ایران اسرائیل جنگ کے ناگزیر پہلو


چند دن قبل اسرائیلی فورسز نے ایرانی دارالحکومت تہران میں سابق فلسطینی وزیر اعظم و حماس کے اہم ترین رہنما ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ کو ایک حملے میں شہید کر دیا۔ اہم فلسطینی لیڈر و حماس رہنما اسماعیل ہانیہ کی ایران کے دارالحکومت تہران میں شہادت نے یک دم ایران، اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کو اہم، جواب خیز اور سنگین و سفاک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسماعیل ہانیہ کی شہادت حماس و فلسطین اور اسرائیل کے علاوہ ایران کو بھی باقاعدہ اس جنگ میں در انداز کر چکی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے آنے والے دن جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کے خدشات کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں مگر وہ کیسے، آئیے اس کا جائزہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔ اسماعیل ہانیہ ایرانی حکومت کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے تہران میں نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری کے لئے موجود تھے مگر اسرائیلی فورسز نے اتنی صفائی اور بھر پور و مربوط حکمت عملی سے اسماعیل ہانیہ کو شہید کر دیا کہ ایرانی سکیورٹی کو اس واردات کی بھنک بھی نہ پڑ سکی۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہانیہ کو تہران کی جس عمارت میں رہائش فراہم کی گئی تھی اس عمارت (سٹیٹ گیسٹ ہاؤس) کی سکیورٹی پاسداران انقلاب کے پاس تھی۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عمارت کے جس کمرے میں اسماعیل ہانیہ رہائش پذیر تھے اس کمرے میں دو ماہ قبل بم نصب کیا گیا تھا اور 31 جولائی کی رات دو سے ڈھائی کے درمیان کمرے میں نصب بم کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلاسٹ کر کے اسماعیل ہانیہ کو شہید کر دیا گیا۔

دوسری طرف ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز نے نیو یارک ٹائمز کی اسماعیل ہانیہ کے کمرے میں پہلے سے نصب شدہ بم کی رپورٹ کو یکسر مسترد کیا ہے اور فارس نیوز کا کہنا ہے کہ تمام موجود شواہد اور ثبوتوں کے ذریعے یقینی امر ہے کہ میزائل نما کوئی اڑتی ہوئی چیز نے ایرانی س زمین پر اسماعیل ہانیہ کو قتل کیا ہے اور تحقیقات کے مطابق حملہ یقینی طور پر اسرائیل نے کیا ہے۔ الجزائر کے مطابق ایرانی تحقیقاتی ایجنسی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسماعیل ہانیہ کو قتل کرنے کے لئے عمارت یا کسی قریبی علاقہ ہی سے یہ کم فاصلہ والا میزائل حملہ کیا گیا اور اس میزائل میں سات سے آٹھ کلو گرام تک بارود اور دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

اسماعیل ہانیہ کو ایران ہی میں قتل کرنا گویا باقاعدہ ایک گہری سازش و طویل منصوبہ بندی کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اسماعیل ہانیہ کو کسی اور ملک میں بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا ایرانی سر زمین اور نئے صدر کی حلف برداری تقریب کے موقع پر اسماعیل ہانیہ کا قتل ایران کی جگ ہنسائی کا باعث بن کر ایران کو جذبات میں انتہائی قدم اٹھانے اور اپنی جنگی و دفاعی حکمت عملی و اہم ترین جنگی ٹیکنالوجی و ہتھیاروں کو شو آف کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

جنگ و جدل اور انسانیت کی قتل و غارت گری کا سامان، صہیونی دہشتگردی اور مسلم نسل کشی کی ذمہ دار ریاست اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کو جنگ، دہشت و وحشت کے خوف و دھندلکوں میں دھکیل دیا ہے۔

Facebook Comments HS