برطانوی فسادات: چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا


میر تقی میر (1723 سے 1810 ) جنہیں خدائے سُخن کا خطاب بھی دیا گیا،  وقت کے نبض شناس تھے۔

نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

کل سے یہ شعر میرے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے کیوں کہ اگر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال یا کہیں بھی کوئی چھوٹا بڑا پر تشدد واقعہ ہو جائے تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سے سرزنش والے سخت قسم کے سرکاری بیانات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسا ہی کام جب خود وہاں ہوتا ہے تو اس پر وہاں کے ناقد اپنا نظر کا چشمہ ہی اتار دیتے ہیں۔

سفید فام بالا دستی

سفید فام بالا دستی قائم کرنے والے دین دھرم، کو کوئی حیثیت نہیں دیتے ۔وہ صرف نسل اور رنگت دیکھتے ہیں۔ان کے لئے برطانیہ محض گوروں کا ملک ہے باقی تمام لوگ خواہ کہیں کے بھی ہوں ان کو یہاں سے نکال باہر کر دینا چاہیے۔ابھی کچھ ہی دن پہلے برطانیہ میں دائیں بازو والے سفید فام بالادستی کے حامیوں کی جانب سے فسادات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ برطانیہ میں تارکینِ وطن کی مخالفت کا لاوا سالوں بعد ایک دفعہ پھر پھوٹ پڑا ہے۔چھوٹے بڑے شہروں میں ماسک پہنے لوگ تارکینِ وطن کے خلاف نعرے بازی کرتے ایشیائی باشندوں کے ہوٹلوں ، مساجد اور دُکانوں کی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں جس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے۔ پولیس کے ساتھ بھی ان کا تصادم ہو رہا ہے۔

یہ سب شروع کیسے ہوا؟

کہانی 29 جولائی کو اس وقت شروع ہوئی جب انگلینڈ کے شمال مغرب میں لیورپول کے قریب واقع ساحلی شہر ساؤتھ پورٹ میں چاقو زنی کی سنگین اور جان لیوا واردات ہوئی۔اس حملے میں تین بچیاں جان سے گئیں جو وہاں سمر کیمپ میں اپنی ٹیچروں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں۔مگر ملزم کی شناخت سے پہلے ہی دائیں بازو کے صاحبِ اثر لوگوں نے غلط اطلاعات پھیلانا شروع کر دیں کہ وہ مسلمان ہے اور حال ہی میں برطانیہ میں پناہ لینے آیا ہے ۔ اس طرح انہوں نے برطانیہ میں مقیم مختلف طبقات کے بیچ کشیدگی بڑھانے کا کام کر دیا اور یوں اسلاموفوبیا کو ہوا دی۔

پہلا فساد

میں نے اس سلسلے جب تحقیق کی تو پتا چلا کہ پہلا فساد اُس وقت ہوا جب ساؤتھ پورٹ میں وہاں کے مقامی افراد مقتول بچیوں کی دعا میں مصروف تھے تب سینکڑوں افراد اچانک منظم طریقے سے قریبی مسجد پر نعرہ بازی کرنے آ گئے اِن کا تعلق اس علاقے یا شہر سے نہیں تھا۔اصل میں سوشل میڈیا پر شدت پسندوں نے قرب و جوار میں مظاہروں کی کال دے رکھی تھی۔ اس ہنگامے میں 50 سے زیادہ پولیس والے زخمی ہوئے ۔مظاہرین نے اینٹوں اور بوتلوں کا آزادانہ استعمال کیا اور ایک پولیس وین کو آگ لگا دی۔یہ پر تشدد مظاہرے ارادتاً غلط معلومات آن لائن پھیلانے سے بڑھتے چلے گئے۔ یوں برطانیہ میں تارکینِ وطن، مسلمانوں ، حکومت اور پولیس سب کو ایک تیر سے نشانہ بنا دیا گیا۔

ہنگامے مانچسٹر تک

اس اثناء میں ہنگامے مانچسٹر تک پہنچ گئے جہاں بلوائیوں نے کسی تارکِ وطن کے ہالیڈے اِن ہوٹل پر توڑ پھوڑ کی ۔ لندن تک بھی سینکڑوں بلوائی پہنچ گئے اور وزیرِ اعظم کے دفتر کے سامنے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نعرہ بازی کی۔ لیبر پارٹی کے کیر روڈنی اسٹارمر نے ابھی کچھ دن پہلے، 5 جولائی 2024 کو وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ یہاں بلوائیوں نے پولیس پر حملہ کر دیا جس میں بوتل بم بھی استعمال کیے گئے۔ اس پر سو سے زیادہ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔اگست کا مہینہ شروع ہوا تو دائیں بازو کی ریلیاں انگلینڈ کے مزید شہروں اور بلفاسٹ سمیت شمالی آئرلینڈ میں پھیل گئیں۔ساتھ ساتھ گرفتاریوں کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ برطانیہ کے اخبارات کے مطابق 4 اگست کو ساؤتھ یارک شائر میں پرتشدد مظاہروں میں ایک اور تارکِ وطن کے ہوٹل کو اس الزام میں شدید نقصان پہنچایا گیا کہ یہاں پناہ گزیں رہتے ہیں۔ مانچسٹر میں ٹاؤن ہال اسکوائر کے سامنے سینکڑوں مظاہرین جمع ہو کر نفرت انگیز نعرہ بازی کرنے لگے۔ صورتِ حال اس وقت بہت کشیدہ ہو گئی جب دائیں بازو کے شدت پسندوں کے تارکینِ وطن کے خلاف نعرہ بازی کے جواب میں یہاں کے مقامی اور تارکینِ وطن بھی جمع ہو کر جوابی نعرہ بازی کرنے لگے۔

سوشل میڈیا کا غلط استعمال

اس قسم کی شورش کم کرنا آسان نہیں۔ برطانیہ میں نفرتوں کو سوشل میڈیا پر منظم طریقے سے ٹِک ٹاک، ٹیوٹر، فیس بُک، واٹس ایپ، ٹیلیگرام وغیرہ کی مدد سے بھڑکایا گیا۔ بہت سی آن لائن پوسٹوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بدگمانی پھیل رہی ہے۔ پھر قانونی اور غیر قانونی طور پر آنے والے تارکینِ وطن سے مقامی لوگوں کو شکوے شکایت بجا ہیں۔تحقیق سے علم ہوا کہ برطانیہ کے قانون کے مطابق نابالغ مجرم کا نام اور شناخت پبلک میں ظاہر نہیں کی جا سکتی لیکن اس کیس میں وہاں کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے خصوصی طور پر قاتل کی شناخت اور تفصیل جاری کر دی۔

بات نکلی کچھ اور

یہ کتنی لغو بات ہے کہ بچیوں کا یہ 17 سالہ قاتل نہ تو یہاں پناہ لینے کا خواہش مند تارکِ وطن تھا نہ ہی مسلمان !! یہ تو وسطیٰ افریقہ کے ملک رُوانڈا سے تعلق رکھنے والے ماں باپ کا لڑکا ’ ایکسیل روڈاکوبانا ‘ تھا جو برطانیہ ہی میں پیدا ہوا۔ جس قدر تیزی سے غلط اطلاعات پھیلائی گئیں اس سے عام تارکِ وطن عمومی اور مسلمان خصوصی طور پر بری طرح متاثر ہوئے۔ برطانیہ میں پچھلے وزیرِ اعظم (2022 سے 2024) رِشی سوناک، کنزرویٹیو پارٹی سے تعلق رکھتے تھے جو تارکینِ وطن کے بارے میں سخت اور بے لچک رویہ رکھتی ہے۔ جب کہ موجودہ و زیرِ اعظم کیر اسٹارمر لیبر پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ پارٹی تارکینِ وطن کے لیئے لچک رکھتی ہے۔ برطانیہ میں 2011 میں بھی فسادات ہوئے تھے، اسی طرح لوٹ مار کا بازار گرم ہوا تھا۔ اب یہ 2024 ہے۔جدید ترین سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے تقریباً سب ہی فسادی پہچان لئے جائیں گے۔یہ فسادات اب بھی جاری ہیں لیکن لگتا ہے کہ سفید فام بالادست مظاہرین اپنی دقیانوسی حاکمانہ صدی ہی میں رہ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS