احتساب کا مہینہ
چند دن بعد ہم اپنے ملک کی آزادی کی 77 ویں سالگرہ منائیں گے، ملی نغمے گائیں گے، قومی ترانہ بجے گا، پریڈ گراؤنڈ میں توپوں کی سلامی ہوگی، پاک فضائیہ کے جوان ہوا میں اپنی کرتب دکھائیں گے، ٹویٹر فیس بک سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز سے مبارکباد کے پیغامات جاری ہوں گے ، الیکٹرانک میڈیا کے تمام لوگوز سبز رنگ میں رنگے جائیں گے، سکولز اور کالجز میں تقریبات ہوں گی اور آخر میں مجھ جیسے فارغ لوگ واٹس ایپ سٹیٹس پر آزادی کا ڈھول پیٹیں گے۔
سب کچھ ایک ترتیب کے ساتھ ہمیشہ کی طرح ہو گا لیکن جو ہونا چاہیے وہ نہیں ہو گا، کیا ایسی کوئی ضروری چیز ہیں؟ قائد کی روح نے ضرور پکارا ہو گا۔ احتساب۔
یہ مہینہ بے شک بحیثیت پاکستانی ہمارے لئے ایک معتبر مہینہ ہے، اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ اس دن کو ہمارے لئے اس خود مختار اور آزاد وطن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن اگر ہم اپنے 76 سالوں کا بحیثیت قوم، بحیثیت ریاست اور بحیثیت ایک معاشرہ احتساب کریں تو ماسوائے چند بین الاقوامی کھیلوں اور 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے، ہمارے تاریخ کے اوراق بالکل ہی خالی پڑے ہیں۔
ان 76 سالوں میں بحیثیت قوم ہم نے ہر دور میں اپنے ملک کے معرض وجود میں لانے کی وجوہات کے ساتھ انصاف نہیں کیا، ہم نے کبھی بھی اپنے لئے صحیح حاکم کا انتخاب نہیں کیا، وہ ہمیں بہلاتے رہے اور ہم بہلتے گئے، ہم وہی پڑھتے رہے جو وہ پڑھاتے رہے، ہم وہی دیکھتے رہے جو ہمیں دکھایا گیا یعنی ہم میں ایک ناکام اور نا اہل رعایا بننے کی ہر خوبی تھی اور آج بھی ہیں، یہاں ہماری سوچ ایک پاکستانی کی کبھی نہیں ہوتی بلکہ ہمارے ہاں بلوچوں کو اسلام آباد سے، پختونوں کو پنجاب سے، سندھی کو پٹھان سے اور اسلام آباد کو صوبوں سے آزادی چاہیے۔ ہم کبھی بھی قائد کے ویژن والے پاکستان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے بلکہ مفادات کی جنگ میں 1947 والا پاکستان ہار گئے، ۔ اس لیے بحیثیت قوم ہمارا احتساب تو بنتا ہے۔
بحیثیت ریاست بھی ہم دنیا کی تمام آزاد ریاستوں سے کہیں پیچھے رہ گئے ہیں، ہمارے ہاں ایک آزاد ریاست کا درجہ بالائے طاق رکھ کر ہر ایک ادارے کو ایک قسم کی ازخود آزادی چاہیے اور تعجب یہ ہے کہ آزادی بھی ایک دوسرے سے چاہیے۔ ایک دوسرے سے آزادی کی اس جنگ میں آئین کو بارہا پامال کر کے واقعی کاغذ کا ایک ٹکڑا ثابت کر کے ردی کے ٹوکری میں پھینکا گیا ہے۔
اداروں کے بیچ اس ٹکراؤ سے ہمارا ملک معاشی اور خارجی لحاظ سے اتنا پیچھے رہ گیا ہیں کہ اب تو لگتا ہے جیسے کہ ہم 1947 سے بھی پیچھے گئے ہیں۔
معاشرتی اعتبار سے شاید ہم نے انسان کے دور جاہلیت کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے ہاں ہر قسم کی برائیاں آئے روز نت نئے طریقوں سے متعارف کرائی جاتی ہیں، ہم میں وہ تمام خوبیاں موجود ہے جن کی وجہ سے مختلف ادوار میں اللہ تعالٰی کی طرف سے مختلف عذاب نازل ہوتے تھے، اور یہ عذاب ہم پر بھی آتے ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک عام لوئر کلاس پاکستانی سے لے کر ایلیٹ کلاس پاکستانی اور صاحب اختیار لوگوں تک اس عذاب کو باعث رحمت بنانے کا ہنر رکھتے ہیں اور اپنے لئے ذریعہ معاش بناتے ہیں۔ ہم میں قوم لوط کی وحشت، قوم شعیب کی دھوکہ دہی، قوم نوح کا غرور اور قریش مکہ کی ہٹ دھرمی سمیت ہر وہ صفت موجود ہیں جسے اللہ تعالٰی نے ناپسند فرمایا ہے اور ہر دور میں عذاب نازل فرمائے،
مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ 14 اگست کو ہم بجائے اس کے کہ اپنے بچوں کو آزادی کے اغراض و مقاصد سمجھائیں، انہیں قائد کے ویژن سے روشناس کرائیں، انہیں 1947 میں آزادی کے لئے لڑنے والے تاریخ کے خاموش کرداروں کے بارے میں آگاہی دیں ہم انہیں پیپ پیپ والے باجے ہاتھ میں تھماتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہی بچے جب بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر 80، 90 لاکھ دے کر یورپ اور امریکہ جاکر وہاں سے ملک کی بہتری کی خاطر فلسفیانہ سوچ لے کر سوشل میڈیا کے میدان میں ایک زبردست جنگ لڑتے ہیں جس سے حاصل تو کچھ نہیں ہوتا ہاں البتہ یہ لوگ پھر یہاں پاکستان میں بیٹھے نوجوانوں کے جو 80، 90 لاکھ افورڈ نہیں کر سکتے ان کے ہیرو بن جاتے ہیں۔
یعنی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے ہیروز وہی ہوتے جنہوں نے مختلف ادوار میں مملکت کی بہتری کی سوچ لئے اپنی جان و مال صرف کردی لیکن کیا کریں پیپ پیپ کے ساتھ پرورش پانے والوں سے انقلاب کی توقع کرنا کم عقلی ہے۔


