ریفریشر کورس: کورس کا پہلا دن
خلاف معمول علی الصبح آنکھ کھل گئی۔ ساری رات مچھروں کے گیت سننا پڑے۔ ہم نے ساری رات مچھروں سے جنگ کرنے میں صرف کر دی۔ صبح نہا دھو کر اور ناشتہ کر کے وقت سے پہلے تیار ہو گئے۔ پہلا پیریڈ ساڑھے آٹھ بجے تھا۔ ہم کچھ پہلے ہی کلاس روم میں جا بیٹھے اور متعلقہ سر کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک خوبرو سے صاحب پتلون اور بوشرٹ میں ملبوس کمرے میں داخل ہوئے ہم سمجھے کہ یہی وہ ہیں۔ جن کا انتظار تھا۔ لیکن یہ صاحب بھی پیچھے آ کر ایک بینچ پر براجمان ہو گئے۔ آخر کار پونے نو بجے مطلوبہ صاحب کی تشریف آوری ہوئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ شکور نام رکھتے ہیں۔ دبلے پتلے لمبے اور گہرے گندمی رنگ کے یہ صاحب ہمیں قطعاً پسند نہ آئے پتہ نہیں ہم میں یہ بری عادت کیوں ہے کہ کسی بھی شخص کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی اپنی پسند ناپسند کا اظہار کر دیتے ہیں اور بعد میں اپنی اس رائے پر قائم رہنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
بہرحال آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد حاضری لگائی گئی۔ پابندی وقت کی تلقین کے ساتھ ہی ٹائم ٹیبل نوٹ کروایا گیا۔ اس کے بعد اپنے اپنے پسندیدہ مضامین کا انتخاب مانگا گیا۔ جس میں ریفریشر کورس کرنا مطلوب تھا۔ ہم نے محض شکور صاحب کی ناپسندیدہ شخصیت کے باعث کیمسٹری رکھنا گوارا نہ کیا۔ کیمسٹری کے علاوہ جو کمبینیشن بنتا تھا وہ ریاضی اور بیالوجی کا تھا۔ اور ہم نے یہی دو مضامین منتخب کیے حالانکہ بیالوجی سے ہماری پرانی دشمنی ہے۔ سو بار پڑھنے کی کوشش کی مگر کتابیں بعد میں اٹھائیں اور سر میں درد پہلے شروع ہو گیا۔ گویا شکور صاحب اور بیالوجی ہمارے لیے دونوں ہی ناپسندیدہ چیزیں تھیں لیکن شکور صاحب نسبتاً زیادہ تھے اس لیے بیالوجی کو گلے لگانا پڑا۔
پہلا پیریڈ بیالوجی کا تھا۔ گورنمنٹ کالج کے پروفیسر افتخار صاحب تشریف لائے۔ لمبا چوڑا قد، اس قد سے مناسبت رکھتا ہوا جسم، گندمی رنگ کے ساتھ ڈھیلے ڈھالے سے سست سست محسوس ہو رہے تھے۔ لیکن جب انہوں نے پڑھانا شروع کیا تو پتہ چلا کہ واقعی ایک ٹیچر بول رہا ہے۔ اوریجن آف لائف کے بارے میں لیکچر دیا۔ جس سے کم از کم ہم خاصے متاثر ہوئے اور ہمیں بیالوجی کچھ دلچسپ محسوس ہونے لگی۔ گویا کہ کوئی مضمون بذات خود بور یا خشک نہیں ہوتا بلکہ اس کو ایسا بنا دیا جاتا ہے۔ سبق ختم کرنے کے بعد پروفیسر موصوف نے فرمایا کہ آپ سب لوگ ایک ایک چارٹ تیار کر کے لائیں گے۔ ہمیں ایسی فضولیات سے ہمیشہ ہی چڑ رہی ہے اس لیے فوراً اٹھے اور دریافت فرمایا کہ سر اس کا فائدہ، موصوف نے نہایت دھیمے مشفق اور خوشگوار انداز میں جواب دیا کہ آپ اس کے نقصانات بتاتے جائیں اور میں فائدے بتاتا جاتا ہوں۔ چار و ناچار ہار مان کر بیٹھنا پڑا۔
دوسرا پیریڈ شروع ہونے میں دیر تھی۔ عزیز صاحب اپنے ایک دوست سے ملنا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ انکم ٹیکس کے دفتر چلے گئے۔ وہاں ایوب مل گیا وہ وہاں انکم ٹیکس والوں کو چکر دینے کی کوشش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر گپ شب ہوئی اور پھر وہ ہمیں ہمارے کالج چھوڑ گیا۔ ہم کلاس روم میں داخل ہوئے تو پیریڈ شروع ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔ ہم بغیر کاغذ پنسل کے ہونقوں کی طرح منہ اٹھائے بیٹھے تھے۔ سیٹ تھیوری پڑھائی جا رہی تھی اور پڑھانے والے صاحب کمپری ہنسیو ہائی سکول کے ایک ٹیچر تھے۔ ان کے پڑھانے کے انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ یا تو وہ نہایت قابل ہیں اور انتہائی جدید انداز میں طلباء سے نئی چیزیں اخذ کروا رہے ہیں یا انتہائی کمزور ہیں خود کچھ نہیں آتا ہم سے پوچھ تاچھ کر کے گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ماتھے پر موجود پسینے کے قطرے اور میز پر موجود نوٹس (جن کو وہ بوقت ضرورت پڑھ کر سناتے تھے ) نے اُن کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے میں مدد دی۔
اسی پیریڈ کے دوران ہمیں کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہم سے ایک بینچ چھوڑ کر اگلے بینچ پر مبارک صاحب بمعہ کیپ تشریف فرما تھے۔ ہم نے ان سے کاغذ مانگا وہ خاموش رہے۔ ہم نے پھر اپنے سے آگے والے لڑکے سے کہا کہ مبارک صاحب کو کہو کہ ایک کاغذ عنایت فرما دیں۔ مگر پھر بھی ان کی طرف سے خاموشی ہی رہی۔ ناچار ہم نے اپنے ٹیچر سے ایک کاغذ مانگا باقی پیریڈ میں اس کاغذ پر مبارک صاحب کا کارٹون مع ان کی ٹوپی اور داڑھی کے بنانے کی ناکام کوشش کی اور پیریڈ کے اختتام پر یہ کارٹون پوری کلاس کو ملا حظہ کروایا گیا۔ مبارک صاحب کے علاوہ باقی تمام کلاس نے ہمارے اس فن کی بہت تعریف کی۔ مگر مبارک صاحب ناراض ہو گئے جنہیں بعد میں منا لیا گیا۔
چھٹی کے بعد ہم دھوتی اور بنیان میں پرنسپل نظامی صاحب کے پاس گئے۔ دو تین صاحبان اور ساتھ تھے۔ وہاں گرمی کی شدت جگہ کی تنگی اور بہت سی دوسری مشکلات کا رونا رو کر ایک کمرہ حاصل کیا اور پانچ آدمیوں کی ٹیم کے ساتھ اس کمرے میں شفٹ ہو گئے۔ پانچ بجے ایوب دوبارہ وارد ہو گیا اور اصرار کرنے لگا کہ چلو بورے والا چلتے ہیں ہم نے لاکھ انکار کیا مگر فضول آخر کار ہم ملتان کے اس خالص علمی ماحول سے خالص غیر علمی انداز میں ایک دن بسر کرنے کے بعد بورے والا واپس آ گئے۔


