دوسروں کا ناپسندیدہ ہمارا پسندیدہ ترین ٹھہرا
گورنمنٹ ہائی سکول روجھان میں پانچ ماہ کا عرصہ گزارنے کے بعد میرا ٹرانسفر گورنمنٹ ہائی سکول چک بیدی ضلع ساہیوال میں ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا۔ گویا کہ میں اپنے گھر میں ہی واپس آ گیا ہوں۔ حالانکہ یہ سکول بدنام زمانہ سکول تھا اور لوگوں کا سزا کے طور پر یہاں تبادلہ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں پہنچنے کے لیے مجھے پہلے اپنے گاؤں سے حاجی شیر آنا پڑتا۔ وہاں سے بس میں بیٹھ کر بورے والا اڈے پر آتا۔ پھر اس اڈے سے تقریباً دو کلومیٹر دور دوسرے لاری اڈے پر پہنچتا جہاں سے پاکپتن کے لیے بسیں چلتی تھیں۔ یہاں سے بس میں سوار ہو کر پاکپتن پہنچتا بلکہ بعض اوقات تو یہ بس عارف والا پہنچ کر اپنی سواریوں کو دوسری پاکپتن جانے والی کسی بس کو باقاعدہ طور پر فروخت بھی کر دیا کرتی تھی۔ پاکپتن سے پھر ہم نئی بس پر سوار ہو کر چک بیدی اڈے پر پہنچتے اور وہاں سے تقریباً آدھ پون کلو میٹر دور سکول تک پیدل پہنچا کرتے تھے۔ یہاں کی آبادی ٹھیٹھ رانگڑوں پر مشتمل تھی اور ان میں سے اکثریت کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ گویا کہ ایک کریلا اور دوسرے نیم چڑھا مقامی لوگوں کی اکثر اساتذہ کرام سے لڑائی بھڑائی ہی رہتی۔ وجوہات کچھ بھی ہو سکتی تھیں۔ بلکہ بعض اوقات تو اگر کوئی ٹیچر دیر سے سکول پہنچتا تو اس کو سکول پہنچے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی رانگڑ گھیر لیتا کہ تم دیر سے کیوں آئے ہو۔ میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے یہاں پر کسی کو بھی مقدس گائے کا درجہ نہیں دینا چاہیے۔ کام کرنے والوں کی تعظیم و تکریم اور کام چوروں اور کرپٹ عناصر کا محاسبہ ہی صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے شرطِ اول ہے اور مقامی آبادی کے تعاون سے ہی سرکاری سطح پر ہونے والی کرپشن اور کام چوری کو روکنا ممکن ہے۔ اگر مقامی آبادی متفق ہو کر اس بات پر متحد ہو جانے کہ ہم نے سرکاری اہل کاروں کو نہ تو خود رشوت دینی ہے اور نہ ہی انہیں یہ کام کرنے دینا ہے تو سرکار کے کارندوں کے لئے یہ کام اتنا آسان نہیں ہو گا۔ لیکن ہمارا معاشرتی رویہ اس کے بالکل برعکس ہے ہم لوگوں میں سے اکثریت کا یہ حال ہے کہ اپنے جائز کام کے لئے بھی جیبوں میں پیسے بھرے پھرتے ہیں اور جب تک وہ پیسے رشوت کے طور پر کسی کی جیب میں نہ ڈال دیں ہماری تسلی نہیں ہوتی۔
میں ایک بار میجر صاحب کے پاس شیر شاہ روڈ ملتان پر واقع اُن کے فوجی فاؤنڈیشن کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا اور اسی موضوع پر بات چیت ہو رہی تھی وہ کہنے لگے کہ تمہارا بوریوالہ راشی افسران کی جنت ہے جو سرکاری اہل کار ایک دفعہ بوریوالہ میں آ جاتا ہے وہ واپسی کا نام ہی نہیں لیتا۔ میں نے اپنے شہر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جانے دیں میجر صاحب پورے ملک کا یہی حال ہے۔ ہم اکیلے تھوڑی ہیں اور آپ بھی تو بوریوالہ سے ہی ہیں۔ کہنے لگے میں ابھی اس بات کو ثابت کروں گا۔ انہوں نے اپنے ڈپٹی کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ آپ کا بھتیجا تیمور آج کل کہاں ہے اگر کہیں قریب ہی ہے تو اُسے یہاں بلواؤ۔ دس منٹ بعد تیمور ہمارے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تیمور ایکسائز انسپکٹر کی پوسٹ پر ملتان میں ہی تعینات تھا۔ میجر صاحب نے اس سے دریافت کیا کہ تیمور اگر تمہاری ٹرانسفر میرے اختیار میں ہو تو تم کون سے شہر میں جانا پسند کرو گے وہ بغیر کسی توقف کے فوراً ہی بول پڑا کہ سر بورے والا میں۔ دریافت کیا کہ کیوں بولا سر وہاں پر لوگ جیبوں میں پیسے بھر کر رشوت دینے کے لیے مناسب بندہ ڈھونڈتے پھر رہے ہوتے ہیں اور جب تک رشوت دے نہیں لیتے اُن کی تسلی نہیں ہوتی۔
بات چک بیدی کی ہو رہی تھی یہاں کے مقامی لوگوں کی زبان میں سختی اور لہجے میں کرختگی تھی لیکن مفاد عامہ کے اجتماعی کاموں میں وہ سبھی لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ہمارے وہاں جانے سے چند سال پہلے گاؤں کے لوگوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ گاؤں میں ہائی سکول بنایا جائے۔ تاکہ اُن کی نسلیں زیور تعلیم سے مزین ہو کر معاشرے میں بہتر زندگی گزار سکیں۔ سکول کے قیام کے لئے سب سے پہلی ضرورت زمین کی تھی۔ جہاں پر اس کی عمارت تعمیر کی جا سکے۔ یہاں کے ایک باسی راؤ ظہور احمد کلانوری کی ساڑھے گیارہ ایکٹر زمین گاؤں کے بالکل ساتھ ہی پڑی ہوئی تھی۔ اس نے 9 ایکٹر زمین سکول کے لئے وقف کر دی اور بقیہ اڑھائی ایکٹر زمین مسجد کو وقف کردی۔ اس کے بعد عمارت کی تعمیر کے لئے سرمائے کی ضرورت تھی۔ گاؤں کی اکثریت غریب اور کمزور مالی حیثیت والے لوگوں پر مشتمل تھی۔ بہر حال سارے گاؤں سے چندہ اکٹھا کرنے کی اپیل کی گئی۔ وہاں پر موجود لوگوں نے ہمیں بتایا کہ گاؤں والوں نے جس جذبے سے یہ کام کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ جس کے پاس پیسے تھے اس نے پیسے دے دیے۔ کسی نے گندم دے دی کسی نے دھان دیے اور کئی ایک نے اپنے ڈھور ڈنگر دے دیے۔ گاؤں کی خواتین کی بڑی اکثریت نے اپنے ہاتھوں اور کانوں سے سونے کے زیور اتار کر اس فنڈ میں جمع کروائے۔ غرض کہ اس طرح جمع کیے جانے والے فنڈ سے جو بلڈنگ تعمیر ہوئی وہ ہائی سکول کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر تھی اور محکمہ تعلیم نے ہائی سکول کا سٹاف بھجوا دیا اور اس طرح ایک سال کے عرصے کے اندر ہی یہاں پر ہائی سکول کی کلاسیں شروع ہو گئیں۔
میرا یہاں پر دو سال تک قیام رہا۔ ہمارا ٹائم ٹیبل یہ تھا کہ سکول ٹائم میں بچوں کو پڑھاتے۔ چھٹی کے بعد کھانا کھا کر سو جاتے اور شام ہوتے ہی نیکر اور بنیان پہن کر والی بال گراؤنڈ میں آ جاتے اور باقاعدگی سے والی بال کھیلا جاتا۔ کھلاڑیوں میں سکول کے طلباء اور گاؤں کے لوگ شامل ہوتے۔ ہفتے عشرے بعد کسی دوسرے گاؤں کی ٹیم کے ساتھ میچ بھی کھیلے جاتے اور اس کے لئے کبھی ہماری ٹیم دوسرے گاؤں میں کھیلنے کے لیے چلی جایا کرتی اور کبھی دوسری ٹیم ہمارے پاس آجاتی۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کے علاوہ علاقے بھر کے لوگوں سے واقفیت ہو چلی تھی۔ میری زندگی کا یہ ایک ایسا دور تھا جسے میں نے سب سے زیادہ انجوائے کیا۔ سردیوں میں رات گئے رضائیاں اوڑھ کر مٹر گشت کرنے نکل جاتے۔
ہماری دیکھا دیکھی ہمارے طلبا اور گاؤں کی نوجوان نسل نے بھی اسے اپنا شعار بنا لیا اور سردیوں کی راتوں میں گاؤں کے اکثر باسی رضائیاں اوڑھ کر باہر چلتے پھرتے دکھائی دیا کرتے تھے۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ پیار محبت اور عزت و احترام کا ایسا رشتہ قائم ہوا جو آج تک بھی بدستور چل رہا ہے۔ پچھلے دنوں میرے اس دور کے طالب علم راؤ تصور کا فون آیا۔ کہ میرے بیٹے کی بارات وہاڑی جا رہی ہے اور میری بڑی خواہش ہے کہ آپ بھی بارات کے ساتھ چلیں۔ میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں آپ مجھے پتہ بتائیں میں پہنچ جاؤں گا۔ وہ بولا نہیں سر ہم آپ کو گھر سے لے لیں گے اور آپ میرے ساتھ ہی وہاڑی جائیں گے اسی بہانے گپ شپ بھی رہے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بارات میں اور بھی کئی لوگ میرے پرانے سٹوڈنٹ تھے اور انہیں بھی علم تھا کہ میں بارات کے ساتھ آ رہا ہوں۔ وہاں پر ہم سب ایک ہی جگہ پر اکٹھے ہو کر بیٹھ گئے اور چالیس بیالیس سال پرانے وقت کی یادیں تازہ کر کے خوش ہوتے رہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول چک بیدی جو ضلع بھر کا بد نام سکول تھا۔ اپنی مرضی سے کوئی استاد یہاں آنے کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا تھا اور جن اساتذہ کو سزا دیتا مقصود ہوتی اُن کا تبادلہ یہاں پر کیا جاتا لیکن میرا یہاں اس قدر خوبصورت وقت گزرا جس کی فرحت بخش سنہری یادیں آج بھی دل و دماغ کو معطر کرتی رہتی ہیں۔


