زندگی ریل کا سفر تو نہیں

شاعرانہ تخیل اور فکری جہت، اپنے لیے اظہار کے قالب کا اہتمام خود ہی کیا کرتی ہیں۔ ذہن میں رہے کہ تخیل کی موزونیت وہ نکتہ ہے جو کسی شعری صنف میں جان ڈالتا ہے، باقی شاعر پر منحصر ہے کہ وہ علائم کی پہلو داری اور لفظیات کی لطافت سے اس صنف کو ، چاہے تو بامِ عروج پر پہنچا دے، چاہے تو عامیانہ بنا دے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے نثری نظم نے متنازع ہو نے کے باوجود اپنے وقار اور اعتبار میں اضافہ کیا ہے۔ نثری نظم کو بطور شعری صنف تسلیم کرانے میں ایسے شاعروں نے بنیادی کردار ادا کیا جنھوں نے تخلیقی سطح پر نثری نظم کے داخلی آہنگ کو نہ صرف دریافت کیا بلکہ اس داخلی آہنگ میں موضوعاتی تنوع سمونے اور شعری مواد فراہم کرنے میں بھی اپنی تمام تر تخلیقی توانائیاں صرف کیں۔ ڈاکٹر رابعہ سرفراز، نثری نظم تحریر کرنے والے ایسے ہی شعرا کی صف میں ایک اہم نام ہے۔
”زندگی ریل کا سفر تو نہیں“ ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے جو 2019 ء میں روہی بکس، فیصل آباد سے اشاعت پذیر ہوا ہے۔ اس کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر رابعہ سرفراز کے ہاں تخلیقی توانائی اس قدر زیادہ اور منظم ہے کہ وہ کسی بھی شعری صنف میں ڈھلے اپنی انفرادیت سے قاری کو سرشار کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے نثری نظم کا سانچہ شعوری پر اختیار کیا ہے۔ انھوں نے نثری نظم کے مزاج، اس کے موضوعات اور اس کی لفظیات کو اتنے سلیقے اور ہنر مندی سے تخلیقی صورت عطا کی ہے کہ نثری نظم کی داخلی توانائی اور تاثیر پڑھنے والے کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کی نظموں کے موضوعات اور ٹریٹمنٹ متاثر کن اور انفرادیت سے لبریز ہے۔ ان کی نظم ”روپ بہروپ“ سے ایک اقتباس دیکھیں:
جسم کیا روح پر بھی خراشیں پڑیں
بھولتی ہی نہیں کاٹ اس طنز کی
کس قدر مختصر دائرہ فکر کا
ابتدا آپ سے انتہا بھی وہیں
ذات کی داستاں ختم ہوتی نہیں
دل سے نکلے کدورت کبھی
تو محبت بھی عنواں ہو (روپ بہروپ، ص: 36 )
”زندگی ریل کا سفر تو نہیں“ میں شامل کئی نظمیں اپنی تخلیق کار کی سہیلیاں محسوس ہوتی ہیں، وہ اس سے اٹکھیلیاں کرتی ہیں اور کبھی گلے شکوے، کبھی روٹھتی ہیں، کبھی مناتی ہیں اور کبھی اپنے حصے کی محبت کا تقاضا کرتی ہیں۔ وہ اپنے وجود کے خلا کا احساس دلا کر اُس کے سامنے اپنا دامن پھیلاتی ہیں اور آنکھیں بند کر کے لفظ اور فکری سرمائے کی بھیک کی منتظر دکھائی دیتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ جانتی ہیں کہ کہ کیسے جذبے کی مجرد صورت کو نظم کا پیکر عطا کیا جاتا ہے، انھیں اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ نظم کا بیانیہ یک پرتی نہیں بلکہ کثیر پرتی ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظم ”میں فقط ایک لڑکی نہیں“ سے چند لائنیں ملاحظہ ہوں :
خواب میرے لیے گنگناتے رہیں
اور بھروسا مری ذات کا جگمگاتا رہے
ڈگمگائیں قدم کیوں کہیں
میں فقط ایک لڑکی نہیں
مان ہوں اپنے ماں باپ کا (میں فقط ایک لڑکی نہیں، ص: 60 )
ڈاکٹر رابعہ سرفراز زندگی کے ارتقا پر یقین رکھنے والی ایسی شاعرہ ہیں جو زندگی کے بھر پور امکانات کی جستجو میں سرگرداں دکھائی دیتی ہیں۔ زندگی کرنے اور برتنے کے ایسے ہی اجلے رویوں نے ان کے ہاں رجائیت اور امید کے رنگ بھر دیے ہیں، وہ کسی صورت زندگی سے بیزار ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ان کے ہاں زندگی اپنے خالص رنگوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ انھوں نے زندگی کی نم آلود مٹی کے لمس کو ننگے پاؤں محسوس کرتے ہوئے، مٹی کے اس لمس کو خالص اور پاکیزہ خوشبو کی صورت میں اپنی روح کی گہرائیوں میں اتارا ہے۔ یوں انھوں نے زندگی کے نت نئے امکانات کو تلاشنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی نظم ”خواب مرتے نہیں“ سے ایک اقتباس :
خواب مرتے نہیں
خواب بارش ہیں، بنجر زمیں پر برستی ہوئی
دھوپ میں اک شجر ہیں
مرے ہم سفر ہیں
سنو
خواب مرتے نہیں (خواب مرتے نہیں، ص: 74 )
ان کی ایک اور نظم ”محبت“ کا آغاز ملاحظہ ہو:
محبت ذات کی سچی گواہی ہے
یہ وہ طاقت ہے جس نے تیرگی میں چار سو روشن کیے اپنے دیے
امید کی گٹھڑی کبھی گرنے نہیں پاتی
ہمیں وہ رنگ دیتی ہے جو سب وہم و گماں سے ماورا لیکن حقیقت ہیں
نگاہوں میں چھپے ہر عکس کو مفہوم دیتی ہے
دکھوں میں مسکراہٹ کا سلیقہ ہے
ادب، شائستگی، تہذیب سب اس میں
دلوں کے بھید اس کے ہیں (محبت۔ ص: 77 )
ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظمیں زندگی کے روشن، اجلے اور مثبت رویوں کی ترجمان ہیں۔ یہی وہ رویے ہیں جنھوں نے ان کی شاعری میں تخلیقی رنگا رنگی کا داخلی آہنگ بھر دیا ہے جس نے ان کے فن کو اعتبار بخشا ہے۔ ان کی نظموں میں زندگی بھر پور انداز میں مختلف زاویوں سے طلوع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی زندگی جس کے کینوس پر ارتقا اور امکانات کے رنگ اپنے خاص توازن اور تناسب سے بکھرے پڑے ہیں۔ ڈاکٹر رابعہ سرفراز نے اپنی نثری نظموں کی صورت میں ایسا شعری سرمایہ تخلیق کیا ہے جو انھیں سچی اور کھری شاعرہ کی صورت میں سامنے لاتا ہے جو زندگی کے مختلف رنگوں سے نہ صرف جڑی ہوئی ہے بلکہ اپنی مٹی سے روحانی وابستگی اختیار کر کے سرشاری کی کیفیت سے لطف اندوز ہوتی ہے۔


