سوغات


احمد سلیم سلیمی صاحب کی چوتھی سوغات ”کھڑکی بھر چاند“ مجھ تک پہنچی ہے۔ آج شتیال، منیکال، گیال، شمشال، سمال اور جوٹیال کا چاند پرتگال میں اترا ہے۔ وطن سے کوسوں دور دیار غیر میں وطن کے حقیقی باسی، راقم کا پسندیدہ اور عظیم قلمکار کی تخلیق کردہ شاہکار ناول کا ملنا بھی خداوند کی طرف سے انعام ہے۔

میں ”کھڑکی بھر چاند“ کو پڑھے بنا یقین سے کہہ سے سکتا ہوں کہ اس ناول کو پڑھنے کے لئے دیا گیا وقت دہشت آرزو اور شکست آرزو کی طرح مری زندگی کے یادگار لمحات میں شمار ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم وطن ظاہری پلاٹس (زمین کے ٹکڑوں ) کی حصول کے لئے تگ و دو میں مصروف ہیں اور زمانے کی بھول بھلیوں میں گم علاقائی روایات کو روندتے ہوئے بے سمت منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ مگر اس قحط الرجال میں ایک ایسا دیوانہ بھی ہیں جو ان رویوں کو اپنی کہانیوں کے پلاٹس میں پرو رہا ہے۔

سلیمی صاحب میرے پسندیدہ قلمکار ہیں۔ اسی طرح جس طرح لیو ٹالسٹائی، فیودر دوستوئیفسکی، انتون چیخوف، الیگزیندر پوشکن، میکسم گورکی، گوگول، موسپاں، گویٹے، خلیل جبران، پاولو کوہلو۔ پسند ہیں۔ میں دو عشروں سے آپ کو پڑھ رہا ہوں۔ آپ کی کتابوں اور میگزینوں میں شائع ہونے والا تمام مواد پہلی فرصت میں پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریریں نہ صرف علاقائی، ثقافتی، معاشی اور سماجی رویوں کے آئینہ دار ہیں بلکہ ان میں محبت، درد، خوشی اور زندگی کے تمام رنگ بھرپور انداز میں ملتے ہیں۔

آپ کی لکھنے کی صلاحیت اور انداز بیان ایسا ہے کہ ہر لفظ دل میں اتر جاتا ہے۔ ہر کہانی میں نیا موضوع اور نئے خیالات کا سمندر ہوتا ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ آپ کے کردار، کہانیاں اور بیان کا انداز منفرد اور دلکش ہوتا ہے جو قاری کو بار بار آپ کی کتابوں کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ ہر نئی کہانی کا انتظار دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتا ہے اور جب وہ ہاتھ میں آتی ہے، تو اسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اب زمانہ بدل گیا ہے۔ انسان کی سب سے نزدیک شے موبائل نے ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی گرام، ٹیلی ویژن، اخبار، ٹارچ، کیلکولیٹر، سی ڈی، ٹیب ریکارڈر، کیسٹ، کیمرہ، تصویر وغیرہ کی طرح کتاب کو بھی نگل لیا ہے۔ اب ایک کلک پر موبائل سکرین پر پی ڈی ایف کتاب مل جاتی ہے۔ مگر کتاب کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ موبائل اور ڈیجیٹل دور نے اگرچہ مطالعے کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، مگر کاغذ کی خوشبو، کتاب کے صفحات پلٹنے کا احساس، اور مطالعے کا ذاتی تجربہ آج بھی بے مثال ہے۔ کتاب کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے میں ایک خاص طرح کی قربت اور دلکشی محسوس ہوتی ہے جو ڈیجیٹل اسکرین پر ممکن نہیں۔ یہ تجربہ نہ صرف ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے بلکہ ایک یادگار اور جذباتی رابطے کا ذریعہ بھی ہے جو کہ ڈیجیٹل دور میں کھو سا گیا ہے۔

سانسوں کی روانی برقرار رہی تو ”کھڑکی بھر چاند“ پڑھنے کے بعد کتاب پر تجزیہ لکھنے کی جسارت کروں گا۔ سلیمی صاحب اپ سلامت شاد رہیں، آباد رہیں اور آپ کا قملی سفر برق رفتاری سے جاری و ساری رہیں۔ آمین

Facebook Comments HS