خواتین صحافیوں کی ماحولیاتی تبدیلیوں پر خصوصی توجہ
ماحولیاتی تبدیلیاں، جو عالمی سطح پر زمین کے ماحول اور موسم کے نمونوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں، ایک نہایت سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے، جنگلات کی کٹائی، صنعتی آلودگی، اور دیگر انسانی سرگرمیوں کے باعث ماحولیاتی تبدیلیاں تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ مقامی سطح پر بھی محسوس کی جا رہی ہیں، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہروں میں۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔
کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ہیٹ ویوز میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہریوں کی صحت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے، جس سے کراچی میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے۔ کراچی میں بارشوں کے نمونوں میں تبدیلی اور طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو شہریوں کی صحت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔
حال ہی میں کراچی میں گرین میڈیا انیشیٹوز اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے تعاون سے 25 خواتین صحافیوں پر مشتمل ”فی میل میڈیا کوہارٹ فار کلائمیٹ چینج“ کی تشکیل عمل میں آئی۔ اس کا مقصد خواتین لکھاریوں کو ماحولیات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ لکھنے کی جانب راغب کرنا اور عوام کی توجہ اس اہم موضوع کی طرف دلانا تھا۔
تقریب میں صحافت میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد نے اپنے تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔ گرین میڈیا انیشیٹوز کی سربراہ شبینہ فراز کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی شدید ترین قدرتی آفات کی زد میں ہے۔ ان خطرات کے شکار دس ممالک میں پاکستان کا نمبر پانچواں ہے، جن میں سیلاب، خشک سالی، سمندری سطح کا بڑھنا، سمندری طوفانوں میں اضافہ، اور بارشوں کا بے ترتیب دورانیہ شامل ہیں۔
پاکستان میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ سال 2022 میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں شدید بارشوں اور سیلاب سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے تھے، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اس تباہی سے پاکستان کو تقریباً 30 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔
ڈائریکٹر کلائمیٹ ایکشن سینٹر یاسر حسین نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تین دہائیوں سے تحفظ ماحول کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں شامل ہیں لیکن کوالٹی آف لائف میں سب سے نیچے ہیں۔ پاکستان 173 ممالک میں 169 نمبر پر ہے، جس میں سے 67 % آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے۔
انہوں نے کراچی ایکشن پلان کے حوالے سے بتایا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس پلان میں ان کی تجاویز کو بھی اہمیت دی جائے، جن میں ہیٹ ویو، گرین سٹی، سولڈ ویسٹ اور دیگر ماحولیاتی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث 2015 میں ہیٹ ویو کے دوران 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کتنی زیادہ تیاری کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ماحول کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر ہوتا ہے اور جب بات خواتین کے مسائل کی آتی ہے تو اسے خواتین کو ہی رپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ وہ ان کے ساتھ گھل مل کر بہتر طریقے سے معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔
پروگرام میں موجود مہمانوں نے سب سے زیادہ توجہ ماحولیاتی مسائل کے ڈیٹا کی جانب دلائی، جو کہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ بہت سے صحت اور ماحول کے مسائل کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ جس سے اندازہ ہو کہ پہلے کے مقابلے میں مسائل میں اضافہ ہوا ہے یا کمی۔ اسی لیے ماحولیاتی تبدیلیوں پر بہتر رپورٹنگ کے لیے سائنس اور تکنیک دونوں کا فہم ضروری ہے۔ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو آگے آنا چاہیے کیونکہ خواتین مسائل کو ایک گہری اور مختلف نظر سے دیکھتی ہیں۔
کوہارٹ کے شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف ادارے، جن میں یو این ڈی پی، سی 40 سٹیز، اربن یونٹس اور مئیر آفس شامل ہیں، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے ماحول کو محفوظ بنانے کی پالیسیز پر کام کر رہے ہیں۔ یاسر حسین نے مزید بتایا کہ سی 40 سٹیز کے تحت کراچی کو دنیا کے بڑے شہروں میں شامل کیا گیا ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس میں کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے، ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہتر بنانے، اور شہری جنگلات کے قیام جیسے منصوبے شامل ہیں۔
کراچی میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے شہر میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور سبزہ زاروں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ پانی کے ذخائر کی بحالی اور پانی کی ضیاع کو کم کرنے کے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ شمسی اور ہوا کی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع کو فروغ دینا چاہیے تاکہ فوسل فیولز پر انحصار کم کیا جا سکے۔ ماحولیاتی مسائل کے بارے میں عوامی شعور کی بیداری کے لئے بھی کوششیں ضروری ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیاں ایک حقیقت ہیں جن سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی اور عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں اس شہر کو محفوظ بنایا جا سکے۔

