پیرس سمر اولمپکس گیمز


جرمنی کے پڑوسی ملک فرانس، جو دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور دوران جنگ بدترین دشمن ملک تھا اور جنگ کے بعد سے آج تک جرمنی کا بہترین دوست ملک ہے، کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے اولمپکس کھیلوں پر ایک کالم تو بنتا ہی ہے۔

ٹھیک سو سال پہلے 1924 میں بھی، پیرس میں اولمپکس کھیل ہو چکے ہیں۔ ان سو سالوں میں پیرس کی آبادی پانچ ملین سے بارہ ملین ہو چکی ہے۔ کھیلوں کی سترہ اقسام کے ایک سو چھبیس مقابلوں کی بجائے، اب بتیس اقسام کے تین سو انتیس مقابلے ہو رہے ہیں۔ چوالیس ممالک کے تین ہزار نواسی کھلاڑیوں (چار فیصد خواتین) کی نسبت، دس ہزار پانچ سو کھلاڑی، جن میں پچاس فیصد خواتین ہیں، جو پہلی مرتبہ ہوا ہے، دو ہزار چھ ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

اس وقت کے اولمپکس کھیلوں میں ایک ہزار صحافی تھے جبکہ موجودہ اولمپکس میں تسلیم شدہ صحافیوں کی تعداد بیس ہزار ہے۔

انیس سو چوبیس میں تماشائیوں کی تعداد چھ لاکھ تھی جبکہ امسال، فروخت شدہ ٹکٹ نو ملین سے زیادہ ہیں۔ ٹیلیویژن اور آن لائن دیکھنے والے، بشمول افتتاحی تقریب، ڈیڑھ ارب لوگ متوقع ہیں۔ منتظمین کے اندازے کے مطابق پانچ لاکھ لوگوں کو افتتاحی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ چھبیس جولائی کو لگاتار بارش کے باعث صرف تین لاکھ دو سو لوگوں نے اس شاندار افتتاحی تقریب کو دیکھا۔

سو سال پہلے ٹیلیویژن ایجاد ہی نہیں ہوا تھا جس کا ، سات ستمبر انیس سو ستائیس کو سان فرانسسکو میں پہلی دفعہ مظاہرہ کیا گیا تھا۔

اس پیرس اولمپکس کھیلوں میں نہایت قابلِ ذکر اور نئی بات، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی ایک ریفیوجی ٹیم کا ، کھیلوں میں بطور ٹیم، حصہ لینا بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک دلچسپ اور خوشگوار ڈویلپمنٹ یہ ہے کہ فی کس ٹکٹ کی قیمت، نو سو اسی یورو ہے جو سو سال پہلے سے نسبتاً کم بڑھوتری ہے۔ البتہ امسال افتتاحی تقریب کے ٹکٹ، ستائیس سو یورو فی کس تھے۔ پیرس اولمپکس کھیلوں پر ، انیس سو چوبیس کے، بارہ ملین یورو کے مقابلے میں آٹھ ارب یورو خرچہ آیا ہے۔

ٹوکیو (جاپان) میں، کرونا کے تناظر میں، تماشائیوں کے بغیر منعقد ہونے والے گزشتہ اولمپکس کھیلوں کے برعکس، پیرس اولمپکس ایک نہایت خوشگوار ڈویلپمنٹ ہے۔ جرمن میڈیا ذرائع کے مطابق، جرمن ہاؤس نامی، جرمن اولمپکس ہیڈ کوارٹر، جو درحقیقت ایک رگبی اسٹیڈیم ہے، میں جرمن کھلاڑی مقیم ہیں۔ وہاں ہر وقت چہل پہل دیدنی ہے۔ لوگ خوش و خرم نظر آتے ہیں۔ سارا دن کھیلوں کی مصروفیات کے بعد ، پیرس کی گرم شامیں ہر طرف حسین مناظر پیش کرتی ہیں۔ وہاں ہر طرف جرمن کھلاڑیوں کے مداحوں کی بھرمار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں کھیلوں کے کوچوں اور نمائندوں کو بھی، بیئر پیتے، ٹیبل ٹینس کھیلتے اور بڑی بڑی آویزاں کی ہوئی ٹیلیویژن اسکرینوں پر کھیلوں کی ہائی لائٹس انجوائے کرتے، دیکھا جا سکتا ہے۔

افتتاحی تقریب، روائیتی تقریب کے برعکس، جو ہمیشہ سب سے بڑے اسٹیڈیم میں، اولمپکس میں حصہ لینے ممالک کے کھلاڑیوں، جن میں ایک اپنا قومی جھنڈا اُٹھائے ہوئے ہوتا، کی مارچ پریڈ کی شکل میں ہوتی تھی، ہوئی ہے یعنی شہر پیرس کے درمیان بہتے ہوئے دریائے سین میں پچاسی کشتیوں میں، دو سو چھ ممالک کے تقریباً چھ ہزار آٹھ سو نمائندے بیٹھے ہوئے تھے اور دریا کے کنارے کھڑے لوگوں کو ، ہاتھ ہلا ہلا کر، خوشیاں بانٹ رہے تھے

کھیل کوئی بھی ہو، نیورولوجسٹ کے مطابق، انسانوں کا ان میں خود حصہ لینا، دلچسپی لینا یا صرف ٹیلیویژن پر دیکھنا ایسے ہی ہے جیسے انسان کسی سے پیار کرنے کے بعد محسوس کرتا ہے۔

Facebook Comments HS