لوریتو گاؤں کا تاریخی پس منظر


میرے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ کہ آج جو تحریر میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں۔ یہ میرے آبائی گاؤں لوریتو چک نمبر 270 TDA لیہ کے بارے میں ہے جسے تھل کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے خطے جنوبی پنجاب ضلع لیہ میں اپنی ایک منفرد پہچان اور شناخت کی وجہ سے مقبولیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس تحریر کو لکھنے کے لئے میں اپنے ان سب دوستوں، عزیزوں، بزرگوں خاص طور پر اپنے دادا رحمت منڈیا والا اور اپنے بھائی ایاز مورس کا شکریہ ادا کر نا چاہتا ہوں۔ جنہوں نے میری اس تحریر کو لکھنے کے لئے معاونت کی۔

1960 کی دہائی میں قائم ہو نے والا یہ گاؤں جس کا نام لوریتو رکھا گیا۔ لوریتو کی تا ریخ پر ہمارے گاؤں کے فادر اسحاق یعقوب نے ایک تحقیقی اور نایاب کتاب تحریر کی ہے، جس کا نام ”وعدے کی سر زمین لوریتو ہے۔“ فادر اسحاق یعقوب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ لوریتو براعظم یورپ کے ملک اٹلی کا ایک گاؤں ہے اور یہ درخت کے نام پر رکھا گیا۔ جہاں مقدسہ مریم کا مجسمہ اور گھر ہے۔ جہاں مقدسہ مریم پیدا ہوئی، اور اُن کی پرورش ہوئی۔

لوریتو گاؤں کا نام اُسی لوریتو جو (اٹلی) میں واقع ہے، سے منسوب کیا گیا۔ یہ پاکستانی مسیحیوں کو شرف حاصل ہے کہ وہی ایمان جس کے ذریعے لوگ (اٹلی) لوریتو جاتے ہیں اب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ میں مقدسہ مریم سے اپنی عقیدت کا اظہار کر سکتے ہیں۔ لوریتو پاکستان میں کاتھولک مسیحیوں کی آبادی کا ایک بڑا مرکز ہے جہاں 100 فیصد کاتھولک مسیحی آبادی ہے۔

1960 کے ریونیو بورڈ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق یہ گاؤں صرف کاتھولک مسیحیوں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ لہذا لوریتو مسیحی لوگوں کے ساتھ تمام لوگوں کے لیے روحانی تقویت کا باعث ہے۔ لوریتو کا گرجا گھر انتہائی خوبصورت اور وسیع ہے جس کا نام سینٹ سسلییا چرچ ہے۔ جس پر حال ہی میں ڈسکور پاکستان ٹی وی نے ایک شاندار ڈاکومنٹری بنائی ہے، جسے آپ یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ لوریتو گاؤں کے بانی فادر تھامس کانساؤاوپی تھے۔ جنہوں نے اس گاؤں کو آباد کرنے اور ابتدائی خدمات سرانجام دیں۔ گاؤں کے بزرگوں کے مطابق ابتدائی دور میں بے شمار مشکلات، پریشانیاں، مصیبتیں، اور چیلنجزکا سامنا کرنا پڑا۔

میرے دادا بتاتے تھے۔ کہ میں 1962 میں سیالکوٹ کے چک منڈیا والا سے لوریتو گاؤں آیا۔ تو اس وقت اس گاؤں میں چند مسیحی گھرانے ابتدائی طور پر آباد ہو چکے تھے۔ جن کو کاتھولک کاہنوں نے 2200 روپے لے کر ایک ایک رقبہ تقسیم کیا تھا۔ لیکن مجھے گورنمنٹ آف پنجاب نے اس گاؤں میں بھیجا اور مجھ سے 6 ہزار روپے لے کر ایک رقبہ دیا۔ جو 15 ایکڑ پر مشتمل تھا۔ میرے ساتھ آنے والے مسیحی گھرانوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ شروع میں ہمیں بے شمار پریشانیوں، مصیبتوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

کئی کئی روز کھانا کھائے بغیر دن گزارنے پڑے اس وقت اس گاؤں میں امریکن فادر جارج ویسٹ واٹر اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے جن کا تعلق دومنیکن جماعت سے تھا۔ جنہوں نے نہ صرف اپنی کاہنانہ خدمات سر انجام دی بلکہ اس گاؤں کو آباد کرنے میں بے مثال کردار ادا کیا۔ فادر جارج ایک امریکن فوجی تھے جو بعد میں کاہن بنے یہی وجہ تھی۔ کہ فادر جارج کاہن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایک بہادر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ خود لوگوں کے گھروں میں جا جا کر کھانے پینے کا پوچھتے اور جن کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا۔ ان کو مہیا کرتے تھے۔ فادر جارج کی بے شمار کاوشوں اور محنت کی بدولت آج یہ تاریخی گاؤں مکمل آزاد اور آباد ہے۔ اور پورے گاؤں میں مسیحی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ لوریتو گاؤں تعلیمی لحاظ سے بھی اپنا نمایاں مقام رکھتا تھا یہاں کے سکول اپنے اعلیٰ معیاری اور مسیحی تعلیم کے لیے سرگرم تھے اور اس وقت اس گاؤں میں تقریباً ایک ہزار مسیحی گھر ہیں جو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس تاریخی اور عظیم گاؤں کے لوگ نہ صرف پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی مقیم ہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جن میں کافی تعداد فادر صاحبان، سسٹرز صاحبات کی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہوئے اپنی مسیحی قوم کا نام روشن کرتے ہوئے لوریتو گاؤں کی دھرتی کا نام بلند کر رہے ہیں۔ اس وقت ہماری کاتھولک ڈایوسیس ملتان کے بشپ، تقدس مآب بشپ یوسف سوہن کا تعلق بھی لوریتو سے ہے۔

ان تمام باتوں کے بعد آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ماضی کی نسبت اب حالات قدر مختلف ہیں ماضی میں گاؤں کے لوگوں میں اتحاد، پیار و محبت، صلح اور یگانگت پائی جاتی تھی، لوگ آپس میں مل جل کر ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے تھے۔ مذہب سے خصوصی لگاؤ تھا۔ کھیلوں سے پیار، علم کا فروغ اور انسانی ہمدردی ہمارے گاؤں کا خاصہ تھی، جو اب کمزور پڑ گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ اپنے آپ کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح کرتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جو ہمیں ہماری حقیقی منزل کی طرف گامزن کریں کیونکہ لوریتو ہمارے لیے خُدا کا خوبصورت اور حسین تحفہ ہے جسے ہمارے آبا و اجداد نے بڑی مشکلات، محنت اور جان فشانی سے خوبصورت بنایا ہے ہمیں اس تحفے کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی حفاظت اور ترقی ہم سب کا فرض ہے۔

ہمارے گاؤں کے بارے میں ہمارے گاؤں کے شاعر مقبول شہزاد اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

ترانۂِ لوریتو
سر زمین لو ریتو میر آبرو
توُ سلامت رہے ہے میری آرزو
تیری مٹی سے ہے میری ہستی بنی
تو بزرگوں کی محنت سے بستی بنی
ان کی ہمت سے ہے آج تو مشک بوُ
ایک جنگل سے تو گلستان بن گئی
تو ادب گاہ ِ امن و اماں بن گئی
ہے اخوت کی مہکا ر اب کو بہ کو
میرے لب پہ ہیں جاری فسانے ترے
مل کے گائیں ہمیشہ ترانے ترے
تو ازل سے ابد تک رہے سرخرو
تو محبت کی بستی ترے ہم مکیں
تو خداوند کے وعدے کی ہے سرزمیں
مجھ کو جنت سے بھی تو لگے خوبرو
آج ہر سو اجالا ترے نام سے
پیار کا بول بالا تیرے نام سے
آج شہزاد ہے روشنی چار سو
سرزمین ِ لوریتو تو مری آبرو
تو سلامت رہے میری آرزو

Facebook Comments HS