جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے : جناب شہزاد احمد کی برسی پر


”بھئی، حامد۔ یہ بتاؤ کہ تم مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہو یا کلاس؟“
شہزاد احمد صاحب کے اس اچانک سوال نے مجھے ہڑبڑا دیا ہے۔
سال انیس سو اٹھاسی ہے۔

شاعروں سے بھری ویگن اپنی سی رفتار سے لاہور سے جڑانوالہ کی جانب رواں دواں ہے جہاں سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کے لیے مقامی انتظامیہ نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا ہے۔

لاہور سے جن شعرا کو مدعو کیا ہے ان میں شہزاد صاحب کے علاوہ والد صاحب (یزدانی جالندھری) ، پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب، قائم نقوی، خالد احمد، نجیب احمد، رشید کامل، امجد اسلام امجد، اسلم کولسری، یونس حسرت امرتسری صاحبان اور دوسرے سینئر شعرا بھی شامل ہیں اور نوجوان شعرا ءمیں سے مجھے، اصغر عابد اور عباس تابش کو دعوت دی گئی ہے۔

جی، کیا مطلب؟ ”میں شہزاد صاحب کے سوال پر استفسار کرتا ہوں۔“

یار، تم نے گورنمنٹ کالج کا میرون بلیزر جو پہن رکھا ہے۔ اس لیے پوچھ رہا ہوں۔ ”شہزاد صاحب شریر آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔“

مجھ سے کوئی جواب بن نہیں پا رہا۔

پریشان ہونے ضرورت نہیں۔ میں تو بس یونہی مذاق سے کہہ رہا تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ کالج کے دنوں میں میں بھی بلیزر ہی میں دکھائی دیتا تھا۔ بہت اچھا لگتا تھا مجھے اسے پہننا۔ مجھے وہ دن یاد آ گئے۔ ”

مجھے پریشانی سے نکالنے کے لیے وہ وضاحت کرتے ہیں اور پھر اعلان کرتے ہیں کہ مشاعرہ سے واپسی پر ویگن میں طرحی مشاعرہ ہو گا اور یہ کہ مصرع طرح نوجوان شعرا طے کریں گے اور بزرگ شعر کہیں گے۔ اس پر فضا میں ہلکا سا قہقہہ بلند ہوتا ہے۔

۔

مشاعرہ گاہ واقعی کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ کرسیوں کی اگلی دو قطاریں مہمان شعراء کے لیے مختص ہیں۔ سو، ہمیں وہاں لے جایا گیا ہے ۔ میں والد صاحب کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا ہوں۔ میرے ساتھ والی کرسی پر شہزاد احمد بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھ پروفیسر غلام جیلانی اصغر اور ان کے ساتھ ڈاکٹر وزیر آغا۔ مشاعرہ کی صدارت بزرگ شاعر جناب ساغر نظامی کر رہے ہیں۔ ان کے برخوردار فرخ راجا بھی، جو جڑانوالہ ہی میں مقیم ہیں، شعرا کی فہرست میں شامل ہیں۔ شہزاد صاحب پروفیسر غلام جیلانی اصغر سے گفت گو میں مصروف ہیں۔ اصغر صاحب انھیں کہہ رہے ہیں :

شہزاد صاحب، آپ کے سائنس سے متعلق مضامین اور تراجم میری نظر سے گزرے۔ بہت وقیع ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اب آپ سماجی علوم کی جانب بھی آئیں اور امریکی سوشیالوجسٹ ایلوِن ٹافلر کی مستقبل بیں تصانیف ”فیوچر شاک“ اور ”تھرڈ ویو“ کو اردو میں منتقل کریں۔

جی بہتر۔ آپ کی علم میں ایسی گہری دل چسپی سے مجھے ہمیشہ بہت فائدہ ہوا ہے۔ ”شہزاد صاحب خوش ہو کر کہتے ہیں۔ اتنے میں میری خالہ زاد بھائی سید زاہد حسین گیلانی ہم سے ملنے آ گئے ہیں اور مشاعرہ کے بعد مجھے اپنے ہاں ٹھہرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ شہزاد صاحب احتجاجاً کہتے ہیں :

”بھائی، کیوں آپ ہمارا ایک شاعر ’توڑ‘ رہے ہیں۔ واپسی پر طرحی مشاعرہ طے ہے۔“

اس کے حصے کے شعر بھی میں کہہ لوں گا، آپ فکر نہ کریں شہزاد صاحب۔ اسے رکنے دیجیے یہاں کچھ دن۔ ”والد صاحب ہنس کر کہتے ہیں۔“

:مشاعرہ میں لاہور اور سرگودھا کے ساتھ ساتھ فیصل آباد اور دوسرے شہروں کے شعرا کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ شہزاد صاحب کو ان کی باری آنے پر دعوتِ سخن دی جاتی ہے۔ وہ غزل آغاز کرتے ہیں

گزرنے ہی نہ دی وہ رات مَیں نے
گھڑی پر رکھ دیا تھا ہات میں نے
۔

اسّی کے عشرہ کے ان حیات پرور لمحات سے اتنی دُور بیٹھا اُن ہستیوں اور ان کی محبتوں کو یاد کرتا ہوا میں آج بھی سوچتا ہوں کہ گھڑی پر ہاتھ رکھنے سے گزرتا وقت تھم سکتا تو زندگی کے خوب صورت پَلوں کو کون جانے دیتا؟

مگر یہ وقت ظالم رُکتا کہاں ہے! کسی کے لیے بھی تو نہیں رُکتا یہ۔ سرپٹ بھاگا چلا جاتا ہے۔ گاڑی کے اندر بیٹھے مسافروں کو سرِ راہگزر ایستادہ پیڑوں کا منظر بھاگتا دکھائی دیتا ہے اور پیڑوں پر بیٹھے پرندوں کو گاڑی کے اندر بیٹھے مسافر۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نہ اندر والے مسافر بھاگ رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی باہر کا منظر۔ اندر باہر حقیقت میں اگر کوئی بھاگ رہا ہوتا ہے تو وہ ہے وقت۔ اس کی گرفت سے کوئی سمت، کوئی رُخ آزاد نہیں۔

اس کا سفر بہر صورت جاری رہتا ہے۔ وقت ہمیشہ رواں دواں رہنے والی حقیقت یا تصور ہے جسے ہم بس یادوں ہی کی صورت میں روک سکتے ہیں۔ چاہے تھوڑی دیر ہی کے لیے۔ بِیتے لمحوں کی سلائیڈز کو احساس کے پروجیکٹر پر دیکھتے ہوئے، ایک ایک کر کے، آہستہ آہستہ، منظر منظر۔ زندگی کے مناظر کے عکس انسان کو کتنے ہی چہرے دکھاتے چلے جاتے ہیں اور محبت سے دیکھنے والے کو ہر خوب صورت عکس میں اپنا ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے جسے وہ آنکھوں سے لگانا چاہتا ہے :

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے
اک نظر میری طرف بھی، ترا جاتا کیا ہے
(شہزاد احمد)

نظر نظر مسکراتے روشن چہروں میں ایک روشن تر چہرہ شہزاد احمد صاحب کا بھی تھا۔ شاعر، ادیب اور مترجم۔ ایک عہد کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اپنا گرویدہ بنا لینے والے شہزاد صاحب جن کی شاعری سے میرا تعارف تو لڑکپن سے بھی کچھ پہلے ہو چکا تھا۔ والدِ گرامی جناب یزدانی جالندھری کے نام تمام ہی ادبی جرائد بشمول فنون، اوراق، ادبِ لطیف، بیسویں صدی، افکار، نقوش، تخلیق، نیرگ خیال، سیپ، نئی قدریں، محفل، شام و سحر، اردو ادب اور دیگر گھر پر آتے تھے۔ سو، ان میں اکثر شہزاد صاحب کا کلام بھی پڑھنے کو ملتا۔ بعد ازاں جب اسّی کے اوائل میں شعر گوئی کا باقاعدہ آغاز کیا تو کتنے ہی اہم اور عظیم شعرا سے بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ ان میں جناب احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، عارف عبدالمتین، خالد احمد اور شہزاد احمد کی شخصیت اور فن کا تاثر انتہائی گہرا رہا۔

شہزاد صاحب کو ہم نے دیکھا بھی اور سُنا بھی۔ اُن کے ساتھ لاہور اور بیرونِ لاہور کئی مشاعرے بھی پڑھے۔ وہ بڑے دلآویز انداز میں اپنا کلام سناتے تھے۔ وہ غزل سنا رہے ہوتے یا نظم آغاز کر رہے ہوتے۔ میں، خالد علیم، عباس تابش، علی اصغر عباس، ناہید شاہد، جاوید انور، اعجاز رضوی، انجم سلیمی، طارق کامران، اصغر عابد یعنی ہم سب سراپا چشم و گوش بن کر انہیں دیکھا، سنا کرتے :

کیا فقط دیکھتے رہنے سے مسائل کی گرہ کھلتی ہے
کیا فقط آنکھ کی پتلی میں ہے محفوظ خدائی ساری
ہم کہ انسان نہیں آنکھیں ہیں

وہ انتہائی ذہین شاعر اور ایک زیرک ادیب تھے۔ ان کا قلم نظم و نثر دونوں میں رواں تھا۔ امریکی ماہرِ عمرانیات ایلون ٹافلر کی تحریروں سمیت ان کے اکثر تراجم کو بھی ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اُن کی تخلیقی شخصیت کا ایک دل چسپ رُخ یہ بھی تھا کہ وہ ادب، فلسفہ اور سائنس کو ملا کر دیکھتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ریڈیو ڈوئچے ویلے (دی وائس آف جرمنی) کی اردو نشریات کے لیے میں نے ان سے ایک خصوصی بات چیت غالب ؔکے فن کے حوالے سے بھی ریکارڈ کی تھی جس میں انہوں نے اس عظیم شاعر کے اشعار میں سائنسی گوشوں پر اظہارِ خیال کیا اور غالب کو سائنسی اصولوں کا عالم قرار دیا تھا۔

شہزاد صاحب کا شمار پاکستان کے ان چند ممتاز شعرا میں ہوتا تھا جو بزرگ اور نوجوان لکھاریوں میں یکساں مقبول تھے۔ نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے میرے متعدد ہم قلم دوستوں کے علاوہ میرے پہلے مجموعہ ’ابھی اک خواب رہتا ہے‘ کا فلیپ بھی تحریر کیا اور اس کتاب کی دو تقریبات کی بھی صدارت فرمائی۔

بہت سے نئے لکھنے والے ان سے مشورہ ٔسخن کرتے تھے۔ کینیڈا آنے سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ والدِ گرامی کی برسی کی تقریب کی دعوت دینے کے لیے جب اسرار وڑائچ اور میں شہزاد صاحب کے گھر پہنچے تو وہ بہت تپاک سے ملے۔ ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور پھر ہمارے ایک ہم۔ عصر شاعر کا نام لیتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے بولے :

”نوجوانو! اگر تو تم لوگ اپنی شاعری سنانے آئے ہو تو میں تمہیں پہلے ہی بتا دوں کہ ابھی ابھی تمہارا یہ دوست شاعر مجھے اپنی اتنی طویل نظم سنا کر گیا ہے کہ میرا شاعری سننے کا آج کا کوٹہ پورا ہو چکا ہے۔“

یہ کہہ کر زندگی سے بھرپور ایک قہقہہ بلند کیا۔

شہزاد صاحب کو جاننے والے ان کی آنکھوں اور لہجے سے چھلکتی شرارت کو خوب سمجھتے تھے اور اس سے خوب محظوظ ہوتے تھے۔

۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے استاد، ماہرِ اقبالیات پروفیسر مرزا محمد منور صاحب شہزاد احمد کی حاضر جوابی اور برجستگی کی بات کرتے ہوئے واقعہ سنایا کرتے تھے کہ جن دنوں خوش فکر اور خوب رو شہزاد احمد گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم تھے یہاں پروفیسر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب کی شاعری اور شخصیت کی بھی دھوم تھی اور یہ کہ شہزاد اپنے جملہ محاسن کی بدولت، صوفی صاحب کے حلقہ نیاز مندان میں نہ صرف شامل تھے بلکہ ان کے منظورِ نظر تھے اور ان سے بہت بے تکلف تھے۔ کم و بیش ہر روز ملنے آتے۔ ایک روز آئے تو ناک پر نظر کی عینک ٹکا رکھی تھی۔ صوفی صاحب کو شہزاد کے چہرے پر عینک ایک آنکھ نہ بھائی۔ دیکھتے ہی بولے :

”شہزاد! یہ تم نے عینک کیوں لگا رکھی ہے؟“
”شہزاد بولے :“ ’ٹھیک سے نظر نہیں آتا تھا سو ڈاکٹر نے عینک لگانے کا مشورہ دیا تھا۔

”صوفی صاحب کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر بولے :“ شہزاد! عینک اتار دو۔ اسے لگا کر تم بالکل بجو دکھائی دیتے ہو۔

”شہزاد جھٹ بولے :“ کیا کروں صوفی صاحب! اگر اتار دوں تو آپ بجو دکھائی دیتے ہیں۔
صوفی صاحب کو ایسا بے تکلفانہ جواب دینے کی جرات شہزاد ہی کر سکتے تھے۔
۔

انجم سلیمی جب حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے سیکریٹری منتخب ہوئے ان دنوں ہمارے عزیز دوست مختار حسین کھرل بھی اسی شہر میں مقیم تھے۔ سو ان کے تعاون سے حلقہ نے کئی نہایت کامیاب پروگرام منعقد کیے جن میں فیصل آباد کے ساتھ ساتھ لاہور کے شاعر ادیب بھی شریک ہوئے۔ یہ شاید حلقہ کے سالانہ جلسے کی بات ہے۔ پاک ٹی ہاؤس لاہور سے نوجوان اور بزرگ لکھاریوں کی بس بھر کر فیصل آباد روانہ ہوئی۔ اس ادبی کارواں میں اسرار زیدی، الطاف قریشی، یونس جاوید، زبیر رانا، شہزاد احمد، یونس علی دلشاد اور رشید مصباح جیسے تخلیق کار شامل تھے۔

بس نے جیسے ہی شاہدرہ پار کیا لکھاریوں میں ایک دل چسپ بحث آغاز ہو گئی۔ بحث کا محرک کون تھا یہ تو یاد نہیں تاہم یہ ضرور یاد ہے کہ اس میں سب سے زیادہ متحرک ”سوچ کی داشتہ“ کے مصنف رشید مصباح تھے جو تھری پیس سوٹ زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ رشید مصباح نے گرما گرم دلائل دیتے ہوئے پہلے اپنے سوٹ کی ٹائی ڈھیلی کی، کچھ دور نکلے تو ٹائی نکال ہی دی، بحث میں اور شدت آئی تو انہوں نے اپنا کوٹ اتار دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ نیچے پہنی اپنی واسکٹ اتارتے شہزاد صاحب پیچھے مڑے اور یوں چہکے :

”رشید مصباح! یہ بحث کہاں پہنچے گی ہم نہیں جانتے لیکن یہ ضرور جان گئے ہیں کہ اگر تم اسی رفتار سے کپڑے اتارتے رہے تو جلسہ گاہ کس لباس میں پہنچو گے“

بس میں ایسا زبردست قہقہہ بلند ہوا کہ بحث کی کدورت بھری ساری گرد یک دم بیٹھ گئی۔
۔

:بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں شہزاد احمد صاحب کو ملتان میں قائم پکی پکائی روٹیوں والے ’روٹی پلانٹ‘ کی ذمہ داری سونپی گئی تو مزاحیہ شاعر جناب پھل آگروی نے یہ قطعہ کہا

تُو اگر اُس کو کرے گا یاد پکڑا جائے گا
چھپ گئی ہے یہ خبر استاد پکڑا جائے گا
گر جلی آتی رہیں پکی پکائی روٹیاں
دوستو، ملتان میں شہزاد پکڑا جائے گا
۔

انیس سو ستاسی میں حلقہ اربابِ ذوق لاہور کی سالانہ تقریب اس لحاظ سے بہت اہم تھی کہ اس میں مارشل لا کے خاتمے کے بعد بائیں بازو کے کئی نامور تخلیق کار مدت بعد شریک ہوئے تھے۔ فلیٹیز ہوٹل میں منعقدہ اس تقریب کے پہلے دور میں ’ادیب کی سماجی ذمہ داریاں‘ کے موضوع پر مقالے پڑھے گئے جبکہ دوسرا دور مشاعرہ پر مشتمل تھا جس کی صدارت شہزاد احمد کر رہے تھے۔ اکادمی ادبیات کے اس وقت کے چیئرمین پریشان خٹک مہمانِ خاص تھے۔

مشاعرہ میں ظہیر کاشمیری، اسرار زیدی، انجم رومانی، اکبر کاظمی، خالد احمد، نجیب احمد، سراج منیر، ایوب خاور، سلیم طاہر، علی اکبر عباس، جعفر بلوچ اور محمد خالد سمیت متعدد اچھے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ میں سٹیج پر شہزاد صاحب کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا تھا کیونکہ اس تقریب میں حلقہ کے ’انتقالِ اقتدار‘ کی رسم بھی ادا ہونا تھی جس میں رخصت ہونے والی انتظامیہ (رشید مصباح اور اظہر غوری) نے حلقہ کی نئی انتظامیہ (سیف زلفی اور حامد یزدانی) کو اختیارات سونپنا تھے۔ مشاعرہ کے اختتام پر مہمانِ خاص کو دعوتِ خطاب دی گئی جس میں انہوں نے مشاعرہ میں پیش کی جانے والی شعری تخلیقات کو قومی جذبہ سے عاری بے معنی قرار دیا۔ شہزاد صاحب نے میرے اور قریب ہوتے ہوئے پنجابی میں سرگوشی کی: ’ہور چُوپو!‘ ۔

میں نے اشارتاً کہا کہ انہیں رشید مصباح نے خاص طور سے مدعو کیا ہے۔ بہرحال پھر شہزاد صاحب نے بھی صدارتی کلام پیش کیا جو واقعی معنی خیز تھا:

سب کی طرح تو نے بھی مرے عیب نکالے
تو نے بھی خدایا مری نیت نہیں دیکھی
۔
نیند آئے تو اچانک تری آہٹ سن لوں
جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے
۔

:شہزاد صاحب کا ایک اعزاز یہ بھی تھا کہ انہوں نے نبی ٔ آخرالزماں ﷺ کی بھی مدح سرائی کی اور ان کی آل کی بھی۔ حرمین شریفین کے سفر کی ترجمان ان کی یہ آزاد نظم ان کے دلی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے

عجیب قریہ ہے
جس کی خوشبو سے سارا عالم مہک رہا ہے
عجیب بستی ہے
جس کی باتوں سے اک زمانہ چہک رہا ہے
عجیب سی روشنی مکانوں سے آ رہی ہے
عجیب تابندگی بہر سمت چھا رہی ہے

نعت کے یہ اشعار بھی انتہائی خوب صورت انداز میں آقائے نامدارﷺ سے شہزاد احمد کی محبت کا اعلان کرتے ہیں :

آنکھوں میں نور دل میں بصیرت ہے آپ سے
میں خود تو کچھ نہیں مری قیمت ہے آپ سے
ہے آپ کا کرم یہ مری خواہش نمو
گو خاک ہوں مگر مجھے نسبت ہے آپ سے
یہ آپ ہی کا فیض دلوں کا گداز ہے
ان برف کی تہوں میں حرارت ہے آپ سے
۔
اس سال دو اگست کو شہزاد صاحب کو ہم سے بچھڑے بارہ برس ہو گئے۔

اگست، گرمیوں کا مہینہ۔ اِدھر کینیڈا شمالی امریکا میں ہرطرف رنگا رنگ پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں اور میں ان کے درمیان چہل قدمی کرتا یادوں کے خیالی گلاب تلاش کرنے میں کوشاں ہوں۔ یادوں کے گلاب جو بیتے لمحات کی طرح ذہن سے آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ ابھی ملے اور ابھی پھر کھو گئے۔ ایسا لگتا ہے جیسے شہزاد احمد آہستہ آہستہ کہہ رہے ہوں :

بڑی مشکل سے ہاتھ آئے تھے شہزادؔ
کہاں رکھے ہیں وہ لمحات مَیں نے

 

 

Facebook Comments HS