تین بٹا پانچ انسان


ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں سیاہ فام باشندوں کی غلامی معیشت کا ایک اہم ستون تھی۔ یہ سیاہ فام انسان افریقہ سے اغوا کر کے بحری جہازوں کے ذریعے امریکہ اور دنیا کے کئی اور ممالک میں پہنچائے جاتے تھے جہاں ان کو فروخت کیا جاتا تھا۔ امریکی سفید نسل کے لوگ ان کو انسان سمجھنے کے بجائے ایک جائیداد سمجھتے تھے۔ ان کو انتہائی برے حالات میں رکھا جاتا تھا، اور کھیتوں اور دوسری کئی صنعتوں میں ان سے بے پناہ کام لیا جاتا تھا۔ ذرا ذرا سی غلطی یا گستاخی پہ ان کو کوڑے مارے جاتے، درختوں سے لٹکایا جاتا، کتوں سے کٹوایا جاتا، اور کئی اور گھناؤنے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ ان کی خرید و فروخت جانور یا بے جان شے کی طرح ہوتی تھی۔ اکّا دکّا بھلے مانس مالک اپنے کسی غلام کی خدمت اور وفاداری سے خوش ہو کر اس کو آزاد بھی کر دیتے تھے۔

امریکہ کی شمالی ریاستوں نے آہستہ آہستہ غلامی کے خلاف قوانین بنائے اور انسانوں کی خرید و فروخت کی تجارت کو ختم کر دیا، البتّہ معاشرے میں ان کے ساتھ سخت نسلی امتیاز برتا جاتا اور ان کو ہر قدم پہ ذلّت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن امریکہ کی جنوبی ریاستوں نے غلاموں کی تجارت اور انسانوں کی غلامی کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن ہتھکنڈوں کو استعمال کیا، حتّیٰ کہ غلامی ختم کرنے کے وفاقی قانون پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وفاق اور جنوبی ریاستوں کے درمیان زبردست خانہ جنگی (اپریل 1861 مئی 1865 ) ہوئی اور بے انتہا خونریزی کے بعد جنوبی ریاستوں کو شکست ہو گئی، اور اس طرح 1865 میں پورے امریکہ میں غلامی کے خلاف قانون نافذ ہو گیا۔

یہ مضمون اس معاہدے کے بارے میں ہے جب جنوبی ریاستوں میں انسانوں کی غلامی کی قانونی اجازت تھی۔ یہ معاہدہ تین بٹا پانچ 5 / 3 سمجھوتہ کہلاتا ہے۔

تین کا پانچواں حصّہ سمجھوتہ ایک معاہدہ تھا جو 1787 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئینی کنونشن کے دوران کسی ریاست کی کل آبادی میں غلاموں کی تعداد کو شامل کرنے پر ہوا تھا۔ اس مردم شماری کے فارمولے سے ان باتوں کا تعین کیا جاتا تھا :

وفاقی ایوان نمائندگان میں ہر ریاست کی نشستوں کی تعداد مختص کرنے کے لئے کس طرح ریاست کی آبادی کو گنا جائے۔

ہر ریاست ٹیکس کی مد میں وفاق کو کتنی رقم ادا کرے۔

غلام رکھنے والی ریاستیں چاہتی تھیں کہ ان کی غلاموں سمیت پوری آبادی کی گنتی کی جائے تاکہ وہ ریاستیں زیادہ نمائندوں کو منتخب کر کے وفاقی کانگریس کو بھیج سکیں۔ شمالی ریاستیں جنوبی ریاستوں میں غلاموں کی آبادی کی گنتی کو خارج کرنا چاہتی تھیں، کیونکہ ان غلاموں کے پاس ووٹنگ کا کوئی حق نہیں تھا، اور اس طرح جنوبی ریاستوں کو ایوانِ نمائندگان میں کم نشستیں ملتیں۔ اس تعطل کو حل کرنے کے لئے ایک سمجھوتہ کیا گیا تھا۔ اس سمجھوتے میں ایوان نمائندگان کی نشستوں کو ریاستوں میں تقسیم کرنے کے مقصد سے ہر ریاست کی غلام آبادی کا تین بٹا پانچواں حصّہ اس ریاست کی کل آبادی کی گنتی کے لئے شمار کیا گیا۔ آزاد سیاہ فام اور معاہدہ شدہ نوکر اس سمجھوتے کے تابع نہیں تھے، اور ان کو نمائندگی کے لئے ایک مکمل شخص کے طور پر شمار کیا گیا تھا۔

black slaves during a break at noon

اس معاہدے کے تحت مردم شماری کے لئے ایک غلام کو تین بٹا پانچ یعنی ایک غلام کو ایک مکمل انسان سمجھنے کے بجائے محض صفر اعشاریہ چھے انسان کے برابر گنا جاتا تھا۔ غلاموں کے لئے یہ جزوی انسانی مرتبہ صرف مردم شماری ہی کی حد تک تھا۔ ان کو تمام انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا، بلکہ ان کا درجہ جانوروں سے بھی بدتر تھا۔ جانوروں کو تو اذّیت ناک سزائیں نہیں دی جاتیں تھیں لیکن غلاموں کو ذرا ذرا سی غلطی پہ مثلاً فصل چننے کا کوٹہ نہ پورا کرنے پر ، پڑھنا لکھنا سیکھنے پہ، یا ان میں آزادی کی جستجو کی چنگاری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔

یہ فارمولا جنوبی ریاستوں میں انسانوں کی آبادی کو گننے کے لئے لاگو رہا تا وقتیکہ 1865 میں وفاقی حکومت نے غلامی اور غلاموں کی تجارت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس قانونی آزادی کے بعد بھی سیاہ فام باشندوں سے سخت نسلی امتیاز برتا جاتا تھا۔ ایک طویل جدوجہد اور تشدّد کے بعد 1964 میں نسلی امتیاز کے عمل کو جرم قرار دیا گیا۔ ان سب قوانین کے باوجود آج بھی سیاہ فام باشندوں کی بڑی آبادی پس ماندہ علاقوں میں رہتی ہے جہاں پر اسکولوں کی حالت ابتر ہے اور روزگار کے مواقع بھی محدود ہیں۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.