کرپشن کی غضب کہانیاں، عمران خان کا اپنی صوبائی حکومت کو پیغام، کیوں؟

خیبرپختونخوا میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حلقوں سے باہر کب کا یہ تاثر جڑیں پکڑ چکا تھا کہ اسے اپنی جگہ سے ہلانے کے لئے اس کے سیاسی مخالفین کو اب کوئی بہت بڑا اور انوکھا کام کرنا پڑے گا اور حکومت و پارٹی کے اندر زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے لوگ مکمل محفوظ ہیں لیکن گزشتہ دو دنوں کے دوران پیش آنے والی ایک پیش رفت نے باہر سے مضبوط نظر آنے والی اس جماعت کی حکومت کے گھر میں اتفاق کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوڑ دی ہے۔
فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے دن خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو بغیر پارٹی کے نام اور جھنڈے کے جو جیت نصیب ہوئی اس نے خیبرپختونخوا میں کسی کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ کسی بڑے معجزے یا تحریک انصاف سے ہی ہاتھ ملائے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل کر سکتا اور اس تاثر کو اس جماعت کے مولانا فضل الرحمن جیسے بدترین مخالف کے سر نگوں ہونے سے تقویت ملی کہ وہ مولانا فضل الرحمن جو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی عمران خان کو سمجھتے تھے اسے نوجوان نسل کے بگاڑ اور بیرونی قوتوں کے ہاتھوں کا کھلونا کہہ کر اس کا نام بھی نفرت سے لیتے تھے اب وہ بھی اپنی اگلی سیاسی کامیابی یا بقا کے لئے اسی جماعت کا سہارا لینے یا اسے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک ایسے صوبے میں جہاں پر تحریک انصاف کو اسمبلی میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل ہے اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حیثیت بھی اس کے سامنے کچھ نہیں جس کا ثبوت جمعے کو اسے چھوڑ کر پرویز خٹک کی سابقہ جماعت پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز میں شامل ہونے والے ایک منہ زور رکن اقبال وزیر کی اسمبلی فلور پر بنتی درگت نے فراہم کر دیا کہ اپوزیشن کا کوئی رکن چاہے کچھ بھی کر لے حکومتی بنچز کے سامنے ان کی ایک نہیں چلنے والی۔ اقبال وزیر جس کے گزشتہ چند سالوں کے دوران بہت ساری جگہوں پر لڑائی جھگڑوں کی منظر عام پر آنے والی مسلسل خبروں نے اسے ایک خودسر سیاسی بندے کے طور پر مشہور کیا اس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف نہ صرف اپنے کہے ہوئے الفاظ پر معافی مانگی بلکہ اپوزیشن کی تمام تر کوشش کے باوجود بھی وہ اسمبلی سپیکر کے ہاتھوں معطل ہوا۔
تحریک انصاف کی اس طاقت اور عددی برتری کے ساتھ پارٹی کے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کو حکومت اور اپنی جماعت میں بلاشرکت غیرے ایک خودمختار شخص کے طور پر صوبے میں پنجوں کے بل چلنا چاہیے تھا کیونکہ وہ کچھ عرصے سے مطلق العنان اور اصل طاقت کا منبع ہیں وہ صوبے میں جو چاہیں اور جیسا چاہیں کر رہے ہیں جس کا عملی مظاہرہ وہ عام انتخابات کے دوران انہیں ہر ”ناپسند“ پارٹی رہنما کو حکومت میں آنے سے روک کر کرچکے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کی صوبائی حکومت تو ایک طرف صوبائی اسمبلی میں بھی وہ ایک بھی بندہ شامل نہیں جو کسی بھی حوالے سے یا تو وزیراعلی بننے کے قابل تھا یا علی امین کو بطور وزیراعلی کبھی مشکل میں ڈال سکتا تھا۔
لیکن اسی جمعے کے روز جب لوگ اسمبلی کے اجلاس میں جا رہے تھے تو پشاور پریس کلب میں بہت سارے میڈیا کیمروں کے سامنے اسی جماعت کے ایک جانے مانے اور عمران خان تک اڈیالہ جیل میں براہ راست رسائی رکھنے والے صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو شکیل خان اپنی ہی صوبائی حکومت، اس کی بیوروکریسی اور حکومت میں عمل دخل رکھنے والے کرتا دھرتاؤں کو للکار رہے تھے کہ عمران خان نے انہیں کہا ہے کہ وہ جاکر صوبائی کابینہ میں شامل تمام وزرا، سرکاری افسران وغیرہ کو یہ سمجھا دیں کہ کرپشن اور بدانتظامی چھوڑ دیں کیونکہ عمران خان کرپشن برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔
شکیل خان کی اس پریس کانفرنس سے ایک روز پہلے اڈیالہ جیل میں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے بعد سے ہی اس بات کے چرچے ہو گئے تھے کہ شکیل خان صوبے کی حکومت کے لئے عمران خان کا واضح پیغام لا رہے ہیں اور وہ اس کا اعلان اگلے روز یعنی جمعے کو پریس کانفرنس میں کریں گے۔ ان چرچوں کے بعد یہ کہانیاں بھی زبان زد عام ہو گئیں جن کی تصدیق خود پارٹی کے لوگوں نے بھی کی کہ صوبائی حکومت کے کرتا دھرتا شکیل خان پر ٹوٹ پڑے ہیں کہ وہ یہ پریس کانفرنس نہ کریں اور جب وہ اس میں ناکام ہوئے تو ان کو مجبور کرنے کی کوششوں کے دوران انہیں ایک تحریری بیان دیا گیا کہ وہ پریس کے سامنے اسے پڑھیں لیکن انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران واضح طور پر اس تحریر کے بہت سے حصوں کو سکپ کیا۔
کیمروں میں ان کے نظر آنے والے تاثرات سے واضح تھا کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں موجود کاغذ پر لکھا تھا وہ پڑھنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ انہوں نے وہ تحریر بھی نہ پڑھی اور بولتے بولتے اتنا کچھ کہہ گئے جسے سنبھالنے کے لئے ان کے ہمراہ موجود مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کو کئی بار کوشش کرنی پڑی تاکہ اس تاثر کو ختم کیا جا سکے کہ شکیل خان کا اڈیالہ سے لایا ہوا پیغام وزیراعلی علی امین کے لئے بھی تھا۔
شکیل خان کو جاننے والوں کو معلوم ہے کہ وہ پارٹی کی گزشتہ حکومت کے دوران دو اہم ساتھیوں جن میں ایک اس وقت وزارت اعلی کے امیدوار بھی تھے یعنی عاطف خان اور شہرام خان کے ساتھ محمود خان کی کیبنٹ سے برطرف کیے گئے تھے جس کے ذریعے محمود خان نے بطور وزیراعلی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ خودمختار اور پاور فل وزیراعلی ہیں۔ شکیل خان بھی بعد ازاں کچھ لوگوں کی کوششوں سے عاطف خان اور شہرام خان کے ساتھ کابینہ میں بحال ہوئے۔ 9 مئی کے بعد پارٹی پر پڑنے والی افتاد کے دوران ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے بہت ساری سختیاں جھیلیں۔
شکیل خان کے ہاتھوں اڈیالہ سے یہ پیغام کیوں پشاور پہنچا اس کے پیچھے ابھی بہت سارے سوالوں کے جواب ملنے باقی ہیں کیونکہ ابھی تک ان کی جانب سے صوبائی حکومت کی کابینہ میں شامل وزرا کو کرپشن چھوڑنے کے پیغام کی تردید ابھی تک نہ ہی صوبائی حکومت نے کی ہے نہ ہی تحریک انصاف نے بطور پارٹی اسے غلط کہا ہے۔
شکیل خان کی عمران خان کو کی گئی شکایت پر وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے لیکن شکیل خان کو اس شکایت کے لئے عمران خان کے پاس کیوں جانا پڑا وہ یہ کام وزیراعلی کے ذریعے کیوں نہ کر سکے۔ انہوں نے عمران خان کو آخر ایسے کیا ثبوت دکھائے کہ جس کی بنیاد پر انہوں نے ان کی ڈیوٹی لگائی کہ پشاور جاکر پریس کلب میں اپنی ہی حکومت کے بارے میں پریس کانفرنس کریں؟ آخر انہوں نے عمران خان کو شہر میں قائم کسی خاص روڈ پر خاص گھر میں خاص لوگوں کی جانب سے کرپشن کے معاملات پر کیا بتایا ہو گا جو اب ہر کسی کی زبان پر ہے؟
کیا کرپشن کے نام پر ایک سیکرٹری کی اس طرح عہدے سے ہٹائے جانے کی خبروں کو بیوروکریسی بھی قبول کرے گی یا اس کے خلاف پرویزخٹک کے دور کی طرح اٹھ کھڑی ہوگی؟ کام سے انکار کردے گی اور صوبائی حکومت کا وہی حال کرے گی جیسا کہ پرویزخٹک کے دور میں ہوا تھا جب صوبائی حکومت کو مشینری چلانے کے لئے احتساب کے اپنے نعرے سے ہی دستبردار ہونا پڑ گیا تھا اور اپنے ہی احتساب کمیشن کو دفنانا پڑ گیا تھا۔
اس ساری صورتحال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صوبے میں حکومت کے پاس عددی اکثریت بھی ہے اور وہ ناقابل تسخیر بھی ہے لیکن وہ اس وقت پارٹی کے قائد کے بیانیے کے خلاف جا رہی ہے، خود اس کے اپنے ہی اہم ترین لوگ اس کی نہ صرف کارکردگی سے مطمئن نہیں بلکہ وہ طرز حکومت پر بھی اعتراضات رکھتے ہیں اور ان رہنماؤں کی شکایات پر پارٹی چیئرمین کو جیل سے پیغام بھیجنے پڑ رہے ہیں۔

