بنگلہ دیش : فوجی بغاوتیں اور جمہوریت


بنگلا دیش میں طلباء تحریک کے دوران وزیر اعظم شیخ حسینہ کے جلا وطن اور مستعفی ہونے پر امریکہ نے خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ نے، آخر بنگلہ دیش کے آرمی چیف کے اعلان کی فوری حمایت کیوں کی؟ بنگلہ دیش کے حالیہ سیاسی منظر نامہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں طلباء کی احتجاجی تحریک کے محرکات دیکھنے ہوں گے۔ بنگلہ دیش کی ہائیکورٹ نے امسال جولائی میں فیصلہ سنایا جس کے تحت آزادی کی تحریک میں شامل سابق فوجیوں کے بچوں کو سول سروس میں مختص کوٹہ بحال کیا گیا۔ یہ کوٹہ شیخ حسینہ کی حکومت نے اکتوبر 2018 ء میں منسوخ کر دیا تھا جسے عدالت نے دوبارہ بحال کر دیا لیکن عدالت نے کوٹہ سسٹم کا تناسب 30 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد مقرر کر دیا، طلباء نے پانچ فیصدی کوٹہ کو بھی امتیازی اور غیر معقول قرار دے کر مسترد کر دیا۔

اب یہ کوٹہ سسٹم کیا ہے؟ بنگلہ دیش کے بانی حکمران شیخ مجیب الرحمان کی حکومت نے 5 نومبر 1972 ء کو پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے والے آزادی پسندوں کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمتوں میں 30 فیصد کوٹہ متعارف کرایا تھا اور 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران متاثر ہونے والی خواتین کے لیے سرکاری، پرائیویٹ، ملازمتوں کے لیے دس فیصد کوٹہ متعارف کرایا تھا جس کے تحت ان افراد کو دفاعی، نیم سرکاری اور قومی اداروں میں ملازمتیں دینے کا فیصلہ شامل تھا۔ کوٹہ سسٹم کے تحت 46 برس تک نو سے تیرہ سکیل تک کی سول ملازمتیں دی جاتی رہی، تاہم شیخ حسینہ کی حکومت نے طلباء کی احتجاجی تحریک کے باعث 2018 ء میں یہ فیصلہ کیا کہ نویں گریڈ (سابقہ ​​فرسٹ کلاس) اور 10 ویں سے 13 ویں گریڈ (سابقہ ​​سیکنڈ کلاس) کی آسامیوں پر براہ راست بھرتی کی صورت میں میرٹ لسٹ کی بنیاد پر تقرری کی جائے۔ ان آسامیوں پر براہ راست بھرتی کے لیے موجودہ کوٹہ سسٹم ختم کر دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے خلاف طلباء نے احتجاج کا اعلان کر دیا اور دو ہفتوں بعد ہی یہ احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد یونیورسٹیوں کے طلباء نے کوٹہ سسٹم کے خلاف آواز اُٹھائی اور اپنا مطالبہ دہرایا کہ اوپن میرٹ پر سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ احتجاجی تحریک، تشدد میں تبدیل ہوئی، 100 سے زائد طلباء ہنگاموں میں مارے گئے اور شیخ حسینہ کی حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھتا چلا گیا۔ وزیر اعظم نے طلباء کے ساتھ مذاکرات کے برعکس، انھیں دہشت گرد قرار دیا اور کرفیو نافذ کر کے کریک ڈاؤن شروع کر دیا جس کے بعد طلباء تحریک میں ایک نئی قوت پیدا ہو گئی۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ اس تحریک میں نہ تو بنگلہ دیش کی کوئی سیاسی جماعت شامل تھی اور نہ ہی اس تحریک کی قیادت کسی طلباء تنظیم کے ہاتھ میں تھی۔ طلباء کا مطالبہ تھا کہ کوٹہ سسٹم سے ان کے لیے ملازمتوں کے مواقع کم ہو جاتے ہیں لہذا ملازمتیں اوپن میرٹ پر دی جائیں۔

البتہ، سیاسی مبصرین کے لیے یہ امر قابل تشویش تھا کہ شیخ حسینہ کے استعفیٰ کی تصدیق، آرمی چیف نے کی اور آرمی چیف نے ہی پریس کانفرنس کے ذریعے نئی عبوری حکومت قائم کرنے کا عندیہ دے دیا، یوں بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے 15 سالہ اقتدار کا سورج غروب ہو گیا اور شیخ حسینہ جلا وطن ہو گئیں۔ بات کوٹہ سسٹم ختم کرنے کے عدالتی حکم سے شروع ہوئی اور فوج نے حکومت کو فارغ کر دیا اور پارلیمان تحلیل کر دی گئی۔ بنگلہ دیش کی تاریخ فوجی بغاوتوں اور سیاسی انتشار کے ایک سلسلے سے نشان زد ہے، جو ملک میں فوجی اور سویلین حکمرانی کے درمیان پیچیدہ تعامل کی عکاسی کرتی ہے۔ بات کوٹہ سسٹم ختم کرنے کے عدالتی حکم سے شروع ہوئی اور فوج نے حکومت کو فارغ کر دیا۔ طلباء تحریک اور مظاہروں کو پہلے پرتشدد بنایا گیا، پھر 100 سے زائد طلباء کا قتل عام ہوا۔ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کی 45 منٹ کی ڈیڈ لائن دی، پھر شیخ حسینہ کو جلا وطن کیا گیا اور اب اقتدار سنبھالنے کی تیاری ہو رہی ہے، اگرچہ طلباء نے بھی اعلان کیا کہ ان کی حمایت کے بغیر کسی بھی عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کے ماتحت فوجی افسر نے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دی جو بذات خود بہت کچھ عیاں کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کا سیاسی مستقبل ایک بار پھر براہ راست فوج کے ہاتھ میں ہے، بنگالی عوام کے لیے یہ نیا تجربہ نہیں ہے، گزشتہ 55 برس سے بنگلہ دیش اور فوج کے درمیان اقتدار کی کشمکش کی جنگ ہے اور بنگالی فوج جمہوریت کے لیے ہمیشہ بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد مکتی باہنی کو بنگلہ دیشی فوج میں ضم کر دیا گیا۔ تاہم، آزادی کے بعد ، بنگالی فوجیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے فوج کے اندر تناؤ پیدا ہوا جو جنگ آزادی کے دوران پاکستان کے خلاف بغاوت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ فوج کے اندر عدم اطمینان 15 اگست 1975 ء کو اپنی انتہا کو پہنچا، جب فوجی افسران نے شیخ مجیب الرحمان اور ان کے خاندان کو قتل کر دیا۔ یوں فوج نے آزادی کے صرف چار برس بعد ہی، بنگلہ دیش کی پہلی سیاسی حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لاء لگا دیا۔ اگرچہ، شیخ مجیب کے قاتل فوجی افسران کو 35 سال بعد ، 2010 ء میں پھانسیوں پر لٹکا دیا گیا لیکن جمہوریت کا زخم بہت گہرا تھا۔

شیخ مجیب الرحمان، ان کے بیٹے، بیگم اور دونوں بہوؤں پر میجر سید فاروق رحمان، میجر خوندکر عبدالرشید نے گولیاں چلا کر قتل کر دیا۔ اس اندوہناک قتل کے بعد ، مصدق احمد نے صدارت سنبھال لی، اور میجر جنرل ضیاء الرحمان کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا۔ نئی حکومت قلیل مدتی تھی۔ 3 نومبر 1975 ء کو مجیب کے حامی بریگیڈیئر خالد مشرف نے فوجی بغاوت کی اور جنرل ضیاء الرحمن کو شیخ مجیب کے قتل میں ملوث ہونے پر گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا، یعنی بنگلہ دیش میں double coup ہوا۔ بریگیڈیئر مشرف کے خلاف تیسری فوجی بغاوت ہوئی اور 7 نومبر 1975 ء کو مشرف کو قتل کر دیا گیا اور میجر جنرل ضیاء الرحمن کو ملک کا صدر بنا دیا گیا۔

1978 ء میں، ضیاء الرحمن نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی بنیاد رکھی، جس نے اس سال کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم، 1981 ء میں، ان کا تختہ الٹ دیا گیا اور میجر جنرل منظور کی قیادت میں ایک باغی فوجی یونٹ نے قتل کر دیا۔ 24 مارچ 1982 ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل حسین محمد ارشاد نے ایک خونریز بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا، آئین کو معطل کر کے مارشل لاء لگا دیا، بنگلہ دیش کی مختصر تاریخ میں یہ چوتھا مارشل لاء تھا۔

جنرل ارشاد نے بی این پی کے صدر عبدالستار کو معزول کر دیا، جو ضیاء الرحمن کے بعد آئے تھے۔ ارشاد نے 1986 ء میں قومی پارٹی قائم کی اور بغاوت کے بعد پہلے عام انتخابات کی اجازت دی۔ ان کی پارٹی جیت گئی، اور ارشاد 1990 ء تک صدر رہے۔ 1991 ء میں پارلیمانی جمہوریت کی واپسی کے باوجود فوجی مداخلت برقرار رہی۔ 2006 ءمیں، بی این پی جماعت کی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوا۔ نگراں حکومت کے سربراہ پر بی این پی اور عوامی لیگ کے درمیان تنازعات کی وجہ سے صدر ایاج الدین احمد نے جنوری 2007 ء کے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے اکتوبر میں خود کو نگراں حکومت کا سربراہ قرار دیا۔ تاہم، 11 جنوری 2007 ء کو آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل معین احمد نے فوجی بغاوت کی قیادت کرتے ہوئے فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت تشکیل دی۔

ماہر اقتصادیات فخرالدین احمد کو حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا، جب کہ صدر ایاج الدین احمد عہدے پر برقرار رہے۔ معین نے بطور آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی اور نگراں حکومت کے دور کو دو سال تک طول دیا۔ دسمبر میں ہونے والے قومی انتخابات کے بعد 2008 ء میں فوجی حکمرانی ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ اقتدار میں آئیں۔ پندرہ برس بعد ، شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہو گئی اور اب دوبارہ فوج کی نگرانی میں نئی حکومت تشکیل دی جا رہی ہے۔ طلباء نے اپنے حقوق کی تحریک شروع کی، بنگلہ دیش کی مقتدرہ نے اس تحریک کو ہائی جیک کر کے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر لیا، اب یہ محض بنگالی مقتدرہ کا مفاد تھا یا پھر امریکہ کا مفاد بھی شامل تھا؟ میرا خیال ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کا تازہ بیان ہی اس کا جواب ہے۔

بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کا بینیفشری کون ہو سکتا ہے؟ کیا شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد نئے سیاسی سیٹ اپ کی تشکیل میں ریجنل پالیٹکس کا عمل دخل ہے؟ اس امر کو سمجھنے کے لیے ہمیں بنگلہ دیش کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لینا ہو گا اور ریجنل و گلوبل مارکیٹ میں بنگلہ دیش کے تجارتی شیئرز کی جانچ پڑتال کرنا ہوگی۔ ان دو امور کا تجزیہ کرنے سے پہلے، ہمیں ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ طلباء تحریک حکومت کے خلاف نہیں تھی اور نہ ہی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے تھی، لیکن اس تحریک کا نتیجہ بنگالی مقتدرہ کی بالادستی پر ختم ہوا ہے۔ 2023 ء میں بنگلہ دیش کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو 6.5 فیصد تھی جبکہ ایشیاء پیسیفک کے ممالک میں یہ شرح 4.5 فیصد تھی۔ بنگلہ دیش کی پانچ ممالک میں برآمدات کا حجم 34 ارب 70 کروڑ ڈالرز سالانہ ہے جس میں امریکا کو 11 ارب 70 کروڑ ڈالرز، جرمنی کو 10 ارب 20 کروڑ، برطانیہ کو 4 ارب 86 کروڑ، ہسپانیہ کو 4 ارب 41 کروڑ اور پولینڈ کو 3 ارب 53 کروڑ ڈالرز کی برآمدات شامل ہیں۔ بنگلہ دیش، چین اور بھارت کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں چیلنج کر رہا ہے اور بنگلہ دیش جی ڈی پی کے اعتبار سے دُنیا کی 34 ویں بڑی معیشت ہے۔ بنگلہ دیش علاقائی تنازعات میں نہ تو چین کے ساتھ کھڑا ہے اور نہ ہی بھارت کا ہم نوا ہے، بنگلہ دیش کی قومی پالیسی، قومی مفادات کے تابع ہے یہی وجہ ہے کہ چھوٹا ملک ہونے کے باوجود جنوبی ایشیاء میں اقتصادی طور پر مسلسل ترقی کے اعشاریے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ورلڈ بینک کی اپریل 2024 ء کی رپورٹ کے مطابق؛ بنگلہ دیش کا غربت میں کمی اور ترقی کا سفر واقعی قابل ذکر ہے۔ 1971 ء میں اپنے قیام کے وقت غریب ترین ممالک میں سے ایک ہونے کے بعد ، بنگلہ دیش نے 2015 ء میں کم درمیانی آمدنی کا درجہ حاصل کیا تھا اور 2026 ء تک اقوام متحدہ کی کم ترقی یافتہ ممالک (LDC) کی فہرست سے نکل جائے گا۔ غربت کی شرح 2010 ء میں 11.8 فیصد تھی جو کہ 2022 ء میں کم ہو کر 5 فیصد تک آ گئی۔

یورپی جامعات میں گزشتہ دو دہائیوں سے ان امور پر تحقیقی مقالہ جات شائع ہو رہے ہیں کہ اکیسویں صدی ایشیاء کی بالادستی کی صدی ہے اس کی متعدد تزویراتی و اقتصادی وجوہات ہیں۔ ایشیائی ممالک نے زمینی، بحری اور فضائی راہداریوں کے ذریعے بڑی تجارتی منڈیوں، خام مال کی ترسیل، صنعتی زون تک رسائی حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ امریکہ، ایشیاء میں اپنا مستقل بحری بیڑا تعینات کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے ذریعے چین کے لیے مستقل خطرہ پیدا کیا جائے۔ خلیج بنگال، گزشتہ سینکڑوں برس سے تجارتی راہداری میں تزویراتی اہمیت کا حامل ہے، برطانوی استعمار نے نو آبادیاتی عہد میں خلیج بنگال پر قبضے کے ذریعے سے ہی اقتصادی قوت حاصل کی تھی۔ کم و بیش دو دہائیوں سے، بھارت اور چین مسلسل اقتصادی ترقی میں آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ بنگلہ دیش بھی صنعتی ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ تزویراتی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ خلیج بنگال میں سینٹ مارٹن جزیرہ پر امریکہ اپنا کنٹرول چاہتا ہے، یہ جزیرہ تین مربع کلو میٹر پر محیط ہے اس جزیرے کے ذریعے امریکہ کے لیے چین پر کڑی نظر رکھنا آسان ہو گا۔ میانمار میں جب حالات کشیدہ ہوئے تو اس کے اثرات سینٹ مارٹن جزیرہ تک پہنچے، یہ جزیرہ میانمار سے 9 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

چین اور بھارت، بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کی کبھی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ اس سے ریجن میں امریکی اسٹرٹیجک مفادات کو تقویت پہنچنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ بنگلہ دیش میں جب بھی فوجی حکومتیں آئیں تو امریکی مفادات کا تحفظ کیا گیا، بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور شیخ حسینہ کی ملک بدری میں فوج کے کردار پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ طلباء کی نیچرل احتجاجی تحریک کو فوج کی مداخلت کے بعد ثبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے کیونکہ طلباء کے پاس مستقبل کا سیاسی پروگرام نہیں ہے ایسے امر میں فرانس میں مقیم ڈاکٹر محمد یونس کو اچانک عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا، مستقبل کی منصوبہ بندی وضع کر رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس نے حکومتی سربراہ کا چارج سنبھالنے سے قبل یہ بیان جاری کیا کہ بنگلہ دیش کو اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔ بنگالی عوام کا مستقبل، مقتدرہ کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے اور ان ہاتھوں سے بنگال کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو جام کیا جائے گا یا اسے پہیے لگائے جائیں گے چند مہینوں میں واضح ہو جائے گا۔ گزشتہ برس مارچ 2023 ء میں شیخ حسینہ نے امریکہ پر سنگین الزامات عائد کیے تھے کہ امریکہ بنگلہ دیش کے داخلی امور میں مداخلت کر رہا ہے اور یہ الزامات اُس وقت عائد کیے گئے جب بنگلہ دیش میں نئے الیکشن قریب تھے، شیخ حسینہ پر امریکی تحفظات سے یوں لگ رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں منصوبہ بندی کے تحت آپریشن رجیم چینج کیا گیا ہے۔

چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور اثر و رسوخ کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں طاقت کی حرکیات میں تبدیلی کا اثر خطے کے تمام ممالک پر آتا ہے۔ واشنگٹن کے نقطہ نظر سے، جنوبی ایشیا، امریکہ چین دشمنی میں مقابلے کا بنیادی یا ثانوی علاقہ نہیں ہے۔ تاہم، بیجنگ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا اور چین کے حریف کو مضبوط کرنے میں نئی ​​دہلی کی مدد کرنا بالآخر واشنگٹن کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں چین بنیادی ہدف ہے اور امریکہ کی انڈو پیسیفک پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران، بنگلہ دیش نے خود کو چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی طاقت کی دشمنی میں بطور اہم کردار متعین کیا ہے۔ بیجنگ اور نئی دہلی دونوں نے ڈھاکہ کو اربوں ڈالر کی امداد اور قرض دینے کا وعدہ کیا، جن میں سے زیادہ تر توجہ بنگلہ دیش میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مرکوز ہے۔ اور ریاست معاشی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اپنے اختیارات کو متنوع بنانے کے لیے زبردست طاقت کے مقابلے کا فائدہ اٹھانے کی صلاحیت پیدا کر چکی تھی۔ بنگلہ دیش نے چین کے ساتھ تزویراتی تعلقات کے لیے ہاتھ بڑھایا اور ڈھاکہ نے 2016 ء میں بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ پر دستخط کیے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور 24 ارب ڈالرز کے 27 معاہدات پر دستخط کیے جس سے بنگلہ دیش میں چینی سرمایہ کاری کی کل رقم 38 ارب ڈالر ہو گئی جو کہ بنگلہ دیش کی سالانہ جی ڈی پی کے تقریباً 10 فیصد کے برابر ہے۔ مزید برآں، چین واحد ملک ہے جس کے ساتھ بنگلہ دیش کا دفاعی تعاون کا معاہدہ ہے، اور بیجنگ ڈھاکہ کو ہتھیاروں کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بھی ہے۔

نئی دہلی نے ڈھاکہ کو چین کے 24 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکج کا براہ راست جواب دیا۔ بھارت نے 2017 ء میں بنگلہ دیش کو 5 ارب ڈالر کی لائن آف کریڈٹ فراہم کی، جو کسی بھی ملک کو بھارت کی طرف سے پیش کردہ اب تک کی سب سے بڑی کریڈٹ لائن ہے۔ یہ کریڈٹ ”ڈھاکا کو چین سے دور کرنے“ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تعمیر کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈھاکہ کے بیجنگ کو قبول کرنے کے خدشات نے نئی دہلی کو ڈھاکہ کے ساتھ 2015 ء میں اپنے علاقائی تنازع کو حل کرنے پر مجبور کیا۔ مجموعی طور پر ، ہندوستان نے بنگلہ دیش کو تقریباً 8 ارب ڈالر کی لائن آف کریڈٹ فراہم کی ہے۔ اگرچہ اس کا زیادہ تر حصہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے سے منسلک ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان طاقت کا مقابلہ سونادیا میں مجوزہ چینی بندرگاہ کے معاہدے میں بھی ظاہر ہوا، جہاں چین کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش سے بندرگاہ کی تعمیر کے لیے لابنگ کر رہا تھا۔ 2016 ء میں بھارت، جاپان اور امریکہ نے شیخ حسینہ پر چینی منصوبے کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور اس کی جگہ سونادیا کے قریب ماتربڑی میں جاپانی بندرگاہ کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ منسوخی کی بظاہر وجہ امریکہ، بھارت اور جاپان کی طرف سے لابنگ تھی، جنہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ بندرگاہ چین کو بحر ہند میں ابھرتی ہوئی سمندری دشمنی میں فائدہ دے گی۔

بیجنگ نے ڈھاکہ پر دباؤ ڈالنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جب اسے لگتا ہے کہ اس کے مفادات خطرے میں ہیں۔ بیجنگ نے ڈھاکہ کو خبردار کیا کہ وہ جاپان، بھارت، آسٹریلیا اور امریکہ پر مشتمل کواڈ میں شامل ہونے سے گریز کرے (حالانکہ ڈھاکہ کو اس میں شامل ہونے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی تھی۔ ) بنگلہ دیش میں چین کے سفیر لی جیمنگ نے مبینہ طور پر کہا کہ بنگلہ دیش کے لیے چار ممالک کے اس چھوٹے کلب (کواڈ) میں شرکت کرنا اچھا فیصلہ نہیں ہو گا کیونکہ اس سے ہمارے باہمی تعلقات کو کافی نقصان پہنچے گا۔

جنوری 2023 ء میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ سطحی امریکی دوروں اور چین کے مخصوص ردعمل کے تناظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ سات جنوری کو ، قومی سلامتی کونسل میں جنوبی ایشیا کے لیے سینئر ڈائریکٹر ایلین لاوباکر چار روزہ دورے پر بنگلہ دیش پہنچیں، جہاں انہوں نے وزیر خارجہ سمیت بنگلہ دیش کے سینئر حکام سے ملاقات کی۔ ان کے بعد جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو بھی آئے جنہوں نے بارہ سے پندرہ جنوری تک بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ دس جنوری کی صبح سویرے چین کے وزیر خارجہ کن گینگ ڈھاکہ پہنچے جس کو چینی وزارت خارجہ نے ”ٹیکنیکل اسٹاپ“ کہا جہاں انہوں نے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

ایک سال بعد ، جنوری 2024 ء میں جب شیخ حسینہ نے الیکشن جیتا تو امریکا و برطانیہ نے ان انتخابات کو غیر قانونی، غیر جمہوری قرار دے کر مسترد کر دیا جبکہ چین اور روس نے شیخ حسینہ کو الیکشن جیتنے پر مبارک باد دی۔ 2021 ء میں، بائیڈن انتظامیہ نے بنگلہ دیش کو جمہوریت کے سربراہی اجلاس میں مدعو نہیں کیا۔ دسمبر 2021 ء میں بھی، امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ریپڈ ایکشن بٹالین (بنگلہ دیش کی ایلیٹ پیرا ملٹری فورس) پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکا کی انڈو پیسیفک پالیسی میں بنگلہ دیش کو اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ چین کا خطے میں اثر و رسوخ مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ شیخ حسینہ کی اقتدار سے جبری بے دخلی سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں فی الحال شیخ حسینہ کی گنجائش نہیں ہے، عین ممکن ہے کہ طلباء کے قتل عام کا عدالتی مقدمہ چلا کر شیخ حسینہ کا انجام ذوالفقار علی بھٹو جیسا کر دیا جائے۔

Facebook Comments HS