بنگلہ دیش کی مفرور وزیر اعظم اور بلوچستان کا نیا بیانیہ
بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم حسینہ واجد کو استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہونا پڑا ہے۔ آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں سے مشاورت کے بعد عبوری حکومت قائم کریں گے۔ انسانی حقوق اور معاشی سہولتوں کے لیے ہونے والے اس احتجاج کا بظاہر اختتام ایک نئے آمرانہ دور پر ہونے والا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں پاک فوج نے بلوچستان میں احتجاج کرنے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی کو دہشت گردوں کی گماشتہ قرار دیا ہے۔
1971 تک پاکستان کا حصہ رہنے والے ملک میں جمہوریت کے نام پر شخصی آمریت قائم کرنے والی حکومت کا زوال ایک مفصل تجزیے کا موضوع ہونا چاہیے لیکن پاکستانی امور پر نگاہ رکھتے ہوئے، ان رویوں اور اعلانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ملک کے مستقبل، خوشحالی، نظام کے استحکام بلکہ ملکی سالمیت کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ بلوچ یک جہتی کمیٹی کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے سخت اور دو ٹوک ریمارکس نے انسانی حقوق اور معاشی معاملات میں حصہ داری کے حوالے سے چلائی گئی ایک عوامی تحریک کے ساتھ براہ راست تصادم کی دعوت دی ہے۔ عام طور سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو منظم اور پرامن عوامی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس کمیٹی نے اس سے پہلے اسلام آباد میں بھی دھرنا دیا تھا اور اپنے مطالبات پر توجہ حاصل کرنے کے بعد اسے پر امن طور سے ختم بھی کر دیا تھا۔ اب تقریباً ان ہی مطالبات کے لئے بلوچستان میں گوادر کے مقام پر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حکام کی طرف سے دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والوں کے راستے روکے گئے۔ اسی لیے ان مظاہرین نے ہر اس مقام پر دھرنا دے دیا جہاں وہ موجود تھے۔ اس طرح بعض شاہراہوں پر ٹریفک متاثر ہوئی۔
بلوچستان کی حکومت بلوچ یک جہتی کمیٹی کے ساتھ 2 اگست کو ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق کمیٹی نے گرفتار شدہ کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ ماننے پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن اس دوران میں کچھ عملی مشکلات حائل ہوئیں اور اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ملکی میڈیا نے چونکہ اس دھرنے کے بارے میں خبروں کا بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اور کیسے غلط فہمی پیدا ہوئی لیکن آخری خبروں کے مطابق صوبائی حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ البتہ ملک کی طاقت ور فوج کی جانب سے بلوچ یک جہتی کمیٹی پر دہشت گردوں کا ایجنڈا مکمل کرنے کا الزام عائد کر کے نہ صرف ان مذاکرات کو مشکوک بنا دیا گیا ہے بلکہ مستقبل قریب میں بلوچ عوام اور ریاست پاکستان کے رشتے میں مزید دراڑ پڑنے کا اندیشہ بھی پیدا ہوا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے علاوہ فوج کی پوری اعلیٰ قیادت کو علم ہونا چاہیے کہ پاکستان اس وقت ایسے تنازع اور تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ رائے اس پوری صورت حال سے باہر بیٹھے ہوئے لوگ دے سکتے ہیں، البتہ اندر سے ان پر غور کر کے فیصلے کرنے والوں کے پاس ضرور کچھ ایسے زاویے ہوں گے جن کی بنیاد پر وہ اپنی رائے بناتے ہیں۔
اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے آج کی پریس کانفرنس میں کیا فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد تنظیموں، غیرقانونی کام کرنے والے عناصر، سمگلرز اور بھتہ خوروں کی پراکسی یعنی گماشتہ ہے جو بیرونی فنڈنگ سے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہے۔ یہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی نام نہاد لیڈرشپ دہشتگرد تنظیموں، غیرقانونی سپیکٹرم اور کریمنل مافیا کی ایک ’پراکسی‘ ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس کمیٹی کو یہ کام ملا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں نیز دہشت گردی، کریمنل مافیا، بھتہ خوروں کے خلاف کام کرنے والوں کو بدنام کیا جائے۔ ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جائے۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو متنازع بنایا جائے۔ کمیٹی کا طریقہ کار یہ ہے کہ بیرونی بیانیے اور بیرون فنڈنگ پر ایک جتھا جمع کرو، اس جتھے کے گرد معصوم شہریوں کو ورغلاؤ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرو، پتھراؤ کرو، آگ لگاؤ، بے جا مطالبات پیش کرو، اور جب ریاست جواب دے تو معصوم بن جاؤ‘ ۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ’بیرونی ایجنڈے والے پیچھے بیٹھے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نام پر ان کے حق میں بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وہ تماشا ہے جو آپ نے گزشتہ دنوں گوادر میں دیکھا‘ ۔ بنیادی حقوق اور لاپتہ افراد کے بارے میں سوال کرنے والی تحریک کے خلاف ایسے شدید اور سنگین الزامات عائد کر کے ایک ناگوار سنگین صورت حال پید کی گئی ہے۔ فوج کے ترجمان نے ایک ایسے وقت میں یہ سخت بیان دینے کی ضرورت محسوس کی ہے جب صوبے کی منتخب حکومت ان عناصر سے بات چیت کے ذریعے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں بھی پارلیمنٹ موجود ہے اور ایک جمہوری سیٹ اپ کام کر رہا ہے۔ ایسے میں فوج کو آگے بڑھ کر ایک صوبے میں چند معاملات پر احتجاج کرنے والوں کو سخت پیغام دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ یہ پیغام نہ صرف فوج کے متعین آئینی مینڈیٹ سے ماورا ہے بلکہ اس سے منتخب حکومتوں کے لیے کام کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
عالمی تعلقات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ دوست ممالک اور عالمی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں کیوں کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ملک میں حالات کیا رخ اختیار کرنے والے ہیں۔ یا پاکستان میں فیصلے کرنے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کی پریس کانفرنس میں داخلی امور کے بارے میں بھی شبہات پیدا کیے گئے ہیں۔ اب ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ بعض مطالبوں کے لیے احتجاج کرنے والے لوگوں سے منتخب حکومتیں معاملات طے کریں گی یا اس کے لیے بھی انہیں فوج سے اجازت درکار ہوگی۔ اگر فوج داخلی و خارجہ امور پر ایسا ہی مکمل کنٹرول چاہتی ہے تو ملک میں جمہوریت کا ڈرامہ رچانے اور پریشانی کا سلسلہ دراز کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ براہ راست جی ایچ کیو اہم معاملات پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلیٰ کو حکم جاری کر دیا کرے۔ شہباز شریف اور کم از کم تین صوبوں کی حکومتوں کو ایسی ہدایات لینے اور ان پر عمل کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ خیبر پختون خوا کی حکومت تن تنہا کس حد تک مزاحمت کرے گی۔ یا تو وہ بھی ’حاضر جناب‘ کہے گی یا اس کا کوئی تیر بہدف علاج آئین کے عین مطابق آصف زرداری جیسے تعاون کرنے والے صدر کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ملک میں کم از کم جمہوریت کا ڈھونگ تو ختم ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی جس نہج پر کام کرتی ہے، موجودہ حالات میں وہ فوج کو کسی مناسب قانون سازی کی صورت میں ہدایت نامے جاری کرنے کے کا اختیار بھی تفویض کر سکتی ہے۔ بعینہ جیسے الیکشن ایکٹ میں نئی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے یقین کر لینا چاہیے کہ ایسے ہتھکنڈے پائیدار اور موثر ہوں۔
ملکی معاملات اور فوج کے کردار کے حوالے سے بات طویل ہو سکتی ہے لیکن بنگلہ دیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ اس بارے میں سبق آموز ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن کوشش کرنے میں حرج بھی کیا ہے۔ ویسے بھی ایک صحافی اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے کہ اندھی طاقت کے گمان میں مبتلا اداروں اور افراد کو آئینہ دکھایا جائے۔ بنگلہ دیش سے مفرور ہونے والی حسینہ واجد ایک روز پہلے تک اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کو دہشت گرد قرار دے رہی تھیں۔ کرفیو اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے احتجاج کو پوری قوت سے کچل دینے کا عزم رکھتی تھیں۔ البتہ جب عوام کے انبوہ کثیر نے ڈھاکہ کی طرف مارچ کیا اور مشتعل ہجوم تمام رکاوٹیں عبور کرتا ہوا وزیراعظم ہاؤس کے اندر گھس گیا تو بنگلہ دیش کی آئرن لیڈی کو آخری تقریر ریکارڈ کرانے کا موقع بھی نہیں ملا۔ انہیں فوری طور سے اپنی بہن کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر میں بھارت فرار ہونا پڑا۔
بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے اس کے تھوڑی دیر بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے استعفے کا اعلان کیا اور بتایا کہ وہ عوامی لیگ کے سوا باقی سیاسی لیڈروں کے تعاون سے عبوری حکومت قائم کریں گے۔ انہوں نے کل سے کام کاج شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اب احتجاج کرنے، کرفیو لگانے یا ملکی امور کو معطل رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بنگلہ دیش میں 6 اگست کو صبح چھے بجے سے زندگی معمول کے مطابق کام کرنے لگے گی۔ اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں ہی میں ہو گا کہ یہ اعلان کس حد تک کارگر ہو گا اور بنگلہ دیش کا مستقبل اب کیا شکل اختیار کرے گا لیکن یہ حقیقت بہر صورت مشاہدہ کی جا سکتی ہے کہ ایک فرد کی ہٹ دھرمی اور عاقبت نااندیشی کی وجہ سے منتخب آئینی حکومت کسی آئینی طریقہ کار کے تحت اپنے انجام کو نہیں پہنچی۔ حسینہ واجد نے جنوری میں منعقدہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد پانچویں بار وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن وہ اس بات کا اندازہ نہیں کر سکیں کہ بگڑے ہوئے معاشی حالات، سیاسی جبر اور دھاندلی کے ہتھکنڈوں اور حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ریاستی تشدد کے باعث عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے۔
گزشتہ ماہ کے شروع میں طالب علموں نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ کوٹے کی بجائے میرٹ پر سرکاری ملازمتیں دی جائیں۔ اس انتظام میں 1971 کی جنگ آزادی میں جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان کو 30 فیصد ملازمتیں دی جاتی تھیں۔ عام طور سے یہ کوٹہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے کارکنوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طالب علموں کے احتجاج کو پہلے عوامی لیگ کے طلبہ ونگ نے تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی۔ یہ طریقہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس احتجاج میں 200 افراد کی جانیں گئیں۔ البتہ 21 جولائی کو ملکی سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم کو بڑی حد تک ختم کرنے کا حکم دے کر اس تنازعہ کو رفع دفع کر دیا تھا۔ امن بحال ہونے کے بعد حسینہ واجد نے طلبہ کی اشک شوئی اور ملک میں انسانی حقوق کے احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے، احتجاج منظم کرنے والے طالب علم لیڈروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ چند دنوں میں 10 ہزار افراد گرفتار کر کے ایک بار پھر شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا۔ اس کے رد عمل میں عوامی غم و غصہ کا طوفان بے قابو ہو گیا اور آج بنگلہ دیش پر بیس سال تک حکومت کرنے والی خاتون کو بے سر و سامانی کے عالم میں بھاگنا پڑا۔ ان کی پارٹی، لیڈر اور کارکن اب حالات کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
حسینہ واجد نے 2009 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بنگلہ دیش میں معاشی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا تھا۔ ملک میں غربت کم ہونے لگی، برآمدات کئی گنا ہو گئیں، قومی پیداوار کی شرح ہمسایہ ملک بھارت سے بڑھ گئی۔ البتہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ حسینہ واجد کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے جمہوریت کے ذریعے اقتدار لینے کے باوجود جمہوری و انسانی اقدار کا احترام نہیں کیا۔ سیاسی مخالفین کے لیے زندگی مشکل کی گئی اور بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔ مہنگائی و بیروزگاری پر احتجاج کرنے والوں کو کی صورت میں ریاستی غیظ و غضب کا نشانہ بنایا جاتا۔ مخالفین کو نشان عبرت بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنے والی حسینہ واجد آج دن کے دوران عوام کے خوف سے ملک چھوڑتے ہوئے خود عبرت کا سب سے بڑا نشان بن گئیں۔


