موسمی تغیُرات کا اِنسانی رویوں سے تعلُق
پشاور سے ہجرت کیے ہمیں 20 برس بیت چکے ہیں۔ بظاہر ہم پشاور سے نکل آئے ہیں مگر پشاور ہم میں سے آج تک نہیں نکلا اور دُوسری جانِب اب نہ لاہور ہمیں چھوڑتا ہے نہ ہم لاہور کو۔
آج ابھی صبح صبح کا ہی وقت تھا کہ شہر میں حبس ڈیرے جما چُکی تھی۔ ہم رائیونڈ روڈ پر واقع ایک نجی یونیورسٹی کی جانب گامزن تھے۔ ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک طرف تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں اور دوسری جانب 15 سے 20 سال کی عمر کے بچے سکول یونیفارم پہنے یونیورسٹی میں داخل ہو رہے تھے، خیر ہم تو سوچ میں پڑ گئے کہ یہ ماجرا کیا ہے؟
یونیورسٹی میں داخل ہوئے، کانفرنس ہال میں پہنچے جہاں ہم مدُعو تھے تو شُرکا کی ایک بڑی تعداد سکولوں کالجوں کے اُنہی بچوں کی تھی جو پسینے میں شرابُور خراماں خراماں یونیورسٹی میں داخل ہو رہے تھے۔ اس بڑے تعلیمی ادارے میں نوجوانوں کا یہ اجتماع لاہور کانفرنس آف یوتھ کی قیادت اور دیگر سماجی اِداروں کی معاونت سے ماحولیاتی آلُودگی کے خاتمے اور سرسبز و شاداب اور معیاری ماحول سے مُتعلق نوجوانوں میں شعُوری بیداری کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا۔ انتظامات، موضوعات اور مقررین سبھی کچھ قابلِ تعریف تھا۔
ماحولیات یا کائنات کی تمام مخلُوقات کا تحفُظ اِس وقت کا اہم ترین موضوع ہے۔ دُنیا بھر میں اِس حوالے سے چھوٹے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ راقم حال ہی میں ویٹکن روم کی ایک یونیورسٹی کے زیرِاہتمام اِسی موضوع کی مناسبت سے ایک جامع تربیتی ورکشاپ میں شامل رہا اور سند یافتہ ہے۔ اِس موضوع کے حوالے سے اپنا موقف تو یہ ہے کہ جس طرح ہم ”اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا چاہتے ہیں“ ، اُسی طرح آئندہ نسلوں کے لئے اِس دُنیا کو قابلِ رہائش بنانا اور کائنات کی تمام تخلیقات سے پیار و احترام کو فروغ دینا بھی ہماری ذمہ داری میں شامل ہے۔
ماحولیاتی سماجی انصاف، بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی کے بحران اور قابلِ عمل حل کی تلاش کے موضوعات گفتگو کا مرکزی نکتہ تھے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت کے اداروں کے عملی منصوبے اور پائیدار ترقی (ایس ڈی جی) کے اہداف کا جائزہ بھی تبصروں میں شامل تھا۔
نوجوانوں کی اس کانفرنس کا ایک اہم اور پُرکشش و بامعنی حصہ وہ تھا جہاں پاک مشن سوسائٹی کی سرپرستی میں اسکول کے بچوں نے اس موضوع پر بیداری اُجاگر کرنے کے لیے تقاریر اور خاکے پیش کیے ۔ کم عمر بچوں کی توجہ اس اہم عالمی مسئلہ کی طرف مبذُول کروانا نہ صرف قابلِ ستائش بلکہ قابلِ تقلید عمل ہے۔
کانفرنس میں لگ بھگ تمام اہم شعبہ ہائے زندگی سے نمائندوں کو شامل کیا گیا جن میں موسمیاتی تبدیلی کے کارکن، ماحول دوست کاروباری افراد، ماہرین موسمیات، ماہرینِ نباتات کے علاوہ سماجی تنظیموں، ذرائع ابلاغ، اور ماہرین تعلیم کا تعاون بھی شامل تھا۔
کانفرنس کے منتظمین بشمول رِدا اشرف اور شیرشاہ خان نے نوجوانوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے اُن کے کردار اور ہر قدم پر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔ کانفرنس کو مختلف ضِمنی موضوعات اور حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد گفتگو کرسکیں۔
ماحولیاتی آلودگی نے ہر ذی روح کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے اور دُنیا میں روزانہ لاکھوں افراد ماحولیاتی یا فضائی آلودگی سے متاثر ہو کر مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان امراض میں سانس کی نالیوں کی سوزش، دَمہ، سینے کا انفیکشن، دِل کے امراض، بُلند فشارِ خون وغیرہ نمایاں ہیں۔
کائنات کی تخلیقات اور ماحولیات کو مستقبل کی زندگی کے لئے خطرناک بنانے میں اسموگ، سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کو آلودہ کرنا، بڑی مقدار میں کوڑا کرکٹ جمع ہونا اور بے تحاشا ذرائع آمدورفت کے استعمال کے ساتھ ساتھ درجنوں دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں اور سطحِ سمندر میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے نتیجے میں متعدّد آبی انواع شدید خطرات کا شکار ہیں۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ، سرسبز علاقوں کو پختہ کنکریٹ کی عمارتوں اور سڑکوں میں بدلنے اور نئے جنگلات نہ لگانے جیسے عوامل خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہے ہیں۔
ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے شعور اور بیداری کی لہر چلی تو ہے مگر بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ یہ کسی ایک مکتبہِ فکر، مذہبی عقیدے کے پیروکاروں یا کسی ایک فرقے، تعلیمی یا سماجی اداروں یا سماج کے چند گنے چُنے افراد کا کام نہیں بلکہ یہ مجموعی اور مسلسل کوششوں کا عمل ہونا چاہیے۔
ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ او کائنات سے پیار اور احترام کا پہلا اور بنیادی قدم انسانی رویوں میں تبدیلی لانا ہے، یعنی یہ کہ ہمیں روزمرہ زندگی میں کیا استعمال کرنا چاہیے، کتنا استعمال کرنا چاہیے اور کیسے استعمال کرنا چاہیے۔ جب تک سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں آئے گی ماحولیاتی آلودگی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔ ماحول تبدیل کرنے کے لئے رویے تبدیل کرنا ہوں گے۔
لاہور کانفرنس آف یوتھ، پاک مشن سوسائٹی یا کے این ایچ اور دیگر سماجی و فلاحی اداروں کی یہ کوششیں یقیناً قابلِ ستائش و تقلید ہیں مگر یہ بار آور تبھی ہو سکتی ہیں جب افراد اس سکھلائی اور پیغام کو عملی صورت میں ڈھالیں گے۔ ان کاوشوں کا حاصل اُسی صورت نظر آئے گا جب عوام اپنے اندازِ زندگی یا کائنات کی نعمتوں کو استعمال میں لانے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائیں گے۔ اس بڑی تبدیلی کے لئے ہر فرد کو خود اپنے اندر سنجیدگی اور ثابت قدمی لانا ہوگی۔ ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنا ایک بار کا عمل نہیں بار بار دہرائے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔
آنے والے برسوں میں موسمی تغیرات یا آفات سے بچنے کا واحد حل روزمرہ کے انسانی رویوں میں تبدیلی، کائنات سے پیار، احترام اور ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کی مشترکہ کوششوں میں پنہاں ہے۔ آج اور اسی وقت یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لئے کیسا ماحول چھوڑے جا رہے ہیں؟ آئیے بہتر ماحولیاتی مہم اور تحریک کا حصہ بننے کا عہد کریں تاکہ دُنیا میں کچھ اچھا باقی رہے۔


