ملک بینک کا قیام اور مولویوں کامزاحمتی کردار
منی بینک کے بعد بلڈ بینک کے نام اور ان کے کام سے کون واقف نہیں۔ پہلا بلڈ بینک 1937 میں ڈاکٹر برنارڈ فانٹس نے کک کاؤنٹی ہسپتال، شکاگو میں قائم کیا تھا۔ اس انقلابی طبی ترقی نے خون کے ذخیرے کو محفوظ کرنے کا کام انجام دیا، جس سے خون کی منتقلی کے شعبے میں انقلاب آیا اور بے شمار جانیں بچائی گئیں۔ ہند و پاک میں 1942 سے 1948 تک مخصوص بلڈ بینکز نے کام کرنا شروع کر دیا تھا اور لوگوں کی جان بچانے کے نیک کام کی شروعات ہو گئی لیکن ابتدا میں بہت سے لوگوں نے اس کے بارے میں بھی مذہبی اور اخلاقی برائی کے جواز ڈھونڈے اور طبی ترقی کے اس عمل کو برا بھلا کہا گیا تھا۔
اسی طرح دنیا میں کئی ترقی یافتہ ممالک جو انسانی فلاح اور بقا کے لیے کام کر رہے ہیں انھوں نے بلڈ بینک کے قیام سے پہلے نو مولود کی جان بچانے کے لیے ملک بینک کے قیام پر زور دیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا کا پہلا دودھ بینک 1909 میں ویانا، آسٹریا میں ویانا جنرل ہسپتال میں قائم کیا گیا تھا۔ اس اہم ادارے کا مقصد بچوں کو انسانی دودھ فراہم کرنا ہے جنہیں ان کی مائیں اپنا دودھ نہیں پلا سکتی تھیں، جس سے ان بچوں کی صحت اور بقا کی شرح میں نمایاں بہتری نظر آئی۔
گزشتہ مہینہ کراچی میں ملک بینک کے افتتاح پر مولویوں کے فتوے نے اس بینک کے قیام کے عمل کو ملتوی کر دیا اب سوال پیدا ہوتا ہے کیوں؟
اگر اسلامی نکتہ نظر سے دیکھیں تو اسلامی نظام میں رضاعت کے قوانین بہت واضح اور مدلل ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی عرب کے قوانین میں بچوں کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے صحت مند خواتین نومولود بچوں کو دودھ پلایا کرتی تھی اور ان کے معاشرے میں رضائی قانون واضح اور قابل عمل تھے۔ برصغیر پاک و ہند میں دودھ پلانے اور اس کا معاوضہ لینے کا عمل سراہا نہیں گیا اور نہ ہی اسے پروموٹ کیا گیا کیونکہ ہندو معاشرے میں اس کا تصور موجود ہی نہیں تھا۔ عرب معاشرے میں نہ صرف اس عورت کو معاوضہ ادا کیا جاتا تھا جو کسی مولود نو مولود کو دودھ پلائے بلکہ بیوی اگر اپنے بچے کو دودھ پلائے تو اسے بھی بہت اچھا معاوضہ ادا کیا جاتا تھا۔ جس سے زچہ اپنی صحت کو برقرار رکھ پاتی تھی۔ اس طرح ایک صحت مند ماں اور ایک صحت مند بچہ نشو و نما پاتا تھا۔
لیکن ہندوستان میں جب اسلام پہنچا تو وہاں اس طرح کی کوئی روایت موجود نہیں تھی کہ دوسری خواتین کسی اور کے بچوں کو دودھ پلائیں یا ماں کو دودھ پلانے کا معاوضہ دیا جائے۔ ہندوستان پاکستان میں مرد عورتوں کے حقوق غصب کرنے کا اتنا عادی تھا کہ نان نفقہ، مہر موجل، مہر معجل ہو اس کے لیے یہ سب کسی بار سے کم نہیں تھے کہ ماں کے دودھ پلانے کا معاوضہ کی بات کسی ٹیکس کم نہیں لگی۔ اب یہ بات تو تھی مالی حیثیت کی جو ہندو پاک کے معاشرے میں 70 فیصد مرد حضرات افورڈ نہیں کر پاتے ہیں۔ اب آ جائیں اس شرعی حیثیت پہ جس پر اعتراض کیا گیا
رضاعت کا یہ قانون عرب معاشرے میں کئی سو سالوں سے چلا آ رہا تھا۔ اس زمانے میں کمپیوٹر سسٹم میں ڈیٹا انٹری، خاندانی نمبر، شناختی کارڈ نمبر بے فارم کی غیر موجودگی میں بھی بہن بھائیوں کی شادی انجام نہیں پاتی تھیں۔ تو اب یہ کیسے ممکن ہے کہ آج جب پاکستان میں نادرہ کارڈ نمبر، خاندان نمبر، فیملی ڈیٹا کی موجودگی کے بعد بھی دودھ پلوانے والے ماں کو باپ کو یہ نہ پتہ ہو کہ ان کے بچے کو کس عورت کا دودھ پلایا جا رہا ہے۔ ملک بینک کی مخالفت بالکل ایسے ہی ہے جیسے بلڈ بینک پر اسے اخلاقیات کے خلاف کہا گیا اور اس کے بارے میں مختلف خدشات کا اظہار کیا گیا اسی طرح اعضا کی پیوندکاری اور آنکھوں اور دیگر انسانی اعضا کو عطیہ دینے پر بھی اسی قسم کے فتوے لگائے گئے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ میری نانی ماں کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں بچوں کی ہسپتالوں میں پیدائش کو لوگ برا سمجھتے تھے کہ اس طرح کئی عورتوں کے ایک ساتھ ہاسپٹل میں بچے ہونا اور ایک وارڈ یا ایک روم میں پیدا ہونے والے بچوں میں کس کا بچہ کس کے پاس آ جائے کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔
اس لیے اس دور میں وہ لوگ گھروں میں بچہ پیدا کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے اور اس پورے عمل میں بہت سی ماؤں اور بچوں کو زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑا جبکہ آج ہم سسٹمٹکلی دیکھیں تو باقاعدہ گائنی وارڈ میں نام خاندان نمبر بلڈ ٹیسٹ اور دیگر کئی قسم کے ریکارڈ موجود ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بچہ اپنے حقیقی والدین تک پہنچ جائے۔
بات یہی آتی ہے کہ ہم سسٹم کو بہتری کے طرف لائیں نہ کہ بہتر عمل کو بد تر قرار دیں اور وہ بھی ایسے عمل کو جس سے کئی شیر خواروں کی زندگیاں بچ سکتی ہیں اس عمل کو اپنی تنقید کا نشانہ نہ بنائیں اور خود کو مہنگے دودھ فروخت کرنے والی کمپنی کا آلہ کار ثابت نہ کریں۔ ایک پری میچور بے بی کی والدہ ہونے کے ناتے جو مسائل میں نے فیس کیے ہیں اس کی بنا پہ اپنی تجربات شیئر کر رہی ہوں کہ ایک سات ماہ کی اور چھ ماہ کی زچہ دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے اور اس صورت میں بچے کو جو نعم البدل دودھ دیا جاتا ہے وہ نہ صرف مہنگا بلکہ مہنگا ترین ہوتا ہے اور پھر اس بات کی بھی ضمانت نہیں ہے کہ اس دودھ سے بچے کی بقا ممکن ہے یا نہیں۔
ہمارے مولوی حضرات اسلامی تعلیمات اور سنت کو یہاں رد کرتے ہوئے نظر آتے میں۔ اگر یہ عمل اتنا مشکل ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے عرب میں پچھلی ختم کی گئیں بہت سی رسومات کی طرح اسے بھی ممنوع قرار دے دیتے۔
اس سلسلے میں صحیح بخاری کی حدیث کا ذکر کروں گی۔
حدیث 2052
عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں ( عقبہ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔
حدیث نمبر سنن نسائی اور سنن ابی داؤد حدیث 3603 میں بھی رضاعت کی یہ حدیث موجود ہے۔ : 3332
تو گویا اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی نے سسٹم کی بہتری اور اس سے متعلق صحیح فیصلے کو ترجیح دی نہ کہ اس عمل کی ممانعت فرمائی اب ہمیں اپنے سسٹم پہ بھروسا کر کے اس نیک عمل کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے اس بات کو ممکن بنانا چاہیے کہ جس طرح منی بینک سسٹم کے تحت کسی کا پیسہ کسی کے بینک میں نہیں آ سکتا اسی طرح کوئی بچہ اپنی رضاعی ماں کا داماد اور بہو نہیں بن سکتا اس لیے ہمارا اپنے نقائص اور اپنی نا اہلی کو کسی بھی اچھے عمل پر تھوپ کر اسے روکنا ایک طرح کا جرم ہے۔


