سے نو ٹو لائبریری


(یہ مضمون امریکی فنانشل کرایسز 2009 کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ )

دسمبر کی اس کہر آلود صبح اس نے مجھے پروجیکٹ وولکینو کی یاد دہانی کرائی پھر گرم گرم چائے کی اٹھتی بھاپ کے پیچھے سے جھانکتے میرے چہرے پر موجود سستی اور سردی کے تاثرات سے پرانی واقفیت رکھنے کی وجہ سے بیڈروم میں گہری نیند سوتے باپ سے ماہر ہپناٹائزر کی طرح سکول آنے کا وعدہ لے لیا۔ خاموش منصوبہ بندیوں سے مجھے ہمیشہ سے چڑ ہے۔

بہرحال مقررہ وقت پر آتش فشاں پہاڑیاں بنانے ہم سکول پہنچ گئے۔ قریبا بیس بچوں کی اس کلاس میں ہمارے اور ایک استانی کے علاوہ پانچ والدین اور بھی موجود تھے جو ذوق شوق سے اخبار کے ٹکڑے لئی میں ڈبو ڈبو کر سوڈے کی پلاسٹک بوتل پر چپکاتے بچوں کو اسسٹ کر رہے تھے۔

کام تھا ادھر ادھر اڑتے میدے کے چھینٹے صاف کرنا اور لئی سے پیالوں کو دوبارہ بھرنا اور ”اوہ سو کیوٹ“ کہ کر بیچ بیچ میں فوٹو لیتے جانا۔ بننے کے بعد ان پہاڑیوں کو سوکھنا تھا۔ اور پھر اگلے دن ان پر پینٹ ہونا تھا۔ اس کے بعد ان میں بیکنگ سوڈا اور صابن وغیرہ بھرا جاتا اور پھر آتش فشاں کے پھٹنے کی تقریب تھی۔

کار پارکنگ میں داخل ہوتے ہی پہلے دونوں اطراف کھڑے لوگوں نے ہاتھ ہلا ہلا کر ہمارا استقبال کیا تھا۔ ہم نے مسکراتے ہوئے سر کے اشارے سے ان کا شکریہ ادا کیا اور ہاتھ ہلا کر ہاٹ چاکلیٹ کو منع کیا تھا۔ اوہ! ہاں میں بتانا بھول گئی اس روز قصبے میں سپیشل الیکشن تھا۔ ووٹنگ کے لیے اس سکول کا انتخاب کیا گیا تھا کہ باقی دوسروں کی نسبت زیادہ وسط میں تھا اور پارکنگ بڑی تھی۔

حمایت کنندگان سخت سردی میں بچوں کو سکول لاتے والدین کی رائے سازی کے لیے ”سے یس“ یا ”سے نو“ کے بورڈ پکڑے کھڑے تھے۔ ایک نظر کے عمومی جائزے میں ایک گروہ دوسرے سے عمر اور تجربے میں زیادہ نظر آتا تھا اور جوش اور جذبے میں کم۔ لیکن تجربہ جوش سے جیت گیا۔ لائبریری کی اُس سال توسیع کا منصوبہ دوگنی اکثریت سے رد کر دیا گیا تھا۔

لائبریری کی انتظامیہ کے خیال میں شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے جو کردار وہ ادا کرنا چاہتے تھے اس میں دقت پیش آ رہی تھی۔ لائبریریوں کا یہاں کے شہروں میں ایک فعال کردار ہے۔ کتابوں کے علاوہ بھی بچوں اور نو عمر صارفین کے لیے ہفتہ وار نئے نئے پروگرام اور سکول سے کم عمر بچوں کے سٹوری ٹائم اور ہینڈ آئی کوآرڈینیشن کی پرداخت کے لیے کرافٹ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

حتیٰ کہ ریسیشن کے ان سالوں میں، جب لوگوں کو وسائل کی شدید کمی درپیش تھی، لوکل لائبریریوں نے از خود نوٹس لیتے ہوئے گرمیوں کی چھٹیوں میں تفریح پر کہیں نہ جا سکنے والے خاندانوں کو خوش اور مصروف رکھنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پروگراموں میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔

اس لائبریری کے شیڈول میں بھی ہر ایج گروپ کے لیے ہر روز ایک یا دو پروگرام شامل تھے۔ جن میں سٹوری ٹائم۔ واٹرکلر، سیکھیں ،کمپیوٹر یا بورڈ گیم مقابلے، سلائی بنائی اور کرافٹ گروپ، بڑوں اور چھوٹوں کے بُک کلب، رائٹرز گروپ، لوکل مصنف یا مصور کی دوپہر، موسیقی کی شام، مووی کی رات وغیرہ شامل تھے۔

ایک دو کو چھوڑ کر یہ تمام فری پروگرام تھے اور رضاکارانہ مدد سے پیش کیے گئے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ حصہ لیں۔ بہرحال اپنی بے لوث کارکردگی کی وجہ سے بعد میں لائبریری یہ فنڈ ٹیکس اضافے کے بغیر ہی اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور (دماغ کو تھکا دینے والی سست رو) پانچ چھے سال کی مسلسل پلاننگ، محنت اور تعمیر کے بعد اب پہلے سے دگنی بڑی عمارت قصبے کے وسط میں ایستادہ ہے۔

لائبریری بورڈ کے خیال میں عوامی ادارے کے طور پر توسیع کے لیے ٹیکس اضافہ ان کا حق تھا لیکن لوگوں کا خیال تھا ٹیکس وہ دیتے ہیں تو اس کے ہر استعمال و اضافے میں ان سے رائے لیا جانا اور اس کا احترام کیا جانا انتظامیہ کا فرض ہے۔ کتاب کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنے کے لیے یہاں لوگ ہر لیول پر مختلف انداز میں کوشش کرتے ہیں جس میں لائیبریری سر فہرست ہے۔ لیکن ان دنوں سب کا خیال تھا کہ اتنی خراب اکانومی میں اس عیاشی کے لیے ابھی قوم کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ عیاشی کے اسی خاتمے ہی کی وجہ سے پچھلے سال قریبی کتاب کی دکان بڑھا دی گئی تھی۔ ریسیشن کی وجہ سے لوگ سینت سینت کر خرچ کر رہے تھے۔

لوگوں کی رائے میں لائبریری پہلے ہی اچھی خاصی تھی۔ موجودہ حالت میں بھی چھ ہزار افراد کی کتابی ضروریات پوری کرنے کی اہل تھی اور اگر مطلوبہ کتاب نہ ہو تو آس پاس کے دس کتب خانوں سے رابطہ کر کے منگوا بھی دیا کرتی۔ پھر ہزار پر پچیس سینٹ کے حساب سے پراپرٹی ٹیکس کا اضافہ بھی ان کے لیے ٹھیک ٹھاک اضافہ تھا۔ (سالانہ اسی ڈالر کے قریب؟ )

قصبے میں پرانے رہنے والے بہت سے محصول دہندگان نے مزید ٹیکس کے خلاف رائے دی تھی کیونکہ ان کی تنخواہیں سالوں سے ایک مقررہ مقام پر رکی ہوئی تھیں۔ ان کے خرچ طے شدہ تھے۔ یہ اضافی ٹیکس ان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا تھا۔ اور یوں بھی کم ٹیکس کا مطلب تھا زیادہ لوگ وہاں رہنا چاہتے۔ یعنی زیادہ پراپرٹی ٹیکس اور قصبے کی ترقی۔ ”سے یس“ والے لوگوں کے لیے اچھی اور بڑی لائبریری کا بھی یہی مطلب تھا۔ یعنی زیادہ کتابیں۔ اچھے سکول۔ ہاؤس مارکیٹ اپ۔ زیادہ پراپرٹی ٹیکس اور قصبے کی ترقی۔

ویسے آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ لائبریری کی توسیع یا قصبے کی ترقی میرا موضوع نہیں ہے۔ میں تو صرف اس انتظامیہ کی تعریف کرنا چاہ رہی ہوں جو ہر کام اپنے شہریوں سے پوچھ کر کرتی ہے۔ ان کے پیسے ان سے پوچھ کر خرچ کرتی ہے۔ مزید پیسے مانگنے سے پہلے بھی پوچھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی وجہ اپنے دیے ہوئے ہر سینٹ کے استعمال سے آگہی رکھنے اور سردی یا گرمی کی پرواہ کیے بغیر باہر نکل کر احتساب کرنے کی ہمت رکھنے والے شہری ہیں یا اتفاقاً ہی کچھ ایماندار لوگ منتخب ہو کر بڑے عہدوں پر آ گئے ہیں؟

Facebook Comments HS