لوہا پھاڑ معجون اور مردانہ کمزوری کا وہم یا کمپلیکس


کتنی مضحکہ خیز سی صورت حال ہے کہ ہمارے ملک کی دیواریں ہماری مردانگی کی کہانیاں ببانگِ دہل بیان کر رہی ہیں اور ایک ایک جملے میں سے بے بسی جھانک رہی ہوتی ہے۔

مردانہ کمزوری کا شرطیہ علاج۔
مچھلی کے کیپسول کھاؤ اور جنسی کمزوری سے نجات پاؤ۔
عضو تناسل کی اکڑن بڑھانے والا طلاء۔
بچپن کی تباہ کاریوں کا مکمل علاج اور ٹائمنگ بڑھانے کی مکمل گارنٹی۔
ہارس پاور کیپسول۔
مچھلی کے تیل کے کیپسول۔
اشتعال انگیزی کو بڑھانے کا کورس۔

بے بسی کے یہ سارے نعرے اور دعوے نوشتہ دیوار ہیں، ہم نے آج تک زنانہ کمزوری کے اشتہار نہیں دیکھے، کیا سمجھیں پھر؟ کیا جنسی کمزوری صرف مرد کو لاحق ہوتی ہے خواتین کو نہیں؟ کیا جنسی کمزوری ہوتی بھی ہے یا محض زیب داستان کے لیے حکمت کے نام پر ”عطائیوں“ کا رچایا ہوا ڈرامہ ہوتا ہے؟

زعم، مغالطے یا کمپلیکس ہمیشہ قوموں کو اندھیروں میں رکھتے ہیں اور انہی کمزوریوں کا فائدہ وہی لوگ اٹھانے لگتے ہیں جو عقیدت و جہالت کے نام پر دھندا کرتے ہیں، وہ اپنی نظریں انسانی کمزوریوں اور جیبوں پر گاڑھے رکھتے ہیں اور عقیدت و جنس کے نام پر انہیں لوٹنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

جہالت، لاعلمی، بے خبری یا اپنے عصر سے بیگانگی قوموں اور ریاستوں کی اپنی چوائس یا اختیار ہوتا ہے، تقدیر کا لکھا یا آسمانی فیصلہ نہیں ہوتا۔

عطائیت ہر اس سماج کی بائی پروڈکٹ ہوتی ہے جہاں علم و شعور کو کنٹرول یا سینسر کر کے پیش کیا جاتا ہے اور لوگوں پر حد نگاہ سے آ گے دیکھنے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ جہالت کی اس سے بھیانک جھلک بھلا اور کیا ہوگی کہ ہمارے ہاں جوابات کی تو بھرمار ہے لیکن سوال راندہ درگاہ اور در بدر ہے۔

سوال پوچھنے کو بے ادبی، بے شرمی اور گمراہی تصور کیا جاتا ہے جبکہ تسلیم و تائید کو فرمانبرداری اور ادب کا پہلا زینہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے سماج میں ”جینوئٹی یا پیورٹی“ کا فقدان ہوتا ہے اور عطائی خود رو پودوں یا کھمبیوں کی طرح پیدا ہونے لگتے ہیں، ہمارا سماج اس وقت عطائیوں کی گرفت میں ہے جو مذہب اور جنس کے نام پر دھندا کرنے میں مصروف ہیں۔

جہاں جہالت ننگی ناچتی ہو وہاں مذہب اور جنس کا چورن خوب بکتا ہے۔

اس کا ثبوت حکیم شہزاد المعروف ”لوہا پھاڑ“ ہے جو لوہا پھاڑ معجون کے ذریعے سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچ چکا ہے۔ جنسی دکانداری یا شعبدہ بازی سے وہ ایک ٹاپ کا ٹک ٹاکر بن چکا ہے جس کے لاکھوں فالورز بھی ہیں۔ چند سیکنڈ کے کلپ میں وہ اپنے مریض سے فقط اتنا پوچھتا ہے
”تمہارے گھوڑے یعنی عضو تناسل نے گھاس کھانا شروع کر دیا ہے“

مریضِ ہنستے ہوئے تائید میں سر ہلا دیتا ہے اور کیمرے کے سامنے اس سے پیسے پکڑ کر اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔

مطلب اسے بڑے اچھے سے پتا ہے کہ اس قوم کا حقیقی مسئلہ کیا ہے؟

ان کا ذہن ہر وقت کہاں پہ اٹکا رہتا ہے اور بخوبی جانتا ہے کہ ان کا ذہن آج تک خواتین کی ٹانگوں کے بیچ سے نہیں نکل پایا اسے ایک مکمل انسان سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

حکیم جی اوپر دیے گئے جنسی نعروں و دعوؤں کی ترویج کی عملی تصویر ہے، وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس گھٹن زدہ سماج میں کیا بکتا ہے اور لوگوں کے ذہنوں پر ہر وقت کیا سوار رہتا ہے بس یہی کچھ وہ اپنے معجون کے ذریعے سے بیچ رہا ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے لوہا پھاڑ معجون تو سمجھ لیجیے یہاں ”پھاڑنے“ سے کیا مراد ہے؟

معجون تو ایک پروڈکٹ ہے اصل میں تو یہ سب ایک طرح سے ہمارے مجموعی مائنڈ سیٹ کی عکاسی ہے۔ قصہ مختصر ہمارا سماج کچھ اس طرح کا بن چکا ہے کہ جہاں جنسی معجون اور مذہب کے نام پر عطائیوں کی دکان داریاں خوب چل رہی ہیں۔

علمی و جنسی گھٹن میں سے یہی کچھ نکلا کرتا ہے، کم ظرف اور عطائی عروج پانے لگتے ہیں اور عقلی و شعوری آوازیں مدہم پڑنے لگتی ہیں۔ نہیں یقین آ تا تو دی بلیک ہول یا ڈاکٹر مبارک علی اور پرویز ہودبھائی کی فالونگ دیکھ لیجیے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہاں کیا بکتا ہے۔

باقی دانیہ شاہ یا حکیم جی کی شادی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے ان کا ذاتی معاملہ ہے اور دو بالغ جیسے جینا چاہیں جئیں ہمیں کیا۔

Facebook Comments HS