زبانوں میں بٹا ہوا آدمی
ہمارا مستقبل انگریزی سیکھنے میں ہے۔ اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو عالمی زبان کو اپنانا پڑے گا۔
وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جہاں تعلیم کا آغاز مادری زبان میں نا ہوتا ہے۔ ہمیں اسکولوں میں مادری زبان کو رائج کرنا چاہیے۔
اردو ہماری قوی زبان ہے، اردو کے بغیر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ ہمارا مستقبل اردو کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔
شہر اقتدار میں ہفتہ وار عشائیے کے بعد گرما گرم بحث جاری تھی۔ محفل میں سرکاری افسر، معیشت دان، ماہرین قانون اور پروفیسر حضرات تعلیم، نصاب اور زبان کو لے کر دلائل پر دلائل دے رہے تھے۔ بات مگر کسی نتیجے تک نہیں پہنچ رہی تھی حتی کہ دلائل نے طعنہ زنی کی شکل اختیار کر لی۔ ایک دوسرے کو فرنگی دیسی جماعتی وغیرہ جیسے الزام بھی دیے جانے لگے۔ ویسے تو کسی بھی بحث میں مجھے روکنا مشکل ہوتا ہے مگر اس دن میری طرف سے کوئی رائے نا آنے پر آخر کار یار لوگ اپنی لڑائی کو چھوڑ کر متوجہ ہوئے۔
کیوں جی زبانوں کی جنگ میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟
کہیں بھی نہیں
کیا مطلب؟
بس کہیں بھی نہیں۔ زبانوں میں بٹا ہوا آدمی کہیں بھی نہیں ہے اور ہر جگہ ہے بھی۔
یہ زبانوں میں بٹے ہوئے آدمی کی کہانی ہے۔
ہوش سنبھالنے کے کانوں میں صرف پنجابی ہی سنائی دی۔ کھیتی باڑی سے ملازمت کی طرف کوشاں خاندان دیہی ریت رواج سے باہر آنے کے لیے انگڑائیاں تو لے رہا تھا مگر راستے اور سمت دونوں دور تھے۔ پنجابی دعائیں، پنجابی بولیاں، پنجابی گالیاں اور پنجابی گیت، اسی ترتیب کے ساتھ کانوں میں پڑے۔ گاؤں کی مسجد کے کانپتے اسپیکر سے آج سک متراں دی سے شروع ہونے والا کلام کانپتی آواز سے کانوں سے اترتا اور ”کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں“ کی گردان کے ساتھ ختم ہوتا مگر صاحب کلام کی جرات اور عقیدت کا اثر دیر تک رہتا۔ جب آسمان پر بادل بنتے تو سب بچے گلیوں میں بھاگ بھاگ کر راگ الاپتے، کالیاں اٹاں کالے روڑ مینہ وسا دے زور و رور۔ ماں اور نانی رات کو لحافوں میں سلاتے وقت لوری نما گیت سناتیں، الھڑ بلھڑ باوے دا، باوا کنک لیاوے گا، باوی بہہ کہ چھٹے گی، سو روپیہ وٹے گی۔
گاؤں کے ڈیرے پر پیشہ ور پڑھنے والے اپنی پاٹ دار آواز میں منظوم کہانیاں سناتے۔ ان کہانیوں میں کہیں لوک داستانوں ہیر رانجھا مرزا صاحبان کا تذکرہ ہوتا اور کبھی گزرے وقتوں کے ہیروز کا تذکرہ ہوتا۔ ابھی کھلاڑیوں اور فلمی اداکاروں کا پتہ نہیں تھا اس لیے صرف ڈاکوؤں پر گزارا تھا۔ ان قصوں کے کردار کچھ فرضی اور کہیں جرائم پیشہ اور رابن ہڈ کے درمیان پائے جاتے تھے۔ جگے ماریا لائل پور ڈاکا تے تاراں کھڑکھ گیاں سب سے مقبول کہانی تھی۔
بہت دیر بعد پتہ چلا کہ تاروں سے ٹیلی گراف مراد ہے۔ رات کو دور نہر پار فصلوں میں چلتے ٹریکٹر پر لگی ٹیپ کی دور تک آواز آتی۔ سانوں نہر والے پل تے بلا کے ہر روز بجتا۔ کبھی کسی گیت میں تھاں مرنے کا ذکر ہوتا اور کبھی ونجھلی کی آواز سن کے قربان ہونے کی تمنا۔ مشہور تھا کہ ٹریکٹر کی ٹیپ صرف دور سے سننے والوں کے لیے ہوتی ہے اور ٹریکٹر چلاتا کسان خود نہیں سن سکتا۔ اس تمثیل سے کئی لطیفے بھی گھڑے گئے تھے۔
شادی کی رسموں میں لڑکیاں ڈھولک پہ چمچ بجا بجا کر کسی گواچے لونگ کا ذکر کرتیں۔ مجھے بہت دیر بعد پتہ چلا کہ چیرے والا جس کی ذمہ داری گواچے لونگ کو ڈھونڈنا تھا، کا مطلب بالوں کی مانگ درمیان سے نکالنے والا تھا۔ آج کل کے معنی میں فیشن ایبل سمجھ لیجیے۔ مہندی کا اختتام مہندی تاں سجدی جے نچے مندے دی۔ وغیرہ پر ہوتا جس پر ماسیاں پھوپھیاں شرما شرما کر اٹھتیں اور دوپٹے کو پلو میں دبا کر پھر بیٹھ جاتیں۔ اگر خواتین میں سدا بہار نور جہاں کا جادو چلتا تھا تو دیہاتی نوجوانوں کا راک سٹار عالم لوہار کو سمجھ لیجیے۔
ماموں کی بارات پر گاؤں میں رات بھر چمٹا بجا کر رنگ جمانے والے لوہار کا ذکر برسوں لوگوں کی زبانوں پر رہا۔ وے میں نیل کرائیاں نیلکاں میرا تن من نیل و میل لڑکوں کا ترانہ تھا۔ مجھے آج بھی نیل کرائیاں نیلکاں کا مطلب نہیں پتہ مگر دوسرا مصرعہ، میں سودے کیتے دلاں دے تے رکھ لئے نین وکیل ابھی بھی لبوں پر آ جاتا ہے۔ نوجوان اگر لوک گیتوں کے زوردار اور جذباتی آہنگ کے مداح تھے تو بزرگ میاں محمد بخش کی دانائی اور حکمت کے دلدادہ۔ دشمن مرے تے خوشی نا کرئیو سجناں وی مر جانا، تو اب محاورہ بن چکا ہے۔ اگلے دن شہر اقتدار میں ایک دیہاتی پس منظر کے بادشاہ گر کو میاں محمد بخش کا نیچاں دی آشنائی کولوں فیض کسے نہیں پایا کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا، یاد کرایا تو برا مان گئے۔
پنجابی اپنائیت اور بے تکلفی کی زبان ہے۔ گاؤں میں بہت عرصے تک عزیزوں اور ہمسائیوں کے اصل نام سننے کو نا ملے۔ اکثر تو نام کا آخری حرف کاٹ کر الف یا واؤ کا اضافہ کر کے بنے۔ آصف آصو ہو گیا اور ارشاد شادا۔ پھر کچھ نام بیچ سے بھی بگڑے جیسے جیدا اور اچھو وغیرہ۔ کچھ گھر والے خود ہی مناسب سا بگاڑ لیتے کہ اوروں کو موقع کیوں ملے۔ منا، ننھا اور ببو وغیرہ بچپن کی یادگار کے طور پر ساتھ رہتے۔ اگر کبھی نام لینا پڑ ہی جائے تو صرف زبر ہی مروجہ تھی۔
ناصر، آصف، زاہد، باسط آج بھی صرف زبر سے ادا ہوتے ہیں اور یار لوگوں کو مذاق کا موقع ملتا ہے۔ اگلے دن ایک نستعلیق ہمسفر نے ٹرک کی پشت پر رقم ”فخرے قصور“ کی طرف اشارہ کر کے تبصرہ کیا، بھئی زیر اضافت آپ لوگوں تک نہیں پہنچی۔ زیر اضافت کیا ہم تک تو ابھی تک زیر ہی نہیں پہنچی، ویسے بھی پنجابی میں کچھ اضافی نہیں جو ہے مکمل ہے، ہم نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ گاؤں سے شہر آنے کے بعد بہت عرصے تک ہم پر بگڑے نام لینے پر پابندی تھی۔ یہ بھی تاثر تھا کہ بگڑے نام پنجابیوں کے احساس کمتری اور ایک دوسرے کے لیے تحقیر کی علامت ہیں۔ برسوں بعد کراچی میں نیا ناظم آباد اور انچولی میں آمد و رفت رہی۔ بہت پڑھے لکھے اور معتبر لوگوں کو ذاتی محفلوں میں ببن بھائی، اچھے میاں اور نچھی باجی پکارے جاتے سن کر گاؤں کی اپنایت کی بہت یاد آئی۔
گاؤں میں بے تکلفی صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ جانوروں تک پھیلا ہوا تھا۔ جانور لفظ بھی شہر آ کر سنا ورنہ گائے، بھینسیں، ، گھوڑے، بکریاں اثاثہ سمجھے جاتے۔ اسے لیے ان کے لیے لفظ مال استعمال ہوتا۔ جس کا مال بڑا ہوتا اس کی شان و شوکت ہی علیحدہ ہوتی۔ سب کے اپنے نام تھے۔ میری پسندیدہ بھینس کا نام منو رکھا گیا۔ منو گویا بھینسوں کی مس ورلڈ تھی، اپنی چال ڈھال اور چمکتی رنگت سے سب کی مرکز نگاہ۔
منو کا مقابلہ بھوری نامی گائے سے تھا۔ یہ نام بھی رنگت کی وجہ سے پڑا۔ گھر کے مال یا جانوروں سے گفتگو عام تھی۔ میں نے یہ منظر اکثر دیکھا کہ رکھوالے کے ڈانٹنے پر اڑیل بھینس خود آ کر کھونٹے کے پاس پہنچ گئی۔ ماموں سٹیل کی بالٹی گھٹنوں میں پھنسا کر دودھ دوہتے تو جلترنگ کی سی آواز آتی، ساتھ ساتھ بھینس سے گفتگو بھی کرتے جاتے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ منو سے دوستی ہو جائے۔ اس خوشی کا احساس آج بھی تازہ ہے جب میری ہدایت پر منو نے رستہ بدلا اور میرے پیچھے چل پڑی۔
مال کی خوراک کا خاص انتظام صرف چارے تک محدود نہیں۔ اکثر ان کے لیے پیتل کی چھوٹی کھرلی میں کئی اجزا کو ملا کر گتاوہ بنایا جاتا۔ بیماری میں دوا دی جاتی۔ دوا کھلانے کے لیے سٹیل کی لمبی نال استعمال ہوتی۔ ایک دفعہ منو بھینس کی بیماری کے دوران اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں جگمگاتے آنسو میں نے خود دیکھے۔ ماں اور نانی کو ڈبڈباتی آواز میں جا کر بتایا مگر انہوں نے یقین نہیں کیا۔ کٹوں اور بچھڑوں سے ہماری خاص دوستی تھی۔ ان کی ولادت کے ساتھ ہی دودھ کا ذائقہ بھی بدل جاتا۔ ایسے دودھ کو بؤلی کہا جاتا۔ اگرچہ املا سے تلفظ کا احاطہ نہیں ہو سکے گا۔ گڑ کے ساتھ ابلی ہوئی بؤلی کا مزہ آج بھی زبان پر ہے۔ بچھڑے کی آمد کے ساتھ دودھ میں حصہ داری شروع ہو جاتی اور یہ مقابلہ دودھ دوھنے کے وقت خوب شدت سے سامنے آتا۔ میں نے ایک دفعہ اڑیل بچھڑے کو اوئے ہٹ کہہ دیا۔ پاس کام کرتے چاچے جیرے نے فوراً تصحیح کی، پتر چھوٹوں کو اوئے نہیں کہتے، بد تمیزی ہوتی ہے۔
پنجابی میں اچھائی برائی کا میزان چنگا اور مندا کے بیچ میں تھا۔ زبان اور اخلاقیات کا ویسے بھی گہرا رشتہ ہے۔ انگریزی لفظ رائٹ اردو کے صحیح کا قریب قریب متبادل ہے۔ رائٹ لفظ کی آمد کے ساتھ ہی سننے والے کے ذہن میں دنیا دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ جو چیز رائٹ ہے وہ رانگ نہیں ہو سکتی۔ اخلاقیات نظریات میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اس لیے سب سے مشکل کام بھی کسی کے صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح ثابت کرنا۔ صحیح کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور غلط کو دور دھکیلنا پڑتا ہے۔
اسی طرح انگریزی والا گڈ اور اردو والا اچھا سب سے مستعمل الفاظ ہیں۔ پنجابی کا ”چنگا“ لفظ بس حافظے میں فطری طور پر پیوست ہے۔ تعریف میں کسی کو کہنا کہ چنگا منڈا ہے۔ کسی ناگوار بات پر کہ چنگی گل نئی۔ کلاسیکی روایت کے جدید شاعر شیو کمار بٹالوی نے بھی کہا، چنگا ہندا سوال نا کر دا مینوں تیرا جواب لے بیٹھا۔ بعد میں فلموں میں زوردار مکالمہ بھی سنا، چنگا نہیں کردے جے۔ مجھے پنجابی میں انگریزی والے رائٹ اور اردو کے صحیح کا متبادل یاد نہیں۔ اب صحیح سہی کے طور پر اور غلط گلت کی شکل میں سنائی دیتا ہے مگر بظاہر یہ اردو سے ہی درآمد ہیں۔ شاید پنجابی میں ایسی لسانی اور نظریاتی سختی نہیں تھی جو بعد شہر اور بیرون ملک جا کر دیکھی۔ اور شاید اسی لیے گاؤں میں ایک دوسرے کے لیے برداشت زیادہ تھی۔
کئی زبانوں سے آشنائی رہی ہے مگر کسی اپنے کو پکارنے کے لیے وے اور نی سے زیادہ پراثر طرز تخاطب نہیں سنا۔ بعد میں کہیں پڑھا کہ پنجابی کے دو لہجے ہیں، ہوک اور کوک۔ وے میں نیل کرائیاں نیلکاں ہوک کی مثال ہے اور وے اک تیرا پیار مینوں ملیا کوک۔ وے اور نی کے اندر بھی درجن بھر شیڈ تھے جو نانی ہم بچوں پر استعمال کرتیں۔ غصہ، پیار، حیرت، خواہش، تاسف، افسوس، حسرت، پریشانی، مایوسی، سوال، ؛ سب موقعے کے مناسبت سے دو حرفوں میں سما جاتے۔
نانی سے گفتگو میں نازک مقام مروجہ پنجابی (اصل میں بکرمی ) مہینوں کے ذکر پر آتا۔ ہم بقول ان کے ہاڑی سؤنی یعنی ہاڑ اور ساون کے مہینوں میں گاؤں آتے۔ ہم جواب میں جون جولائی بتاتے رہ جاتے۔ اسو کتے کو پہلے ہم کچھ بیماری وغیرہ سمجھتے رہے جو دو علیحدہ مہینوں کے نام نکلے۔ گاؤں میں اشیائے خورد و نوش کی ایکسپائری پیکٹ سے نہیں مہینوں سے گنی جاتی۔ ہر مہینے کا اپنا پھل اور سبزی تھی۔ اسی حساب سے پوہ سے پہلے رضائیوں کا دھوپ لگتی جیٹھ شروع ہوتے چاول مینیو میں شامل ہو جاتے۔
گھڑی کے بغیر وقت کا پتہ چلتا۔ صبح الارم کے ساتھ نہیں میاں دی بانگ کے ساتھ اٹھتے پھر پیشی، ڈیگر اور کفتاں کے وقت سونا۔ کفتاں کو میں کوفتہ کہتا، سب ہنستے۔ شہر آنے کے بعد جب نانی سے ملنے کو جاتے تو واپسی پر ماتھا چوم کر کہتیں رب دسپرد۔ اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی کہ دسپرد کیا لفظ ہے۔ بہت دیر بعد پتہ چلا کہ اصل میں رب دے سپرد تھا۔ نانی اسی دہائیوں پر محیط بھر پور زندگی کے بعد عازم اجل ہوئیں تو میں کراچی میں تھا۔ جب تک پہنچا وہ سپرد خاک ہو چکی تھیں۔ وہ قبرستان کو قبرگستان کہتی تھیں۔ وہیں ان کے لیے پہلی اور آخری دفعہ زبان سے نکلا، رب دسپرد۔
اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔
جاری ہے


