جانا کیلاشیوں کی تیسری وادی بریر کی جانب
چترال سے یہ میری تیسری ملاقات تھی۔ پوڑ (ستمبر کے آخر میں بالائی چراگاہوں سے مال مویشیوں کا نیچے وادی میں آنے اور اخروٹ و انگور پکنے کی خوشی میں منایا جانے والا تہوار) دیکھنے کی حسرت بھی اندر سے نکل کر آنکھوں میں ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی۔ تاج محمد فگار صاحب سے جو چترال کی بڑی علمی ادبی اور سماجی شخصیت ہیں فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس تہوار کے لیے تاریخ کے تعین کا جان کر مجھے مطلع کریں گے۔ میری ممیری بہن کوثر جمال اس بار میری ساتھی تھی۔ وہ یقیناً اپنے بچپن کے فوکر طیاروں میں جیالے پائلٹوں کے سنگ کیے گئے سفروں کے کسی ایسے عکس کو جو ابھی بھی اُسکی ذہنی دیواروں سے چمٹا ہوا تھا کو دیکھنے کے لیے چترال جانے کی آرزو مند تھی۔
ستمبر کے اوائل کی اس گرم دوپہر میں تاج محمد فگار صاحب کی چترال سے آنے والی آواز نے مجھے پندرہ ستمبر کو پوڑ کے میلے کی خبر سنائی۔
سفر دونوں ہی بڑے مزے کے تھے۔ زمین کے سینے پر گڑگڑاتی سیٹیاں بجاتی اور چھک چھک کرتی نے جیسے طوالت کو بھی عین راحت میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ اور ہواؤں سے گتھم گتھا ہونے والے نے تو پل جھپکتے میں جیسے عرش سے اٹھا کر فرش پر مارا تھا۔
ویٹنگ لاؤنج کے شیشوں والے دروازوں کے پیچھے تاج محمد فگار کا محبت بھرا چہرہ جھانکتا تھا۔ اس چہرے سے بالمشافہ ٹکراؤ پر سفر کے خیریت سے کٹنے جیسے اطمینان بھرے اظہاریہ کے بعد گھر کے لیے اصرار تھا جب کہ میری ہوٹل کے لیے تکرار تھی۔ پر جب انہوں نے کہا۔
” یہ کیسے ممکن ہے آپ اپنے بھائی کے شہر میں ہوں اور ہوٹل میں ٹھہریں۔ “
تو سامان اُٹھا کر اُنکے پیچھے چلنا بے حد ضروری ہو گیا تھا۔
زرگراندہ گاؤں میں نالے کے قریب گھنے درختوں کے جھنڈوں میں وہ گھر تھا جس کا وسیع ڈرائنگ روم صوفوں اور قالینوں سے اور ملحقہ گیسٹ روم آرام و استراحت کے ضروری لوازمات سے سجا تھا۔ مسز تاج بڑی بُردبار کم گو اور متین سی خاتون تھیں۔ چترال شہر کی لیڈی کونسلر بھی تھیں اور سیاسی سوجھ بوجھ کی مالک بھی۔ دوپہر کے کھانے کے لیے بائی پٹتس (چترالی نشست گاہ) میں جانا تھا۔ عقبی گھر میں چنار کے بے حد قدیمی درخت کی شاخوں کو تیز ہواؤں میں جھولتے انار کے سرخ پھل کو ٹہنوں پر جھومتے اور سیبوں کو بل کھاتے دیکھتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے کمرے کی پور پور میں صدیوں پرانی کہنہ سالی رچی ہوئی تھی۔
دھواں خوردہ چھت یوں چمکتی تھی جیسے اس پر ابھی تازہ سیاہ پینٹ کیا ہو۔ چوبی کڑھائی دار ستون تاج صاحب کے دادا پردادا کے زمانوں کی کہانیاں سناتے تھے۔ چوبی تختوں سے حد بندی کیا ہوا وسطی حصہ جس پر بچھی دسترخوان پر اعلیٰ درجے کی کراکری سجی تھی اور تاج صاحب کی چوتھے نمبر والی خوبصورت بیٹی اپنی دلنشین سی مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں سروس دیتی تھی۔
چترال کے میٹھے اور صحت بخش پانیوں کی پیدا کردہ اور مسز تاج کے سلیقہ مند ہاتھوں کی تیار کردہ بھنڈی حد درجہ ذائقہ دار تھی کہ نصف لمبوترہ نان تو صرف اسی ذائقہ کی بھینٹ چڑھ گیا تھا۔ اور جب افراد خانہ کے بارے میں غائبانہ تعارف ہوتا تھا میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
” تاج صاحب آپ تو بادشاہ ہیں۔ “
چشمہ پہنے اُس چہرے پر ناقابل فہم سے تاثرات اُبھرے جنہیں محسوس کرتے ہوئے میں بولی۔
” دراصل ہماری ہر لوک کہانی کا بادشاہ یا سات بیٹیوں کا باپ ہوتا ہے یا پھر بے اولاد۔ آپ کی بھی سات بیٹیاں ہیں لہٰذا آپ بھی بادشاہ ہوئے نا۔“
بڑا بھرپور اور جاندار قہقہہ تھا۔ جو انکی بیگم بیٹی اور خود ان کے اپنے اندر سے نکلا تھا اور جس نے ماحول کو پھلجھڑی سا بنا دیا تھا۔
ہمیں آرام کرنے کا کہتے ہوئے وہ پرنس اسد الرحمٰن سے قلعہ دیکھنے کی اجازت لینے چلے گئے۔
چترال کا موسم ابھی گرم تھا۔ میں لیٹی ضرور پر بے چین ہو کر اُٹھ بیٹھی۔ کوثر ابھی جاگن میٹی میں تھی۔ اُسے سُناتے ہوئے کہ میں ذرا پتہ تو کر آؤں پوڑ کس وادی میں ہو رہا ہے۔ کب اور کیسے جانا ہے کہتے ہوئے باہر نکل آئی۔
تاج صاحب کے گھر کی بلند و بالا سیڑھیاں اُتر کر نشیب میں واقع کریانہ کی دکان پر آئی تو تھوڑی سی رہنمائی وہیں سے مل گئی۔ نالے کے ساتھ ساتھ چڑھائی چڑھتا راستہ سیدھا اتالیق بازار میں نکلتا ہے وہیں کالاشیوں کا مرکز ہوٹل ہے۔
پر جب کالاشیوں کے اس مرکز میں پہنچی تو وہاں اماں نہ پونیاں والی بات تھی۔ بہرام شاہ اور چند دیگر کالاشیوں سے ملاقات ہوئی۔ پر پوڑ کے بارے میں تقریباً سبھی لا علم۔ پوڑ تو یوں بھی بریر وادی کا تہوار ہے کہ انگور کی پیداوار ٹنوں کے حساب سے وہیں ہوتی ہے۔ کسی نے کہا تھا۔
میرا دل اپنا آپ پیٹ لینے کو چاہا۔ بہرام شاہ نے وہیں گھاس پر مجھے بٹھاتے ہوئے چائے کا آرڈر دیا۔ چائے کے کپ میں چینی نہیں زہر گھلا ہوا تھا جس کا ہر جرعہ حلق سے اُترتے ہی مجھے چیرتا چلا جا رہا تھا۔ تاج صاحب نے ہمیں کیسے بُلا لیا۔ انہیں کس نے پندرہ سولہ کا کہا تھا۔ میں خود سے اُلجھتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھتی تھی۔
واپس آ کر جب تاج صاحب پر سردی گرمی جھاڑی تو ان کی شان استغنا دیکھنے کے قابل تھی۔ آدھا نزلہ آیون چیک پوسٹ والوں پر اور آدھا ہمارے اوپر گراتے ہوئے گویا ہوئے۔
”ہمیں تو سمجھ نہیں آتی کہ آخر آپ نیچے والے لوگوں کی مت کیوں ماری ہوئی ہے؟ بھاگے چلے آتے ہیں۔ ہے کیا ان کے تہواروں میں ڈھول کی ڈھما ڈھم اور آگے پیچھے کی چلت پھرت۔“
گرمی سے بھری ہوئی سہ پہر میں نے مرحوم راجہ کرنل مطاع الملک کے سوگوار خاندان کے ساتھ افسوس میں گزاری۔ سال بھر گزر جانے کے باوجود ان کی بڑی بہو کے آنسو ان کی یاد میں ابھی بھی روانی سے بہتے تھے۔
باہر تاریکی تھی ہواؤں کے جھکڑ تھے۔ دریائے چترال کے پار پہاڑوں پر گھروں میں روشن بجلی کے قمقمے جگنوؤں کی طرح ٹمٹماتے اس ڈر کو کچھ کم کرتے تھے جو پرائے گھر جاتے ہوئے میرے اوپر طاری تھا۔
سہج سہج قدم اُٹھاتی اونچی نیچی جگہوں پر کمال احتیاط سے پاؤں دھرتی میں عقبی آنگن میں نمودار ہوئی۔ جہاں تاج صاحب کرسی پر فکر مند بیٹھے میرے ابھی تک گھر نہ پہنچنے پر کوثر سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے تھے۔
کمال ہے تاج صاحب یہ چترال ہے چترال۔ اکیلی عورت کو یہاں کیا خطرہ ہے۔
رات کے کھانے پر فیملی کے بقیہ افراد بھی موجود تھے۔ نویں کلاس میں پڑھنے والی ان کی گول مٹول سی پرکشش بیٹی حنا اور سویٹی۔ فہد احمد ان کا بیٹا جو اکلوتا ہونے کے باوجود حد درجہ مودب اور بیبا سا تھا۔
چاولوں کا خشکہ مرغی کا شوربہ اور نان کے ساتھ پشور برٹھ خاص چترالی ڈش موجود تھی۔ پیاز اخروٹ قیمے آٹے اور ہری مرچ پودینے دھنیے کے ساتھ تیار کردہ یہ آئٹم بے حد ذائقہ دار تھا۔ ہم نے تو اسے ہی رغبت سے کھایا۔ گھر کے درختوں سے اُترے سیبوں کے بعد قہوہ پیتے ہوئے تاج صاحب کو سُنا جنہوں نے کل دس بجے شاہی قلعہ اور محل دیکھنے کا بتایا۔


