5 اگست 2019 کا پانچواں یوم سوگ

بھارتی حکومت نے اس احساس کے تحت کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر 72 سال کے تسلط کے باوجود اس خطے کو مکمل طور پر تسخیر نہیں کر سکا، باقاعدہ ایک مرحلہ وار منصوبے کے تحت 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم، ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے بھارت کے مرکز ( نئی دہلی) کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت میں تبدیل کر دیا۔ اس کے لئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا۔ یہ اقدام کرنے کے لئے بھارتی حکومت نے فوجی پہرے، جبر اور قید کے حربے وسیع پیمانے پہ لاگو کیے ۔ اس کے تحت تین سے چار لاکھ مزید پیرا ملٹری فورسز کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات کیا گیا، تمام سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، بشمول بھارت نواز سیاستدانوں کو قید، نظر بند کر دیا گیا، مقبوضہ کشمیر کے تمام علاقوں، گلی محلوں میں بھی بڑی تعداد میں فورسز کو تعینات کیا گیا۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہزاروں کی تعداد میں افراد کو جیلوں میں قید کر دیا گیا۔ بھارتی پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لئے یوں قانون سازی کی گئی کہ جس کی بھارتی پارلیمانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بھارتی پارلیمنٹ میں پہلی بار تمام ضابطوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک ہی نشست میں ترمیم کا بل پیش اور منظور کر لیا گیا۔
اس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کا دور شروع کرتے ہوئے ایسے مزید قوانین نافذ کیے گئے جن کے تحت بھارت مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں کسی قسم کی بھی جائیداد کو مستقل طور پر ضبط کرنا بھی شامل کیا گیا اور اب تک ایک ہزار سے زائد رہائشی، کمرشل عمارات اور اراضی کو مستقل طور پر ضبط کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی محض بات کر نے کے الزام میں گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت محض امکان کے نام پر وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کرتے ہوئے بڑی تعداد میں افراد کو جیلوں میں قید کیا گیا جن میں ضعیف افراد کے علاوہ متعدد صحافی اور انسانی حقوق تنظیموں کے نمائندے بھی شامل تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے اقدام کے وقت متعین ہندوستانی گورنر ستیا پال ملک نے انڈین میڈیا آرگن ”دی وائر“ کے صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک وڈیو انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ”ہندوستانی حکومت نے 5 اگست 2019 کے اقدام سے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں ایسے سخت ترین اقدامات کر لئے تھے کہ وہاں نہ کتا بھونک سکے اور نا ہی چڑیا چہچہا سکے“ ۔
اس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے افسران کی تعیناتی کا عمل شروع کیا گیا، مقبوضہ کشمیر کی زمینوں کو صنعتی ترقی کے نام پر بھارتی افراد کو الاٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، لاکھوں کی تعداد میں غیر ریاستی افراد یعنی بھارتی شہریوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے باشندے قرار دینے کے سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے۔ یعنی مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگریفک تبدیلی کے منصوبے پہ تیزی سے عمل شروع کر دیا گیا۔ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں اسٹیٹ لاز آرڈر 2020 کے نفاذ پر بھارتی پارلیمنٹ کے ایک سینئر ’بی جے پی‘ رکن مسٹر سبرامنیم سوامی نے واضح طور پر کشمیر کے لیے بی جے پی حکومت کے مستقبل کے منصوبوں کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح کشمیر اس سے مستثنی کیسے ہو سکتا ہے۔ مسٹر سوامی آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 A کو متعدد سطحوں پر کالعدم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ہندوستانی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انڈیا کی حکمران ’بے جے پی‘ کے سابق نائب صدر بلبیر پنج نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور انڈیا میں مدغم کرنے کے تین سال پورے ہونے کے موقع پر ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”دفعہ 370 اور 35 Aکے ختم کیے جانے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں انڈیا کے 890 قوانین نافذ ہوئے، مقبوضہ کشمیر کے 205 قوانین ختم کیے گئے اور 129 قوانین میں ترمیم کی گئی۔
یوں تو ہندوستان کی طرف سے کشمیر کو ہندوؤں کا قدیم مقدس علاقہ قرار دیتے ہوئے کشمیر پر قبضے کو ہندوستان کا حق قرار دینے کی کوشش کافی عرصے سے ہو رہی ہے تاہم گزشتہ چند سال سے ہندوستان کی اس کوشش میں تیزی نظر آ رہی ہے۔ ہندوستانی حکومت کشمیر پر اپنا حق جتلانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کشمیر سے متعلق ہندو مت کا حربہ بھی استعمال کر رہی ہے، یعنی ہندوستانی حکومت کشمیر سے متعلق مذہبی کارڈ کا استعمال کر رہی ہے۔ امرناتھ یاترہ کے سلسلے میں تقریباً ایک ہزار کنال اراضی سہولیات کے نام پر الاٹ کی گئی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ہندو مت کے مختلف تہوار خصوصی طور پر دھوم دھام سے منانے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ان میں بھارت سے یاتریوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد لانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے ٹیٹوال علاقے میں نیلم دریا، کشن گنگا کے کنارے شاردہ پیٹھ کے نام سے ایک مندر تعمیر کیا گیا ہے اور ہندوستان بھر سے ہندو یاتریوں کو بڑی تعداد میں اس مقام پہ لانے کی ترغیب میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس مندر کے ذریعے آزاد کشمیر کے شاردہ کے مقام پہ قائم بدھ مت کی قدیم یونیورسٹی کے کھنڈرات میں ہندو مندر کی تعمیر اور وہاں ہندو یاتریوں کو لے جانے کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو مضبوط بنانے کے ان بھارتی اقدامات پر اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین سمیت انسانی حقوق و دیگر کئی عالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق اپنی متعدد خصوصی رپورٹس جاری کرتے ہوئے بھارت کے ظلم و جبر کے کردار کو عریاں کیا اور بھارتی اقدامات کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیر کی صورتحال سے متعلق بند کمرے کا ایک خصوصی اجلاس ہوا اور امریکی پارلیمنٹ میں کشمیر کے موضوع پہ ایک خصوصی سماعت بھی ہوئی۔ بھارت کے ان اقدامات کے باوجود عالمی سطح پہ ریاست جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور عالمی اداروں میں ریاست جموں وکشمیر بدستور ایسے متنازعہ خطے کے طور پر موجود ہے جس کا پرامن اور منصفانہ فیصلہ بشمول اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کیا جانا ابھی باقی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف بھارت کی فوج کشی اور ہر شعبے میں ظلم و جبر کی انتہا پر مبنی کارروائیوں کے فیصلہ کن اقدامات کو پانچ سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے جواب میں پاکستان کے ارباب اختیار محض وزارت خارجہ اور حکومتی عہدیداران کے بیانات تک ہی محدود نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری سطح پہ عالمی اداروں اور عالمی برادری سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عملی اقدامات کرے جبکہ اس حقیقت کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ عالمی ادارے اور عالمی برادری اسی وقت مسئلہ کشمیر کا نوٹس لے سکتی ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر سے متعلق عملی اقدامات پر مبنی سخت سٹینڈ لیا جائے۔ یوں تو آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنی کمانڈ کی ترجیحات میں کشمیر کاز کو اولین ترجیحات میں رکھا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کشمیر کاز سے متعلق سیاسی اقدامات نقاہت کا شکا ر ہیں بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ کشمیر کاز سے متعلق سیاسی اقدامات کو معطل ہی نہیں بلکہ منجمد رکھا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی صورتحال میں پاکستان کشمیر سے متعلق سوگ منانے کی صورتحال میں محدود نہ رہے کیونکہ یہ مسئلہ حقیقی طور پر پاکستان کی سلامتی اور بقاء سے منسلک و مربوط معاملہ ہے اور اس سے متعلق محض بیانات تک محدود رہنے کا مطلب پاکستان کے دفاع کے بنیادی تقاضے کو فراموش کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔

