طلعت حسین: ایک عہد تمام ہوا
پاکستان شوبز کے موجودہ منظرنامے پر ایسے فنکاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جن کی آنکھیں قیام پاکستان کی گواہ تھیں اور جنہوں نے ایک نئے ملک کو معرض وجود میں آتے دیکھا۔ وہ ریڈیو پاکستان کی شان دار تہذیب اور پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری ادوار سے واقف تھے۔ جن کی زندگی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تربیت کا حوالہ تھی۔ انہیں شخصیات میں ایک طلعت حسین تھے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے شمس نوید عثمانی کی کتاب ”کیا ہم مسلمان ہیں“ کی آڈیو ریکارڈنگ بھی کروائی تھی جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسی عظیم ہستیوں کے کردار، اخلاق، جرات، بہادری، خدا خوفی، دنیا سے بے رغبتی اور اسلام کے کٹ مرنے کے جذبے کو زیر نظر عنوان میں سمو دیا گیا ہے۔ طلعت حسین نے اپنی خوب صورت آواز میں وہ ہیرے اور موتی جیسے الفاظ کو ایک کیسٹ کی شکل میں ادا کیا ہے جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ وہ ایک بہترین پیش کش تھی جسے انہوں نے احسن انداز میں انجام دیا۔ جسے سمع و بصر نے ریلیز کیا تھا۔ انہوں نے اس میں مخصوص انداز میں اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔ ہمیں اسلاف کے روز و شب کا مطالعہ بھی کرنا ہے اور حال میں اپنا جائزہ بھی لینا ہے اور پھر شاید ہم اس سوال کا جواب دینے کے قابل ہو سکیں کہ ”کیا ہم مسلمان ہیں؟“۔
طلعت حسین نے غیر منقسم ہندوستان میں آنکھ کھولی، پھر تقسیم اور ہجرت کے پرآشوب ادوار سے گزرے۔ مملکت خداداد پاکستان سے ان کی محبت دیدنی تھی۔ مغربی دنیا سے اپنے پیشے کا علم حاصل کیا پھر ریڈیو سے لے کر چھوٹی اور بڑی اسکرین پر اپنے اس فن کا شان دار مظاہرہ کیا۔ زندگی کی آخری سانس تک اپنے اندر کے انسان کے تعاقب میں مصروف عمل رہے۔
وہ پروفیسر بننا چاہتے تھے مگر زندگی انہیں فن اداکاری کی طرف لے گئی۔ پڑھنے لکھنے کے شوق سے انہوں نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا اور پھر تدریس کے شعبے سے جڑ کر اپنے خواب کو تعبیر دی۔
طلعت حسین نے بچپن سے ہی ریڈیو میں کام کرنا شروع کر دیا تھا، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کی والدہ بھی ریڈیو آرٹسٹ تھی۔ جب پاکستان میں ریڈیو اور ٹی وی کی شروعات ہوئی تو طلعت صاحب ان چند اداکاروں اور صداکاروں میں سے ایک تھے جن کو ”مؤدب آواز“ کہا جاتا تھا۔ انہیں مکالمات کی ادائیگی پر عبور حاصل تھا۔
طلعت حسین کو اداکاری کے ساتھ ساتھ مطالعہ کا بھی بے حد شوق تھا۔ انہیں اردو ادب اور انگریزی سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ اس دور کے ان چند افراد میں سے تھے جن کے ہاتھ میں ہمیشہ کتاب رہتی تھی۔ طلعت صاحب اداکاری پر ہی نہیں ادب، فلسفے، مذہب، تصوف، مصوری اور سیاست سمیت ہر موضوع پر گھنٹوں گفتگو کر سکتے تھے اور ہر وقت قدیم و جدید کتابوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ وہ پڑھے لکھے اداکار تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے نہ صرف ڈرامہ کیا بلکہ پی ٹی وی کے آغاز میں انہوں نے بہ طور میزبان بھی کام کیا۔ وہ ایک انتہائی سادہ طبیعت اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک تھے۔
طلعت حسین نے اداکاری اور صداکاری کے میدانوں میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک اپنا لوہا منوایا۔ طلعت صاحب نے لندن اکیڈمی اف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ سے تھیٹر آرٹس میں ٹریننگ حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وہ گفتگو ہمیشہ نستعلیق انداز میں کرتے۔ بہت پڑھے لکھے تھے۔
الفاظ کی ادائیگی میں جذبات اور تاثرات کو سمو دینا، شیشے جیسا تلفظ، زبان اور اس کے بیان پر مکمل عبور، یہ ایسی صلاحیتیں ہی جن میں طلعت صاحب کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ وہ تھیٹر سے نہیں آئے تھے اس لئے ڈائیلاگ ڈیلیوری میں ٹھہراؤ اور نرمی تھی، اپنی اداکاری اور اس کے فن کے تحت وہ اپنے چہرے، بلکہ پورے بدن کو تاثرات کا آئینہ بنا دیتے تھے، جہاں وہ اندھیرے میں بھی خاموش بیٹھے ہوئے خود پر بیتی داستان سنا رہے ہوتے ہیں۔ طلعت صاحب کا شمار اپنی نسل کے سب سے عمدہ صداکاروں میں ہوتا ہے اور وہ کیسی نسل ہے جس میں ضیا محی الدین، محمد علی اور طارق عزیز جیسے باکمال شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کہکشاں میں بھی طلعت حسین نے اپنی اپنی ایک علیحدہ اور منفرد جگہ بنا لی۔
ان چاروں نے آغاز ریڈیو سے کیا جہاں تصور کی عدم موجودگی میں لب وہ لہجہ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ صاف اور روشن آوازوں نے انہیں ریڈیو پر مقبول بنایا۔ ریڈیو کی تاریخ میں کیسے کیسے انمول رتن دفن ہیں جنہیں ہم یوٹیوب کا آب حیات نہ پلا سکے۔ پتہ نہیں وہ ریکارڈ ضائع ہو گیا یا کبھی موجود ہی نہ تھا مگر ریڈیو کے ڈراموں کو سننا اور طلعت حسین کی آواز سے اپنے ذہن میں کردار کی تصویر بنانا ایک خوب صورت تجربہ ہوتا۔
طلعت حسین صرف ایک ہیں، ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ طلعت حسین کا نقال تو شاید مل جائے لیکن دوسرا طلعت حسین نہیں بن سکتا۔ کیا یہ کافی نہیں ہے کہ طلعت صاحب اپنی اداکاری سے لطف اندوز ہوئے، پرانی نسلوں نے انہیں دیکھا اور پسند کیا اور اب ان کے رخصت ہونے پر لاکھوں دل افسردہ ہیں، انہیں یاد کر رہے ہیں۔





