سانحہ مشرقی پاکستان میں انڈیا کا کردار
اس موضوع پر یہ میرا چوتھا مضمون ہے۔ سقوط ڈھاکہ پر لکھنے کی تحریک مجھے عمران خان کی اسی سال کی ایک ٹویٹ سے ملی جس میں اس نے پاکستانیوں کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ٹویٹ میں مجیب اور یحییٰ کے مقابلہ میں عمران نے یحییٰ کو غدار اور پاکستانی فوج کو سانحہ کا مکمل ذمہ دار ٹہرایا ہے اور فوج پر بے گناہ بنگالیوں اور ہندو اقلیت کے قتل اور ریپ کے الزامات لگائے ہیں۔
میری اس موضوع میں دلچسپی جو کچھ عمران نے اپنی ٹویٹ میں کہا اس سے بھی زیادہ، اس میں پیدا ہوئی جو اس نے نہیں کہا؛ جیسا کہ سانحہ کے پس منظر میں سیاسی محرکات کا ذکر، ایوب کے مارشل لاء کی پالیسیوں کے بنیادی وجہ ہونے کی طرف اشارہ یا انڈیا کے کردار کا کوئی ذکر۔ میں نے پہلے تین مضامین میں بالترتیب اس ٹویٹ کو کرنے کے پیچھے عمران کے ممکنہ مقصد، سیاسی پس منظر یعنی مجیب کی درپردہ علیحدگی کی خواہش اور بھٹو کی اقتدار کے حصول کی خود غرض کوشش، اور فوج پر لگائے الزامات کی کمزور صحت پر کمیشن رپورٹ کے خود اپنے تبصرہ کا ذکر کیا ہے۔
اس مضمون میں اب سقوط ڈھاکہ میں انڈیا کے کردار کا مختصر الفاظ میں احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے، اور جیسا پچھلے مضامین میں کیا آخر میں مزید پڑھی کتب یا آرٹیکلز کو لسٹ کر دیا ہے۔
اس ضمن میں سب سے پہلے تو انڈیا کے ایک سٹریٹیجک تھنک ٹینک کے سربراہ کرشنا سوامی سبرامنیم نے جو کچھ اپریل انیس سو اکہتر میں کہا بہت اہم ہے۔ سبرامنیم انڈیا کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بہت ہی طاقتور آواز تھا اور اسکے خیالات کا اثر انڈیا کے ایٹمی ڈاکٹرین سے لے کر اس کی جنگوں بشمول مشرقی پاکستان میں مداخلت کے فیصلے پر ہوا۔ ایک سمپوزیم میں اسکی تقریر کا ایک فقرہ انڈیا کی سوچ کی جھلک دیتا ہے؛ ‘پاکستان کا ٹوٹنا ہمارے فائدے میں ہے اور اس وقت (یعنی عوامی لیگ کی بغاوت) ہمارے پاس ایسا موقع ہے جو پھر کبھی نہیں آئے گا’۔ اس ضمن میں یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ اس تقریر کے وقت تک انڈیا میں بنگالی مہاجروں کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
وزیراعظم اندرا گاندھی اپریل ہی میں مشرقی پاکستان میں اپنی فوج کی باقاعدہ مداخلت چاہتی تھی۔ لیکن فوج کا سربراہ جنرل مانک شاہ اس بات پر راضی نہیں ہوا، وہ تیاری کے لیے وقت چاہتا تھا۔ اسکے علاوہ انڈیا یہ لڑائی اس وقت شروع کرنا چاہتا تھا جب مون سون کے مہینے گزر چکے ہوں اور شمال مشرق میں پہاڑی درے برف سے ڈھکے ہوں جس سے چائنہ کی پاکستان کے حق میں کسی مداخلت کا امکان بھی ختم ہو جائے۔ انڈیا البتہ اپنی فوج مشرقی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کئی مہینے پہلے سے ہی جمع کر چکا تھا۔
فوج کے اس ارتکاز کا جواز مغربی بنگال میں ہو رہے الیکشن بتائے گئے تھے۔ الیکشن کے اس سال میں اندرا گاندھی کے لئے ویسے بھی مشرقی پاکستان کے تبدیل ہوتے حالات بہت اہم تھے جن کا انجام انڈیا کے حق میں جانا اس کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا۔ پھر پس منظر میں موجود چند سال پہلے کا اگرتلہ سازش کا معاملہ تو ویسے ہی مشرقی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں انڈین دلچسپی اور مداخلت کے اشارے دے چکا تھا۔
مجیب مئی انیس سو چھیاسٹھ سے اگرتلہ سازش میں ملوث ہونے کے الزام کے باعث جیل میں تھا۔ ائین ٹیلبوٹ اپنی کتاب میں اگرتلہ سازش کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ‘یہ اب واضح ہے کہ مجیب نے انڈین مقامی لیڈروں کے ساتھ اگرتلہ میں ملاقات کی تھی۔ اس کے علاوہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد عوامی لیگ کے لیڈران اور انڈین گورنمنٹ کے نمائیندوں کے درمیان مختلف خفیہ جگہوں پر ملاقاتیں ہوئیں۔ لیکن اگرتلہ کیس پاکستان میں چل رہے سیاسی ماحول یعنی ایوب کے خلاف چل رہی تحریک (گول میز کانفرنس کو کامیاب بنانے کی غرض) اور کسی حد تک استغاثہ کی نااہلی کے باعث ختم کرنا پڑا’۔ اس وجہ سے پاکستان میں ہمیشہ مجیب کے اس ڈبل رول کے بارے میں شک رہا جو بڑی حد تک آج بھی قائم ہے۔
اگرتلہ میں ہوئی ملاقاتوں کی ایک گواہی بہرحال خود انڈیا کے اشوک رائینا نے اپنی کتاب ان سائیڈ را: دا سٹوری آف انڈیا سیکرٹ سروس میں بھی دی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ‘مجیب کے دھڑے اور انڈین انٹیلیجنس بیورو کے فارن ڈیسک کے افسران کے درمیان انیس سو باسٹھ اور تریسٹھ میں ہوئی ملاقاتوں میں (بنگلہ دیش کے) مستقبل کا خاکہ سامنے آ گیا تھا’۔ اسکے علاوہ ‘انڈین گورنمنٹ نے ایسے لوگوں کو جو اگرتلہ آئے حفاظت دینے کا مطالبہ مان لیا جن کی فیملیز کو مستقبل میں کبھی انڈیا منتقل ہونا پڑے’۔
مارچ انیس سو اکہتر میں شروع ہوئے فوجی آپریشن کے باعث مشرقی پاکستان کی ایڈمنسٹریشن نے اگلے چند مہینوں میں بڑی حد تک بدامنی پر قابو پا لیا تھا۔ مکتی باہنی کی باغیانہ کاروائیوں میں جو انتقال اقتدار کے لیے چل رہے مذاکرات کے دوران ہی شروع ہو چکی تھیں بہت بڑی تعداد میں غیر بنگالیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ فوج کے آپریشن اور مکتی باہنی کی کاروائیوں کے علاوہ تقسیم ہند کے واقعات کی طرح ہندو مسلم فسادات کے باعث بھی اس وقت تک بہت بڑی تعداد میں لوگ انڈیا کی طرف ہجرت کرنا شروع کر چکے تھے۔ ہجرت کرنے والوں کی تعداد اور اس سے پیدا مسائل کو ہی آخرکار انڈیا نے مشرقی پاکستان پر حملہ آور ہونے کا بہانہ بنایا تھا۔
حسن ظہیر جس کی کتاب کا ریفرنس میرے پچھلے مضمون میں ہے مہاجروں کے معاملہ پر انڈیا کی پلاننگ کے بارے میں امریکی وائیٹ ہاؤس کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ‘نکسن نے برصغیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا جس میں ہنری کسنجر نے اپنے دہلی کے حالیہ دورے کے بارے میں بریف کیا۔ اسی میٹنگ میں سیکریٹری آف سٹیٹ ولیم روجرز نے یہ رائے دی کہ انڈیا (پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد قائم ہو جانے والے امن کے باوجود) ہر طرح سے اس کوشش میں ہے کہ مہاجروں کی واپسی نا ہو’۔
انڈیا نے مہاجروں کی تعداد ایک کروڑ تک بتائی جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق یہ تعداد دس لاکھ سے زیادہ نہیں تھی۔ انڈیا کا اس تعداد کو بڑھانا اور پاکستان کا کم رکھنا دونوں ملکوں کے اپنے اپنے مفاد کے پیش نظر سمجھ آتا ہے۔ البتہ دو چیزیں انڈیا کے کلیم میں شک کی بنیاد فراہم کرتی ہیں؛ اولاً انڈیا اس تمام عرصہ میں اقوام متحدہ کی اس ضمن میں کی گئی سروے اور بین الاقوامی سرحد پر آبزرورز کی تعیناتی کی پیشکشوں کو ٹھکراتا رہا جبکہ پاکستان کو یہ قبول تھا اور دوم اس کے ایسے ہی دوسرے دعوے جیسے جنگ میں مارے گئے افراد کی ٹوٹل تعداد نیوٹرل ریسرچ پر پروپیگنڈا ثابت ہوئے۔
انڈیا نے مشرقی پاکستان سے بھاگے عوامی لیگ کے لیڈران کو کلکتہ میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت قائم کرنے کے لئے ہر طرح کی مدد فراہم کی تھی۔ اس عبوری حکومت کی طرف سے بھی البتہ امریکی کونسل کے ذریعے حکومت پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش پہنچائی گئی جسے جنرل یحییٰ نے فورا قبول کر لیا مگر پھر مذاکرات کی پیشکش کرنے والا انڈین انٹلیجنس کی طرف سے نگرانی میں پکڑے جانے کے خوف سے پیچھے ہٹ گیا اور ایک اور موقعہ بھی ضائع ہو گیا۔
انڈین فوج کے زیر انتظام مکتی باہنی کی گوریلا تربیت اور اسکی سرحدی علاقوں میں خود اپنی کاروائیاں انیس سو اکہتر کے شروع سے ہی جاری تھیں۔ تین دسمبر کو البتہ انڈیا نے باقاعدہ اعلان جنگ کیا جس کا جواز پاکستان کی مغربی انڈیا کے ہوائی اڈوں پر بمباری کو بنایا حالانکہ اس سے پہلے اکیس نومبر کو انڈیا کی فوج مشرقی پاکستان میں داخل ہو چکی تھی۔ نومبر کی اس دراندازی سے پہلے انڈیا کی فوج مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی کاروائیوں کو مدد فراہم کرنے کے بعد واپس لوٹ جایا کرتی تھی۔
انڈیا کی مشرقی پاکستان میں مداخلت اور آخرکار حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی تھی جس کا انڈیا کو اچھی طرح ادراک تھا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اپنے ان اقدام کو کور دینے کے لئے انڈیا نے روس سے تعاون کا معاہدہ کیا جو کولڈ وار کے دوران اسکے اپنے ہی نان الائیڈ ڈاکٹرین کی خلاف ورزی تھا۔ روس نے سکیورٹی کونسل کے سامنے پیش کی گئی ایسی تمام قراردادوں کو ویٹو کر دیا جو انڈیا کے پاکستان کو توڑنے کے عزائم میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔
مجیب نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پہلے اپنی تقریر اور بعد میں ایک غیر ملکی جرنلسٹ کو دیے انٹرویو میں اس بات کا اقرار کیا کہ وہ دس سال سے آزادی حاصل کرنے کی پلاننگ میں مصروف تھا۔ میں نے یہ مضمون لکھنے کے لئے مندرجہ ذیل کتب اور لیگل سٹڈی کو بھی پڑھا ہے؛
پاکستان آ ماڈرن ہسٹری؛ ائین ٹالبوٹ
دا ایونٹس ان ایسٹ پاکستان؛ آ لیگل سٹڈی بائے انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس


