مائی کراچی، تکنیکی تعلیم اور ملک کا مستقبل


کراچی کا ایکسپو سینٹر ایک ایسا مرکز ہے جہاں مختلف نمائشوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ نمائشیں جہاں عوام کی دلچسپی اور تفریح کا ساماں ہوتی ہیں وہیں یہ نمائشیں ملکی معیشت اور کاروبار کے استحکام میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی چیمبر آف کامرس کی جانب سے ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ نمائش میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں غیر ملکی مندوبین نے بھی شرکت کی۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے نمائش کی افتتاحی تقریب میں کراچی چیمبر آف کامرس کو 19ویں مائی کراچی نمائش کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔

نمائش کا مقصد بزنس ٹو بزنس اور بزنس ٹو کنزیومر رابطوں کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، یعنی چھوٹا کاروباری برانڈز سے سستے داموں اشیا خرید کر بیچے یا پھر عام شہری بھی سستے داموں اپنی ضروریات کی چیزیں خرید سکے۔ اہم بات یہ تھی کے مائی کراچین نمائش میں اکثر اشیا پاکستانی برانڈ کی تھیں۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس نمائش کا مقصد ہی پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینا ہے۔ نمائش میں 300 سے زائد اسٹال لگائے گئے جہاں کھانے کی اشیا، گروسری، مشروبات، فرنیچر، کپڑے، گھریلو سامان کی دیگر چیزیں سستے داموں دستیاب تھیں۔ نمائش کی جہاں کئی خصوصیات تھیں وہاں ایک کمی یہ بھی تھی کہ کچھ غیر ملکی مصنوعات کو بھی پاکستانی ظاہر کیا جا رہا تھا۔

یقینی طور پر اس نمائش سے عوام کو اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کو خاصہ فائدہ ہوا۔ نمائش میں موجود 300 اسٹالوں میں تعلیمی اداروں اور واٹر پارکس وغیرہ کے بھی اسٹال تھے یہ اسٹال بھی عوام کو بچت پیکجز فراہم کر رہے تھے۔ سندھ حکومت کے بے نظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ ریسورس اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے بھی اسٹال لگایا گیا تھا۔ سندھ حکومت کا یہ ادارہ طلبہ میں تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ بورڈ کے اشتراک سے سندھ بھر میں 15 سو سے زائد ادارے کام کر رہے ہیں جہاں طلبہ کو مختصر مدت کے تکنیکی کورس کرائے جاتے ہیں۔

یہ کورسز جہاں لڑکوں کے لئے کارآمد ہوتے ہیں وہیں یہ کورسز خواتین کے لئے بھی اہم ہیں۔ سندھ حکومت کا یہ ادارہ سولر، الیکٹرک، موبائل ریپئرنگ، بیوٹیشن، ای کامرس سمیت کئی کمپیوٹر کورس طلبہ کو بلامعاوضہ کراتا ہے۔ سندھ حکومت کے اس ادارے کے عملے میں شامل افراد ڈاکٹر اسلام حمید، انجینئر تیمور علی، جہانزیب کمال، سید محمد علی و دیگر نے بتایا کہ سندھ حکومت کا یہ ادارہ اب تک پانچ لاکھ افراد کو تکنیکی تعلیم سے آراستہ کر چکا ہے جن میں سے کئی اپنے لئے اچھا روزگار کما رہے ہیں جب کہ کئی کاروبار کا آغاز کر کے اپنے ساتھ دوسرے افراد کے لئے بھی آمدن کے ذرائع پیدا کر رہے ہیں۔

اگرچہ حکومتی افراد کی ایسی بریفنگ پر یقین کرنا مشکل لگتا ہے لیکن وہاں کئی ایسے طالب علم بھی موجود تھے جو بورڈ کے اشتراک سے تعلیمی اداروں سے مفت تعلیم حاصل کرنے کے بعد کامیاب زندگی گزار رہے تھے۔ ان طالب علموں سے ملاقات کے بعد یہ احساس ہوا کہ ملک چھوڑ دینا حل نہیں بلکہ ملک میں رہ کر بھی سیدھی سمت میں چل کت بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سندھ حکومت کا ادارہ بے نظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ بورڈ کام تو خوب کر رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس کی تشہیر کی ضرور ہے تاکہ طلبہ زیادہ سے زیادہ اس سے مستفید ہو سکیں۔ بلاشبہ ملک کا مستقبل نوجوانوں اور تکنیکی تعلیم سے جڑا ہے۔

مائی کراچی نمائش میں جہاں تعلیم اداروں اور مفت تکنیکی تعلیم کے مواقعوں کے متعلق علم ہوا وہیں کئی بزنس آئیڈیاز بھی ذہن میں آئے۔ پاکستان میں کئی ایسی مصنوعات موجود ہیں جن کی مناسب تشہیر کی جائے تو ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ حکومت پاکستان کو ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اس طرح کی نمائشوں کا انعقاد کرنا ہو گا۔ حکومت کو ملک میں چھوٹے پیمانے پر کاروبار کو فروغ دینا ہو گا۔ اگرچہ حکومت بین الاقوامی مصنوعات پر پابندی نہیں لگا سکتی کیوں کہ ان سے حاصل کیے جانے والے ٹیکس بھی اہمیت کا حامل ہے لیکن پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینا اب وقت کی ضرورت ہے۔ اس طرز کی نمائشیں جہاں ان مصنوعات کے فروغ میں اہمیت کی حامل ہیں وہیں حکومت نوجوان کو ان مصنوعات کو خرید کر کنزیومر کو فروخت کتنے کے لئے پیکجز فراہم کرے تو ملکی ترقی میں یہ فیصلہ سنگ میل کی حیثیت رکھے گا۔

تکنیکی تعلیم کا فروغ اور مائکرو بزنس کا پرچار ہی اب اس ملک کی ڈوبتی معیشت کو سنبھال سکتا ہے۔

Facebook Comments HS