ہمارا انقلاب کہاں ہے؟
بنگلہ دیش میں حالیہ صورتحال کے بعد آج کل یہ سوال شد و مد سے پوچھا جا رہا ہے کہ ہم کیوں پیچھے ہیں۔ ہمارا انقلاب کہاں ہے۔ اور ایک خوف بھی موجود ہے کہ جیسے وہاں حسینہ واجد کے بعد ملٹری ٹیک اوور ہوا ہے تو اس سے بنگلہ دیش کے لئے آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والی مثال بن گئی ہے. یوں نظر آتا ہے کہ جوانوں کی یہ تحریک کہیں عرب سپرنگ کی طرح رائیگاں ہی نہ چلی جائے اور بجائے ترقی کے یہ لیبیا، تیونس اور مصر کی طرح بربادی کا سبب نہ بن جائے۔
اسی تناظر میں اگر پاکستان کا جائزہ لیں تو یہاں عمومی معاشی و سماجی صورتحال کہیں زیادہ گمبھیر ہے بنگالی معیشت اور عام آدمی تو پھر بھی گزارا کر رہا تھا لیکن پاکستان میں تو لوگوں کے لئے بجلی کا بل بھرنا حتیٰ کہ کھانا پینا مشکل ہو چکا۔ پھر بھی اگر اشرافیہ کے خلاف کوئی اجتماعی تحریک نہیں چلی تو اس کی واحد وجہ پاکستان میں ایک مضبوط لیڈر اور سیاسی پارٹی کا ہونا ہے۔ غنیمت ہے کہ پاکستان کے پاس عمران خان کی شکل میں ایک ایسا لیڈر اور پی ٹی آئی کی شکل میں ایسی پارٹی موجود ہے جو اشرافیہ کے چنگل کو توڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔ جوانوں کے غصے کو چینلائز کرنے والی اتنی بڑی وفاقی قوت بنگلہ دیش میں نہیں۔ عمران خان نے ایک طرح سے ایسے انقلاب کے آگے بند باندھا ہوا ہے ورنہ پاکستان میں معاشی بدحالی بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ عوام بس اس لئے رکے ہوئے ہیں کہ شاید کوئی تصفیہ ہو اور خان واپس آ کر اپنے عوام دوست ایجنڈے کو نافذ کرے۔ اگر یہ امید نہ ہوتی تو یہاں بھی بنگلہ دیش جیسے مظاہرے ہو چکے ہوتے۔ یہاں عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا حق لینے کی کوشش کی ہے۔ فروری کے الیکشن الیکٹیبلز اور اشرافیہ کے لئے ڈراؤنے خواب سے کم نہیں جہاں عوام نے غلط یا صحیح لیکن نظریے پر ووٹ دیا۔ اب خان اور پی ٹی آئی بھی اس ٹرینڈ کو ریورس نہیں کر سکتے۔ انشا اللہ حقیقی آزادی وہ منزل ہو گی جہاں عوام نچلی سطح تک اپنے نمائندے چنیں گے۔ نئی قیادت آگے آئے گی جو صحیح معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمانی ہو گی۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو انشا اللہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔


