کو دیکھتے ہوئے خاص کوٹا سسٹم کو گھٹا دیا ہے، جس سے بظاہر لگتا ہے، کہ حسینہ سرکار عوامی احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔

Facebook Comments HS