قاری حنیف ڈار کا ضعیف و متروک احادیث کے متعلق ایک کتاب کا حوالہ
قاری حنیف ڈار خاصے معتبر عالم دین ہیں اور آپ کا شمار ان معدودے چند علماء میں ہوتا ہے جو اپنے موقف کو ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کا حوصلہ و جرات رکھتے ہیں بھلے ہم نوالہ و پیالہ ناراض ہو جائیں۔
لمحہ موجود کا تو پتا نہیں البتہ کچھ عرصہ پہلے ان کے متعلق کسی مہربان نے بتایا تھا کہ موصوف جاوید احمد غامدی کی طرح وطن عزیز میں نہیں رہتے، ظاہر ہے جان ہے تو جہان ہے لیکن جہاں بھی ہیں ٹھہرے ہوئے پانی میں جستجو و تشکیک کا کنکر پھینکتے رہتے ہیں تاکہ بند ذہنوں میں ارتعاش کا عمل جاری رہے۔
قاری حنیف ڈار اپنی فیس بک وال پر لکھتے ہیں کہ ایک دوست نے حدیث کے نام پر بولے جانے والے مشہور 106 جھوٹ شیئر کیے ہیں، جن کے بقول ان کے، اصل کسی بھی صحیح حدیث میں نہیں ملتی۔ ان اقوال کا تذکرہ ”غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ” نامی کتاب میں ہے جو سات جلدوں میں ہے۔ واضح رہے کہ کتاب ہذا کی تفریظ مولانا سلیم اللہ خان کی ہے اور تحقیق مفتی امیر طارق کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اور حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں۔
پورے کے پورے الفاظ جوں کے توں لکھ دیے ہیں تاکہ سند رہے، تحقیق و تصدیق کے لیے ان کی فیس بک وزٹ کی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد وہ تمام ضعیف احادیث مبارکہ نیچے درج ہیں، حیرت کی بات ہے کہ اس میں وہ تمام روایات موجود ہیں جنہیں ہم بچپن سے علماء کرام سے سنتے آئے ہیں اور ان میں سے خاصی احادیث تو نصاب کی صورت میں پڑھ بھی چکے ہیں اور آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ تو ضعیف و متروک ہیں یا ان کے واسطہ کا تسلسل خاصا کمزور ہے۔
ان میں سے بہت ساری احادیث تو آج بھی فضائل اعمال کے نام سے تبلیغی نصاب کا حصہ ہیں جنہیں تبلیغی بھائی بڑے اہتمام سے عشاء کی نماز کے بعد عوام کو پڑھ کر سناتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل بھی اپنی تقاریر میں اکثر انہی روایات کو بیان کرتے رہتے ہیں۔
قاری حنیف ڈار کی اسی پوسٹ کے نیچے کمنٹس بہت شاندار تھے اور لوگ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ اگر اتنا کچھ بغیر تحقیق کے لکھ دیا گیا ہے تو اور مزید کتنا لکھا گیا ہو گا جس سے ابھی ہم بے خبر ہیں اور اسے کھوجنا کس کا کام ہے؟ ممکن ہے کل کلاں کو علماء کی کوئی نئی تحقیق سامنے آ جائے اور وہ مزید روایات کو چھانٹ ڈالیں تو ہم ایسے سادہ لوح کدھر جائیں گے جو آپ پر مکمل بھروسا کیے بیٹھے ہیں؟
سوال یہ ہے کہ روایات کو پرکھنے کا کوئی حتمی و اٹل پیمانہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جا سکے کہ فلاں روایت معتبر ہے اور فلاں نہیں؟
سچی بات ہے ہم ایسے تو انگشت بدنداں رہ گئے جب ڈار صاحب کی پوسٹ نظروں سے گزری اور بچپن سے رٹائی گئی روایات ضعیف نکلیں۔ مذہب کے معاملے میں سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی ورنہ خاصے سوالات ان روایات کو لے کر معصوم سے ذہن میں کلبلایا کرتے تھے لیکن احترام و تعظیم کی وجہ سے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانتے تھے۔
شاید ایم بی ایس نے بھی اسی وجہ سے کہا تھا کہ ہمارے لیے معتبر اور بنیادی سورس قرآن مجید ہے احادیث مبارکہ نہیں۔
اب یہ علماء کی باتیں ہیں وہی جانیں، لیکن اگر قرآن کریم کو بنیادی سورس تسلیم کر لیا جائے تو کیا احادیث کے بغیر مذہب کی جامع و عملی تشریح ممکن ہو پائے گی؟ جبکہ محققین کا یہ بھی ماننا ہے کہ احادیث مبارکہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے تقریباً دو سو سال بعد لکھی گئیں تو یہ جو درمیان میں اتنا طویل فاصلہ ہے اس کو قرآن کریم کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو اتنی زیادہ تفاسیر جو تشریح کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں معرض وجود میں کیوں آتیں؟
اور آج بھی جو جدیدیت کے دعوے دار ہیں اور مذہب کو علم الکلام کے طور پر سائنس و فلسفہ کے ملاپ کے ساتھ پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ان میں بھی خاصا اختلاف پایا جاتا ہے؟
پروفیسر اسرار احمد، ابوالاعلیٰ مودودی، علامہ پرویز اور اب جاوید احمد غامدی، ایسے خاصے علمی و تحقیقی کام کے باوجود بھی نئی نسل کو مطمئن نہیں کر پائے بلکہ سائنس و فلسفہ کے ملاپ کی وجہ سے معاملات خاصے گنجلک ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن جدیدیت کے داعی مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے۔
بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ جو مذہب کو جدید پیرائے میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے اپنے کام کو مزید گنجلک بنا لیا ہے، اگر تو مذہب عقیدے کی حد تک رہتا اور عصر کے ساتھ زبردستی ہم آہنگ کرنے کے لیے خواہ مخواہ کی فلسفیانہ موشگافیاں نہ کی جاتیں تو صورت حال ٹھیک رہتی لیکن یہاں تو غامدی اور احمد جاوید ایسے علم الکلام کے ماہر اپنے تئیں مذہب کو عقلی دائرہ میں لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں حالانکہ بخوبی جانتے ہیں کہ عقیدہ کی ڈومین مختلف ہوتی ہے جس میں سوال کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ تسلیم و رضا کو اول درجے کی نیکی تسلیم کیا جاتا ہے۔
استدلال، تحقیق و جستجو اور سوالات کی گردان تو فلسفہ و سائنس کی دین ہے نا کہ مذہب کی۔ مذہب کی بنیاد عقیدہ ہے اور عقیدے کی ڈومین میں رہتے ہوئے تاویل تو ہو سکتی ہے، ٹھوس یا تجرباتی بنیادوں پر کوئی حتمی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔
ہمارے خیال میں تو علماء کو سر جوڑ کے بیٹھنا چاہیے اور تحقیق و اجتہاد کے عمل کو پھر سے زندہ کرنا چاہیے ورنہ آپ نئی نسل کو مطمئن نہیں کر پائیں گے۔ آج کی نسل چیٹ جی پی ٹی پر منتقل ہو چکی ہے اور چند سیکنڈ میں مطلوبہ حوالہ و روایات نکال لیتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں سوالات ہیں جن کا آپ کو کفر کے فتوے لگائے بغیر خندہ پیشانی سے جواب دینا چاہیے۔


