فرانز کافکا کا نفسیاتی و رومانوی تجزیہ
فرانز کافکا کی شخصیت اتنی الجھی ہوئی تھی کہ اس نے ان کی تخلیقیت کو بھی پراسرار بنا دیا تھا۔ بیسویں صدی کے عالمی ادب کی تاریخ میں کوئی اور ایسا ادیب نہیں ملتا جس کا نام استعاراتی اہمیت کا حامل بن گیا ہو۔ اسی لیے انگریزی زبان میں جب کوئی تحریر یا صورت حال نہایت دشوار، پیچیدہ، گنجلک اور پریشان کن ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ KAFKAESKE ہے۔
ادب کی دنیا میں کافکا کا نام پراسراریت کا استعارہ بن چکا ہے۔ اسی لیے کافکا کی شخصیت اور تخلیقیت نفسیات اور ادب دونوں ماہرین کے لیے ایک ایسا پیچیدہ سوال ہے جس کا تسلی بخش جواب تلاش کرنا ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔
ادب اور نفسیات کا طالب علم ہونے کے ناتے میں نے بھی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
جب ہم فرانز کافکا کی سوانح عمری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کافکا جسمانی طور پر ایک نحیف، ناتواں اور لاغر بچے تھے۔ وہ نفسیاتی طور پر حد سے زیادہ حساس اور زود رنج تھے اور احساس کمتری کا بھی شکار تھے۔ وہ آئینہ دیکھنے سے کتراتے تھے کیونکہ وہ اپنے آپ کو ایک بدصورت اور بدہیئت انسان سمجھتے تھے۔ جوانی کے دور کے ایک خط میں لکھتے ہیں میں ایک بالکل بے کار انسان ہوں لیکن اس کے بارے میں کچھ بھی کیا نہیں جا سکتا۔
کافکا ابتدا سے ہی ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے۔ وہ دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ دروازہ بند کر کے وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں اکیلے خیالوں کی دنیا میں کھوئے رہتے تھے۔ خیالوں کی دنیا میں کھوئے رہنا جہاں نفسیاتی طور پر نقصان دہ اور پریشان کن تھا وہیں ایک ادیب ہونے کے ناتے بہت زرخیز اور سودمند تھا۔ اسی تصوراتی دنیا نے ان سے ”میٹامورفوسس“ جیسی معراکتہ الآرا کہانیاں لکھوائیں۔
جب ہم کافکا کے خاندان کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے والدین جیولی اور ہرمن کافکا کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ کافکا کو بچپن میں ہی اس بات نے دکھی کر دیا تھا کہ ان کے دو بھائی بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔ کافکا کی پیدائش کے چھ سال بعد ان کے والدین کی پہلی بیٹی اور بعد میں دو اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ کافکا کی بہنیں ان سے عمر میں اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کی اپنی بہنوں سے دوستی نہ ہو سکی اور وہ بہنوں کے ہوتے ہوئے بھی ان سے جذباتی طور پر دور اور اپنی خاموشی اور تنہائی سے زیادہ قریب رہے۔ کافکا نفسیاتی طور پر اپنی والدہ سے قربت لیکن والد سے بعد محسوس کرتے تھے۔ والدہ ان سے نہ صرف محبت اور شفقت سے پیش آتیں بلکہ ان سے لاڈ پیار بھی کرتیں۔ بدقسمتی سے کافکا کبھی بھی جذباتی طور پر اپنے والد کے قریب نہ آ سکے۔ کوشش کے باوجود ان کا اپنے والد سے محبت، پیار، اپنائیت، خلوص، اعتماد اور بے تکلفی کا رشتہ نہ بن سکا اور انہیں اس بات کا ساری عمر قلق رہا۔
کافکا کے دوست میکس بروڈ کافکا کی سوانح عمری میں کافکا کی ڈائری کا ایک ورق نقل کرتے ہیں جس سے کافکا کی اپنے والد سے جو دوری ہے اس کی نفسیاتی توجیہہ کا راز ملتا ہے۔ کافکا لکھتے ہیں کہ میرے والد اپنے بچپن کا بار بار ذکر چھیڑ دیتے ہیں اور ان مصائب اور مظالم کا ذکر کرتے رہتے ہیں جن کا انہیں اپنے بچپن میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہیں سردیوں کے دنوں میں علی الصبح اٹھ کر نوکری کرنے جانا پڑتا۔ انہیں اتنی محنت مزدوری کرنی پڑتی کہ ان کی ٹانگوں پر زخم بن جاتے۔ انہیں بھوکا بھی رہنا پڑتا۔ وہ اپنی مشکلات کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ آج کے بچے اور خصوصی طور پر ان کے اپنے بچوں کو ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کافکا کہتے ہیں یہ سب سچ ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم ان کے اس لیے شکر گزار ہوں کہ ہم ان مشکلات سے نہیں گزرے۔ کافکا لکھتے ہیں کہ وہ اپنے والد کی اپنی کہانی کو بار بار دہرانے سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ان تفصیلات کو سن کر الجھ اور اکھڑ جاتے ہیں اور کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں۔
کافکا نے مرنے سے پانچ سال پیشتر پینتیس برس کی عمر میں اپنے والد کو ایک طویل خط لکھا۔ انہوں نے وہ خط اپنی والدہ کو دیا کہ وہ اسے ان کے والد کو دے دیں۔ والدہ نے خط پڑھ کر کافکا کو واپس کر دیا ان کے والد کو نہیں دیا۔ کافکا اپنے والد سے اپنے تعلق کے حوالے سے بہت دکھی رہتے تھے اور یہ دکھ ساری عمر ان کے ساتھ رہا۔ وہ مرتے دم تک اس دکھ، اس غم اور اس قلق سے چھٹکارا نہ پا سکے۔ وہ تعلق عمر بھر ان کی روح کا کانٹا بنا رہا۔
میکس بروڈ اپنی سوانح میں کافکا کی تحلیل نفسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ ساری عمر اپنی نفسیاتی الجھن اپنے ایڈیپس کمپلیکس کا کوئی تسلی بخش حل نہ پا سکے۔ اس کمپلیکس کی وجہ سے وہ اپنی ماں سے محبت اور باپ سے نفرت کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ساری عمر نفسیاتی طور پر بالغ نہ ہو سکے۔ میکس بروڈ لکھتے ہیں کہ کافکا کو خود اپنے نفسیاتی مسئلے کا احساس تھا اسی لیے انہوں نے ایک دفعہ میکس بروڈ سے کہا تھا کہ میں ایک معصوم بچے سے ایک سفید داڑھی والا بوڑھا بن جاؤں گا لیکن کبھی نفسیاتی طور پر جوان اور کبھی جذباتی طور پر بالغ نہیں ہو پاؤں گا۔
میکس بروڈ کہتے ہیں کہ اگر کافکا کو اپنے والد پسند نہیں تھے تو انہیں والد سے جذباتی دوری اختیار کر لینی چاہیے تھی لیکن وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ وہ ساری عمر شکایت بھی کرتے رہے لیکن ان کی محبت کے خواہش مند بھی رہے۔ وہ ساری عمر یہ امید بھی رکھتے رہے کہ ایک دن ان کے والد ان سے کہیں گے میں تم پر فخر کرتا ہوں، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میکس بروڈ کا یہ بھی خیال ہے کہ کافکا کے والد اتنے جابر و ظالم نہیں تھے جتنا کہ کافکا نے اپنے خط میں ان کا نقشہ کھینچا ہے۔ وہ نقشہ والد کی آمرانہ شخصیت سے زیادہ کافکا کی حد سے زیادہ حساس طبیعت کا آئینہ دار ہے۔
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کافکا کا اپنے والد سے رشتہ ایک روایتی باپ اور ایک غیر روایتی تخلیقی بچے کا رشتہ تھا۔ کافکا کے والد ایک دراز قد بھاری بھرکم انسان تھے جبکہ کافکا نحیف و ناتواں بچے تھے۔ کافکا کے والد چونکہ فوج میں بھی رہ چکے تھے اور اپنی محنت اور مشقت سے ایک کامیاب کاروباری انسان بھی بن چکے تھے اس لیے وہ اپنے بیٹے کو ایک طاقتور اور کامیاب انسان دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی نصیحت کافکا کی حساس طبیعت پر گراں گزرتی تھی اور وہ جذباتی طور پر زخمی ہو کر دکھی ہو جاتے تھے۔
میکس بروڈ کا خیال ہے کہ کافکا کا خط معروضی حقائق کے مقابلے میں ان کی اپنی سوچ کا زیادہ آئینہ دار ہے اسی لیے ان کی والدہ نے انہیں وہ خط واپس کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ خط باپ بیٹے کے نفسیاتی مسائل کو سلجھانے کی بجائے اور الجھا دے گا۔ میکس بروڈ کا یہ بھی خیال ہے کہ کافکا کے اپنے والد سے تضاد کا عکس ان کی کہانیوں میں بھی ملتا ہے۔ ان کی کہانی ”میٹامورفوسس“ کا ہیرو بھی جو ایک کیڑا بن چکا ہے اور اپنے کمرے میں رینگتا رہتا ہے، کافکا کی طرح اپنے والد سے ناخوش ہے بلکہ ایک موقع پر تو اس کا والد اس کو سیب مارتا ہے تو وہ اس کی کمر میں دھنس جاتا ہے۔
ہمیں فرانز کافکا کی ذاتی زندگی اور میٹامورفوسس کے ہیرو کی زندگی میں مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ دونوں کا اپنے والد سے رشتہ دکھی کر دینے والا ہے۔
دونوں اپنے اپنے نفسیاتی مسئلے میں ایسے الجھے ہیں کہ اسے سلجھا نہیں پا رہے۔
کافکا کی شخصیت اور ان کی تخلیقیت دونوں کو سمجھنے میں ان کا اپنے والد سے
LOVE/HATE RELATIONSHIP ایک کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
کافکا کی رومانوی زندگی
انیس سو بارہ کا سال کافکا کی زندگی کا ایک اہم سال تھا۔ اس سال انہوں نے نہ صرف ایک شہکار کہانی میٹامورفوسس تخلیق کی بلکہ اسی سال وہ ایک دختر خوش گل کی زلف کے اسیر بھی ہو گئے۔ کافکا کا دیرینہ خواب تھا کہ وہ شادی کریں بچے پیدا کریں باپ بنیں خاندان بنائیں لیکن وہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ کافکا کی محبت کا سلسلہ کئی سال جاری رہا لیکن وہ کافکا کے شکوک و شبہات اور شخصیت کے نشیب و فراز کا شکار ہو گیا۔ ایک سے زیادہ بار منگنی ہوئی بھی اور ٹوٹ بھی گئی۔ کافکا نے انہیں ایک خط میں لکھا۔
پیاری فرالین
اب تمہیں مجھے کوئی خط نہیں لکھنا چاہیے اب میں بھی تمہیں کوئی خط نہیں لکھوں گا میری محبت تمہارے لیے ایک اذیت بن چکی ہے۔ میں تو نہیں چاہتا لیکن اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہارے خط واپس کر دوں گا مجھ سے قطع تعلق کر کے تم دوبارہ خوشحال ہو جاؤ گی جیسے تم مجھ سے تعلق قائم کرنے سے پہلے تھیں۔
میکس بروڈ کو ایک دن خبر ملی کہ فرالین نے کسی اور سے شادی کر لی ہے۔ بروڈ نے ہی کافکا کو اس کی محبوبہ کی کسی اور سے شادی کی خبر سنائی اور دونوں نے اس خبر پر تبادلہ خیال کیا۔
پھر ایک دن ایسا آیا کہ کافکا خون تھوکنے لگے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے گھبراتے تھے۔ انہوں نے انکار کیا لیکن جب دوستوں نے اصرار کیا تو وہ ڈاکٹر سے ملے جس نے تشخیص کی کہ انہیں ٹی بی ہو چکی ہے۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ تپ دق کے علاج کے لیے سینیٹوریم میں داخل ہوں۔
محبوبہ سے جدائی کے بعد کافکا نے اپنی تنہائی سے دوستی کر لی۔ وہی ان کی شریک سفر اور شریک حیات بن گئی۔ اسی تنہائی کی قربت میں رہ کر وہ اپنے شہکار افسانے اور ناول تخلیق کرتے تھے۔
زندگی کے ایک اور دور میں کافکا نے چاہا کہ ان کے افسانوں کا ترجمہ ان کی آبائی چیک زبان میں ہو چنانچہ ان کی ملاقات میلینا سے ہوئی جو چیکوسلواکیہ کی تھیں۔ انہوں نے کافکا کے افسانوں کا ترجمہ کیا۔ وہ مترجم دھیرے دھیرے ان کی محبوبہ بن گئیں۔ کافکا کے دل میں ایک دفعہ پھر محبت کی چنگاری ابھری لیکن دوسری محبت کی چنگاری بھی پہلی محبت کی طرح شعلہ نہ بن سکی اور راکھ بن گئی۔ وہ محبت کا رشتہ بھی ان کے احساس کہتری کا شکار ہو گیا۔ فرانز کافکا کی ملینا جیسنسکا سے ملاقات انیس سو بیس میں شروع اور انیس سو بائیس میں ختم ہو گئی۔
ملاقات کے وقت ملینا ایک فلاسفر ارنسٹ پولاک کی بیوی تھیں اور ویانا میں رہائش پذیر تھیں اور کافکا کی منگیتر بھی پراگ میں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔
ملینا اپنے شوہر سے بہت نالاں تھیں کیونکہ وہ ایک بے وفا شوہر تھے۔ کافکا کا رومانوی خواب تھا کہ ملینا اپنے شوہر کو اور وہ اپنی منگیتر کو چھوڑ دیں اور وہ دونوں مل کر زندگی کے باقی دن ہنسی خوشی گزاریں۔ کافکا کی ملینا سے چاہت حقیقی سے زیادہ خیالی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں صرف چار دن اکٹھے رہے تھے۔ دونوں کی محبت در اصل محبت ناموں کی محبت تھی۔ ملینا نے میکس بروڈ کو ایک خط میں لکھا کہ جب انہوں نے کافکا کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر کو بوجوہ نہیں چھوڑ سکتیں تو انہوں نے قطع تعلق کر لیا۔ ملینا نے میکس بروڈ کو خط میں لکھا کہ کافکا نے مجھے لکھا ہے
DO NOT WRITE AND LET US NOT SEE EACH OTHER
ملینا کافکا کے اس پیغام سے دکھی ہو گئیں۔ اس قطع تعلق کے بعد کچھ عرصے تک ان کی میکس بروڈ سے خط و کتابت رہی اور انہوں نے کافکا کی ترجمہ کردہ کہانیاں اور ڈائری کے اوراق انہیں بھجوا دیے۔ ملینا نے میکس بروڈ سے یہ بھی درخواست کی کہ اگر انہیں ملینا کے کافکا کے نام لکھے ہوئے خطوط ملیں تو وہ ان خطوط کو جلا دیں۔ میکس بروڈ نے ملینا کو تسلی دی۔ وہ ان سے ہمدردی سے پیش آئے کیونکہ وہ ان کے دوست کی محبوبہ تھیں۔
کافکا سے جدائی کے بعد جب ہم ملینا کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں ملینا کی ایک دوست مارگریٹ نیومین کی سوانح عمری
UNDER TWO DICTATORS
سے پتہ چلتا ہے کہ ملینا نے اپنی زندگی کے آخری چند سال نازی کیمپوں میں گزارے۔ مارگریٹ ملینا کی خوش مزاجی اور بہادری سے بہت متاثر تھیں۔ ملینا کہا کرتی تھیں میں کتے کی موت نہیں مرنا چاہتی میں عزت سے زندہ اور عزت سے مرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے نازی کیمپوں کی بھوک اور سردی کو برداشت کیا لیکن ہمت نہ ہاری۔ آخر ملینا کو گردے کی بیماری ہوئی۔ وقت پر علاج نہ ہوا۔ جب آپریشن کیا گیا تو بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ آپریشن کے دوران سترہ مئی انیس سو چوالیس کو فوت ہو گئیں۔ مارگریٹ اپنی سوانح کے آخر میں لکھتی ہیں کہ ملینا کی وفات کے بعد میری زندگی بے معنی ہو گئی۔
کافکا کی زندگی کے آخری چند سالوں میں تپ دق کی بیماری نے نہ صرف انہیں جسمانی طور پر کمزور و ناتواں و نڈھال کیا بلکہ انہیں اپنی شخصیت کی شکست و ریخت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کافکا کو ساری عمر ناشناسی کا دکھ اندر ہی اندر سے دیمک کی طرح چاٹتا رہا۔ وہ اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں ”مجھے ایک بھی شخص ایسا نہیں ملا جو مجھے پوری طرح سمجھ سکتا“ ۔
کافکا ساری عمر اپنے دل کے نہاں خوابوں میں یہ رومانوی خواب چھپائے پھرتے رہے کہ انہیں کوئی ایسی عورت ملے جو انہیں ٹوٹ کر چاہے۔ آخر یہ خواب موت سے چند ماہ پہلے شرمندہ تعبیر ہوا جب ان کی ملاقات ڈورا سے ہوئی۔ ڈورا ان سے عمر میں کافی چھوٹی تھیں لیکن ان پر دل و جان سے فریفتہ تھیں۔ ڈورا کی شخصیت میں اتنی مقناطیسی کشش تھی کہ کافکا نے برلن ہجرت کی اور ڈورا کے ساتھ رہنے لگے۔ ڈورا انہیں پوجنے کی حد تک چاہتی تھیں۔ انہوں نے کافکا کی عمر بھر کی حسرتیں پوری کر دیں۔ میکس بروڈ لکھتے ہیں کہ جب ان کی کافکا سے ڈورا کی قربت میں ملاقات ہوئی تو انہیں یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ وہ بہت خوش تھے۔ بروڈ نے کبھی کافکا کو اتنا خوش نہیں دیکھا تھا۔ کافکا کا جسم دکھی لیکن دل سکھی تھا۔
ڈورا نے کافکا کا ساتھ مرتے دم تک نبھایا۔
کافکا کی بیماری آخر جان لیوا ثابت ہوئی اور وہ تین جون انیس سو چوبیس کو چالیس برس کی عمر میں سینیٹوریم میں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ سینی ٹوریم سے جس گاڑی میں کافکا کو قبرستان لے جایا گیا اس کی چھت نہیں تھی۔ جب ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی تو ڈورا نے ان کی لاش کو اپنے جسم سے اسی طرح ڈھانپا جیسے وہ ان کی زندگی کے آخری دنوں میں ان کے دکھی جسم کو اپنے محبتی جسم سے ڈھانپتی تھیں۔ کافکا خوش قسمت تھے کہ انہیں زندگی کے آخری چند دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں ایسی محبت ملی جس سے وہ برسوں محروم رہے۔
کافکا جسمانی طور پر مر گئے لیکن ان کے بے مثال افسانے انہیں رہتی دنیا تک زندہ رکھیں گے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو مرنے کے بعد حیات جاوید پا جاتے ہیں۔ کافکا کے افسانوں نے بیسویں صدی کے افسانوں کو جدیدیت کے تجربے سے اسی طرح روشناس کروایا جیسے ایذرا پاؤنڈ نے بیسویں صدی کی نظموں میں جدیدیت کی روح پھونکی۔
کافکا کا ایک بے نام بیٹا
فرانز کافکا کو ساری عمر شادی کرنے اور باپ بننے کا بہت شوق تھا لیکن وہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ ان کے رومانوی رشتے مختلف نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو گئے۔
کافکا کی زندگی کا ایک ایسا راز تھا جس سے وہ خود بھی ساری عمر ناواقف رہے۔
کافکا کی وفات کے چوبیس برس بعد 1948 میں ان کے دوست میکس بروڈ کو ایک موسیقار وولف گینگ شوکن کا ایک خط موصول ہوتا ہے جس میں کافکا کی زندگی کا یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ کافکا کا ایک بیٹا بھی تھا۔ وولف گینگ شوکن نے میکس بروڈ کو ایک ایم ایم نامی خاتون کا 1940 کا لکھا ہوا خط دکھایا جس میں درج تھا کہ ان کی فرانز کافکا سے مختصر دوستی اور محبت تھی اور اس رشتے کے دوران وہ حاملہ ہو گئیں لیکن انہوں نے رشتہ منقطع کر دیا اور کافکا کو کبھی نہیں بتایا کہ وہ ان کے بچے کی ماں ہیں۔
میکس بروڈ کہتے ہیں کہ انہیں یہ تو پتہ تھا کہ کافکا کی ایم ایم خاتون سے چند ملاقاتیں ہوئی تھیں لیکن وہ اس رشتے کی اہمیت اور گہرائی سے واقف نہ تھے۔
ایم ایم خاتون کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ وہ ایک مالدار خاتون تھیں اسی لیے انہوں نے اس بچے کا اکیلے خیال رکھا۔ بدقسمتی سے وہ سات سال کی عمر میں 1921 میں فوت ہو گیا۔ میکس بروڈ کو کافکا کے بیٹے کا نام معلوم نہ ہو سکا کیونکہ ایم ایم خاتون نے اپنے خط میں اس کا نام نہیں لکھا تھا۔ ایم ایم خاتون کو جب کافکا کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے پراگ جا کر کافکا کی قبر پر حاضری دی۔
میکس بروڈ لکھتے ہیں کہ ریڈ کراس کی 16 مئی 1945 کی رپورٹ کے مطابق ایم ایم خاتون چونکہ ایک یہودی خاتون تھیں انہیں بہت سے اور یہودی مردوں اور عورتوں کے ساتھ مئی 1944 میں جرمن اٹھا کر لے گئے۔ انہیں نازی کیمپوں میں رکھا گیا اور چند ماہ بعد انہیں ایک جرمن سپاہی نے اپنی بندوق سے اتنا مارا پیٹا کہ وہ فوت ہو گئیں۔ میکس بروڈ کو جب کافکا کے بیٹے کی خبر ملی اس وقت تک کافکا کا بیٹا اور اس کی ماں دونوں فوت ہو چکے تھے۔
میکس بروڈ کہتے ہیں کہ اگر کافکا کو پتہ ہوتا کہ ان کا ایک بیٹا ہے تو وہ ضرور اس سے محبت اور پیار سے ملتے اور اس کا خیال رکھتے کیونکہ انہیں بچوں سے بہت محبت تھی۔ عین ممکن ہے کافکا اور بیٹے کی محبت دونوں کی زندگی پر مثبت اثر ڈالتی اور دونوں کچھ دن اور زندہ رہتے۔ فرانز کافکا کے چوبیس برس بعد ایک بے نام بیٹے کی خبر ان کی رومانوی زندگی اور جوانی کی موت ان کی ذات اور شخصیت کی پراسراریت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔


