خواتین پر تشدد
جب گھر ہی غیر محفوظ ہو جائے تو عورت کہاں جائے گی۔ بہت سی خواتین گھریلو تشدد، جسمانی اور ذہنی تشدد اور جنسی زیادتی جیسے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ ان تشدد کی وجہ سے خواتین کا اپنا گھر قید خانے جیسا بن جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گھریلو تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جو اکثر پردہ نشین رہتا ہے کچھ خواتین اپنے ساتھ ہونے والے تشدد پر آواز اٹھاتی ہیں لیکن اکثر خواتین کو اپنے ہی خاندان سے دھمکیاں ملتی ہیں یا کچھ بد نامی کے ڈر سے خاموش ہو جاتی ہیں۔
تو پھر ہم کیوں نہ کہے کہ یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
یہ تشدد نہ صرف خواتین کے جسمانی زخموں کا باعث بنتا ہے بلکہ خواتین کی ذہنی صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ خواتین کی حفاظت کے لیے گھریلو ماحول میں تبدیلیاں لانا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو خواتین کو اپنے حقوق کے بارے میں آ گاہی حاصل کرنی چاہیے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے پاس قانونی مدد حاصل کرنے کا حق ہے۔ خواتین کو یہ پتہ ہو کہ ہمارے یہاں قانونی اقدامات موجود ہیں۔
29۔ جنوری۔ 2010 کو حکومت نے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 509 میں ایک ترمیم کی منظوری دی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف کام کرنے کی جگہ پر بلکہ ہر جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس جرم کی سزا 5 لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال تک کی قید یا دونوں ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ خواتین کے لیے خصوصی ہیلپ لائنز جیسے کہ pink app موجود ہے لیکن اس کے ساتھ اور بھی ہیلپ لائنز اور محفوظ پناہ گاہوں کا قیام ضروری ہے۔
خواتین کی حفاظت کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں اپنی سماجی تنظیموں میں خواتین کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ اس طرح ہم ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں خواتین کو کسی بھی قسم کے تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور ہم یہ کہنے پر مجبور نہ ہں کہ
یہ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں


