صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 16 : منگنی کی انگوٹھی


یسُوع نے جواب میں کہا، ”کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جس نے ابتدا میں انسان کو بنایا، اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا؟ اور کہا، اس واسطے آدمی اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ ملے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ پس وہ اب دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں۔ لہذا جسے خدا نے ملا دیا ہے، اُسے انسان جدا نہ کرے۔“ متی 19 : 4۔ 6

کیفے جارج میں کیشیئر کے کا ؤنٹر کے سامنے والی دیوار کے ساتھ دوسری میزوں سے الگ تھلگ ایک چھوٹی سی میز تھی جس کے آمنے سامنے صرف دو کرسیاں تھیں۔ ہر پیر کی رات کو میں اور دانی ایل ایک گھنٹے کے لیے ان کرسیوں پر بیٹھتے تھے۔ عموماً وہ خالی ہی ملتی تھیں۔ ہم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جب ریسٹورنٹ کی سیڑھیوں پر قدم رکھیں گے تو منیجر کی پشت کی دیوار پر لگے ہوئے کلاک کی چھوٹی سوئی دس پر اور بڑی سوئی بارہ پر ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔

میں اپنی پڑھائی اور ٹیوشنوں میں مصروف رہتا تھا اور دانی ایل اپنے کام میں۔ اگرچہ کیفے جارج مصروف رہتا تھا مگر وہاں کا ماحول پُر سکون تھا۔ زیادہ تر طلبہ بیٹھتے تھے لیکن اگر انقلاب کی باتیں بھی ہوتیں تو دھیمی آواز میں ہوتی تھیں تاکہ دوسرے لوگوں کو شکایت نہ ہو۔ اگر کبھی کوئی شور مچانے والا گروپ آ جاتا تو منیجر مسکراتا ہوا آتا اور خاموشی سے ان کی میز پر ایک کارڈ رکھ جاتا جس پر ایک بچے کی تصویر بنی ہوئی تھی جس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی ہوئی تھی۔

اُس رات میں ساڑھے نو بجے ہی پہنچ گیا تھا کیوں کہ میں نے ادبیات سے ساحر لدھیانوی کی تلخیاں خریدی تھی اور دانی ایل کے آنے سے پہلے اس کی ورق گردانی کرنا چاہتا تھا۔ اگر آپ حیدرآباد سندھ سے واقف ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ تلک چاڑھی اوپر کی جانب دو شاخے پر ختم ہوتی ہے۔ ایک شاخ ہیر آباد اور سرے گھاٹ کی طرف چلی جاتی ہے اور دوسری شاخ جو نور محمد ہائی اسکول کی طرف جاتی ہے، اس کے نکّڑ پر بائیں جانب اُس زمانے میں شیخ احسان الٰہی و اولادہ کی مردانہ کپڑوں کی دکان کے برابر ہی ادبیات کے نام سے کتابوں کی ایک دکان ہوتی تھی جس پر شام کو دوستوں کا جمگھٹا لگ جاتا تھا۔ جن کا مقصد کوئی کتاب خریدنا نہیں ہوتا تھا وہ بھی محض دوستوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے آ جاتے تھے۔ دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر مجمع لگا رہتا تھا۔ پچھلی بار جب میں حیدرآباد گیا تو یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ اب وہ دکان نہیں ہے۔

میں ساحر کی شاعری میں گم تھا کہ سامنے والی کرسی کے پیچھے گھسیٹے جانے کی آواز آئی۔ میں نے چونک کر اوپر دیکھا تو دانی ایل سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ میں نے دیوار پر لگے ہوئے کلاک کو دیکھا تو ٹھیک دس بج رہے تھے۔ مجھے دانی ایل کے حلیے میں کچھ انقلابی تبدیلیاں نظر آئیں۔ سفید پتلون، آدھی آستینوں کی گلابی قمیص اور گلے میں سرخ مفلر، تیل لگے بال سلیقے سے کاڑھے ہوئے، اور اولڈ اسپائس کی تیز خوشبو میں بسا ہوا سامنے کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اسی وقت شیو کر کے آیا ہے۔

”خیریت؟ یہ رات کے دس بجے بنا سنورا کہاں سے چلا آ رہا ہے؟“ میں نے پوچھا۔

”بس یار، اب میں نے اپنی زندگی کا نیا ورق پلٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے،“ اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”آئندہ تُو مجھے اسی طرح دیکھا کرے گا۔“

”مبارک ہو، مگر اس انقلاب کی وجہ؟“
”جب فضا میں چہار سو رومان کی خوشبو بسی ہو تو تبدیلی تو آئے گی ہی۔“
”اف خدایا، یہ تجھے ہو کیا گیا ہے؟“

”اگر میں تجھے بتاؤں کہ میں نے مریم کے ساتھ تنہائی اور نیم تاریکی میں ایک گھنٹہ گزارا ہے تو تُو کیا کہے گاْ؟“

”تفصیل، تفصیل!“ میں نے اپنی کرسی ذرا آگے سرکاتے ہوئے کہا۔
”کل وہ میری دعوت پر چرچ آئی تھی۔ میں نے سروس کے بعد اسے روک لیا اور پیانو پر بلیو ڈینیوب سنایا۔“
”بہت خوب۔ تو اسے پسند آیا؟“
”میں نے پوچھا تھا۔ کہنے لگی کہ جب اس کے سحر سے نکلوں گی تو بتاؤں گی۔“
” زبردست، پھر کیا ہوا؟“ میرا تجسس بڑھنے لگا۔

” پھر میں اسے اپنی اسکوٹر پر بٹھا کر گھر چھوڑ آیا۔“
” تیرے پاس اسکوٹر کہاں سے آ گئی؟“
” سوری یار، میں تجھے بتانا بھول گیا۔ میں نے ایک ویسپا خرید لی ہے۔ پرسوں ہی ڈیلیوری ملی ہے۔“
”خیر، پھر کیا ہوا؟“ میں نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
” پھر جب وہ اسکوٹر پر بیٹھنے لگی تو میں نے اس سے کہا کہ اس اسکوٹر پر آپ میری پہلی ہم سفر ہیں۔“
” اوہو، ہم سفر! اس نے کیا جواب دیا؟“
” اس نے ایک قہقہہ مار کر کہا ہاؤ رومینٹک!“
” زبردست! اچھا آگے بول۔“

” آگے کیا؟ وہ اسکوٹر پر میرے پیچھے بیٹھ گئی۔ اس کا ہاتھ میرے کندھے پر تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میرے چہرے پر لگ رہی تھی، اور میرا اسکوٹر ساتویں آسمان پر اُڑ رہا تھا۔“

”اس کا مطلب ہے کہ اب باقاعدہ عشق شروع ہو چکا ہے۔ “ میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارکر کہا۔
” دریں چہ شک؟“
” تُو نے اس سے تین الفاظ کہے؟“
” تین الفاظ؟“
” I love you.“
” اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی تین الفاظ کی ضرورت ہے؟“

” بالکل ہے،“ میں نے میز پر ہلکے سے گھونسہ مار کر کہا، ”جب تک تین الفاظ نہ کہے جائیں اور ان کا جواب چار الفاظ میں نہ ملے تب تک سرکاری طور پر عشق شروع نہیں ہوتا۔“

” یار، اب وہ چار الفاظ بھی بتادے۔“
” I love you too.“

اتنے میں ظریف آرڈر لینے کے لیے آ گیا۔ وہ کیفے جارج میں پرانا ملازم تھا اور نہ صرف میرے سارے دوستوں کو پہچانتا تھا بلکہ بیشتر کے نام بھی جانتا تھا۔ اس زمانے میں ٹیلی فون اتنے عام نہیں تھے لہٰذا اگر کسی دوست کو کوئی پیغام پہنچانا ہوتا تو ظریف کو بتا دیتے کہ جب دو ایک روز میں وہ دوست ریسٹورنٹ میں آئے تو وہ پیغام پہنچا دے۔ میں نے اس کے سامنے دو انگلیاں اٹھا دیں جس کا مطلب تھا دو چائے، اور وہ سر ہلا کر چلا گیا۔

” ہاں، تو میں کہہ رہا تھا کہ عشق کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب تین الفاظ کہہ دیے جائیں اور ان کا جواب چار الفاظ میں مل جائے،“ میں نے کہا۔

”چھوڑ یار، میں سوچ رہا ہوں کہ اسے شادی کی پیش کش کردوں،“ دانی ایل نے کہا۔
”یہ شادی کہاں سے آ ٹپکی؟ ابھی تو عشق باقاعدگی سے شروع بھی نہیں ہوا۔“
” کیا مطلب، شروع بھی نہیں ہوا؟ اور کس طرح شروع ہوتا ہے؟“

” تُو نے خود ہی کہا کہ کل پہلی بار تُو اس سے تنہائی میں ملا۔ تُو سمجھتا ہے کہ وہ کل پوری رات آنکھیں کھولے تیرے خواب دیکھتی رہی ہوگی؟“

”جب میں دیکھتا رہا تو وہ بھی دیکھتی رہی ہوگی۔ مجھ سے کافی امپریس ہو گئی ہے۔“
” عشق میں میتھ نہیں چلتا کہ اگر اے بی کے برابر ہے تو بی اے کے برابر ہو گا۔“
” تو پھر بتا کہ اگلا قدم کیا ہو گا۔“
ظریف نے میرے سامنے چائے کی ٹرے لاکر رکھ دی اور میں نے اسے دانی ایل کی طرف بڑھا دیا۔

” میرا مشورہ یہ ہے کہ تُو اس سے زیادہ سے زیادہ ملنے کی کوشش کر ، ذرا رومینٹک ہو اور جب تُو اسے گہرے گہرے سانس لیتے دیکھے تو فٹا فٹ تین الفاظ کہہ دے۔ اگر اس کا جواب چار الفاظ میں ملے تو سمجھ لے کہ اب شادی کی پیش کش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔“

” ہوں! “ دانی ایل نے چائے بناتے ہوئے کہا اور کسی سوچ میں پڑ گیا۔

”اس نے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ اگلی اتوار کو بھی ہمارے چرچ آئے گی۔ میں نے اس سے کہہ دیا ہے کہ میں اسے گھر سے لے لوں گا اور چھوڑ بھی دوں گا۔“

” گُڈ!“
” تُو بھی آجانا،“ اس نے میری طرف چائے کی پیالی بڑھاتے ہوئے کہا۔
” نہیں بھائی، مجھے کباب میں ہڈّی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔“
” کیوں نہ ہم کل باغبان جوئیلرز چلیں اور ایک انگوٹھی خرید لیں۔“
” انگوٹھی کس لیے؟“
” تاکہ جب میں شادی کی پیش کش کروں تو فوراً اسے انگوٹھی پہنا دوں۔“
”تو ایسی جلدی کیا ہے؟“
” پھر بھی۔ میں جیب میں رکھوں گا۔ کیا معلوم کب موقع آ جائے۔ “
” ٹھیک ہے مگر یاد رکھنا کہ اگر تُو نے قبل از وقت کوئی قدم اٹھایا تو پچھتائے گا۔“
” ٹھیک ہے، ٹھیک ہے استاد۔ تُو تو اس طرح ہدایات دے رہا ہے جیسے تجربہ کار عاشق ہو۔“
” جب ڈاکٹر نسخہ لکھتا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس نے بھی وہ دوا استعمال کی ہو۔“

” اچھا ڈاکٹر صاحب، ہمارا وقت ختم ہو گیا،“ دانی ایل نے منیجر کی پشت کی دیوار پر لگے ہوئے کلاک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”کل میں تیری ٹیوشن کے بعد شاہد صاحب کے گھر سے لے لوں گا تو باغبان جوئیلرز چلیں گے۔“

” یعنی مریم سے ملنے کا ایک اور بہانہ مل جائے گا۔“
میں نے اٹھتے وقت جیب میں ہاتھ ڈالا اور گن کر دس آنے ٹیبل پر رکھ دیے جن میں ظریف کی ٹِپ کی دو نّی بھی شامل تھی۔

Facebook Comments HS